-،-احساسِ مروت کی موت پرہمارامرثیہ-صادق رضامصبایحی ،ممبئ-،-

sad

صادق رضامصبایحی
اقبال نے کہاتھا–ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت–احساسِ مروت کوکچل دیتے ہ یں آلات
اگرہم ا س شعرکا حقیقی مصداق دیکھناچاہتے ہیںتوہم میں سے ہرایک کوآئینے کے سامنے کھڑے ہوجاناچاہیے ،آئینے میں جوچہرہ اور جو پیکر منعکس ہوگا وہ یقیناًاس شعرکے حقیقی مصداق تک پہنچادے گا ۔آئینے کی مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم میں سے بیشترلوگ کم ازکم دوچہروں کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیںاورایسالگتاہے کہ ہم میں سے تقریباًسبھی کااحساسِ مروت کچلاجاچکاہے۔ہمیں دوسروں کی قدر وقیمت کاذرہ برابربھی احساس نہیں ،ہاں ہمارا یہ احساس اس وقت فزوں ہو جاتا ہے جب کسی سے ہمارا تعلق مادی ہوتاہے اوراس مادی تعلق کاجال مکڑی کے جالے کی طرح ہمیں ایک دوسرے سے باندھے رکھتا ہے ۔اگرہمیں کسی سے کوئی فائدہ نہیں،کوئی مطلب نہیں،کوئی کام نہیں ،کوئی لالچ نہیں توپھرہمارے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ وہ شخص کتنالائق وفائق اوردوسروں کے لیے کتنا کار آمد ہے۔وہ زمانہ تاریخ کے دوش پر سوار ہو کربہت دورجا چکاجب کسی بےاصولی ،جھوٹے ، مکار، فریبی اوربرے شخص کی سماج میں کوئی عزت نہ تھی ،ہرکوئی اس سے کتراتا تھا اوردوسروں کواس سے بچنے کی تلقین بھی کرتاتھا ۔ اس بات کی قطعاًپروا نہیں کی جاتی تھی کہ یہ فریبی شخص کس قدر دولت منداورصاحبِ مسندواقتدارہے۔گئے زمانے میں اصول وضابطے جسم میں پھیلی شریانوں کی طرح ہمارے فکری واخلاقی وجودمیں پھیلے ہوتے تھے اورہمیں خون پہنچاتے رہتے تھےمگراب یہ رگیں کاٹی جاچکی ہیںاورخون کی فراہمی بندہوچکی ہےاس لیے ہماراپورافکری و اخلاقی وجودہی بے جان اورمردہ ہو چکا ہے۔اب شایدوبایدہی ہم میںکوئی ایسا ہوجوہم سے اصولی اور اخلاقی بنیادوں پرترکِ تعلق کرتا ہو یہی وجہ ہے کہ ہمیں براکام کرنے میں ذرہ برابربھی نہیں جھجک محسوس نہیں ہوتی کیوں کہ ہمیںمعلوم ہے کہ اب کوئی واعظ وناصح باقی نہیں رہا اور اگر کوئی واعظ و ناصح ہے بھی توہمیں اس کے دامن پربھی داغ دھبے نظرآتے ہیں۔ گویاآج ہم ایک ایسے حمام میں کھڑے ہیں جس میں ہم سب ننگے ہیں۔آپ سب میرے ساتھ اس بات کی عینی شہادت دیں گے کہ آج چاپلوسوں کازمانہ ہے ، اصولی لوگوں کانہیں۔آپ کتنے ہی اچھے انسان ہوں ،پڑھے لکھے ہوں،صاحبِ اَقدارہوں،روایات کے امین ہو ں او ر معاشرے کے جوہرہوں مگرآپ کی تمام صلاحیتیں اس وقت تک کنارے پڑی سڑتی رہتی ہیں جب تک کہ آپ کے اندرایک اورہنرنہ ہواوروہ ہنرہے چاپلوسی کا،جھوٹی تعریف کا،موقع پرستی کا،منافقت کا ۔ سر پیٹ لینے کوجی چاہتاہے کہ ہم بڑی خوب صورتی سے اپنے ان سارے عیبوں کومصلحت کوشی کے لفافے میں پیش کرتے ہیں۔ اگرآپ کے اندریہ ہنرہے توپھرسمجھیے یہ مذکورہ ساری صلاحیتیوں پربھاری ہے اور آپ ایسی حقیقی خوبیوں والے افرادپرغالب ہی رہیں گے ۔کتنے ایسے لوگ میری نگاہ میں ہیں جودوسروں کاکام محض اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ان سے کام پڑتارہتاہے یاانہیں ان سے کسی فائدے کی توقع ہوتی ہے ۔اگران کے پاس کوئی حقیقی ضرورت مندانسان کسی ضرورت یامددکےلیے چلاجائے تویہ لوگ اکثرمعذرت کرلیتے ہیں اوراگرکام کربھی دیںتوپھراحسان جتلاکرشرمندہ کرناان کامعمول ہے۔ جب کہ دوسری طرف اپنے مفاداورمطلب کے لوگوں کویہ کہہ کرفائدہ پہنچاتے ہیںکہ دراصل وہی لوگ ان کے صحیح معنوں م یںبڑےمخلص اور عزیز ہیں۔ ایسااس لیے ہورہاہے کہ یہ دورمادی دورہے ،مشینی دورہے ، سائنسی دور ہے ۔اس مشینی اور سائنسی دورنے ہر انسان کواتناجلدبازبنادیاہے کہ اسے صرف اورصرف دنیا نظر آرہی ہے ،اسے آخرت نظرنہیں آرہی ،وہ جلدازجلدفائدہ حاصل کرناچاہتاہے اور معاشرے میں اپنا مقام  بنانے کے لیے ہاتھ پیرمارتاہے ۔اس کے لیے وہ ہرحربہ آزماتاہے ۔ یہی وجہ ہے اب ہم میں انسانیت نہیں رہی ،ہم میں احساسِ مروت نہیں رہا۔مشینوں کی حکومت اورمادیت کے بوجھ تلے ہمارا احساس،انسانیت ،مروت ،محبت سب کچھ کچلا جارہاہے ،سب کی موت واقع ہورہی ہے مگرہمیں ان کی مو ت پررتی بھربھی افسوس نہیں ہے کیوں کہ ہمیں اپنی اقدار،روایات اورورثے کی اہمیت کااندازہ نہیں اور جسے کسی چیزکی اہمیت کااندازہ ہی نہ ہواسے اس چیز کی طرف متوجہ کرنابھیس کے آگے بین بجاناہے لہٰذایہ سطوران عناصرکی موت پربطورپرسہ یابطورمرثیہ لکھی جارہی ہیں،اصلاح کے لیے نہیںکیوں کہ اصلاح کی طرف سے ہم نے اپنے سارے دروازے بندکررکھے ہیں،اب ہم موت کی دستک پرہی یہ دروازہ کھولیں گے ۔