۔،۔ شاہد خاقان عباسی45دن کے لئے وزیر اعظم آف پاکستان منتخب ( پہلو ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
کراچی میں پیدا ہونے والے ضلع راولپنڈی کے باسی شاہد خان عباسی ؂ آج قومی اسمبلی کے44ویں اجلاس میں پاکستان کے26ویں وزیر اعظم منتخب ہو گئے وزیر اعظم کی اس دوڑ میں عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد ،پی پی پی کے نوید قمر اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ شامل تھے،اس انتخابی عمل کے لئے ممبران کو لابیوںA,B,C,Dمیں بھیجا گیا جہاں ا ن کی گنتی ہوئی 221 ووٹ لے کر پاکستانی وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہو گئے، ان کے والد خاقان عباسی پاکستان ائیر فورس میں ائیر کموڈور تھے،ملازمت کے بعد انہوں نے سیاست میں حصہ لیا اور جنرل ضیا ء الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر پیداواررہے راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے دھماکوں کے نتیجہ میں اسلام آباد میں وہ زخمی ہونے کے بعد چل بسے اس واقعہ میں 100افراد سے زائد کی ہلاکت ہوئی تھی،شاہد خاقان عباسی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے مری کے لارنس کالج سے حاصل کی ،واشنگٹن یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینرنگ کی ڈگری حاصل کی ،امریکہ اور سعودی عرب میں کئی سال انرجی اور پٹرولیم انڈسٹری سے وابستہ رہے ،پہلی مرتبہ 1988میں انہوں نے حلقہ NA150سے بطور آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی،اب تک6مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہے صرف ایک بار2003 پی پی پی کے امیداوار سے شکست کھائی اسی سال انہوں نے ۔ائیر بلیو ۔کی بنیاد رکھی ،پارلیمانی سیکرٹری دفاع اور چیر مین سٹینڈنگ کمیٹی دفاع کے عہدے پر کام کیا،نواز شریف کے دوسرے دور میں انہیں چیر مین پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائین بنایا گیا،مشرف دور میں نواز شریف کا ساتھ دینے پر دو سال جیل میں بھی رہے یہ بات بھی بہت عجب ہے کہ شاہد خاقان عباسی 2008کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی (پی پی پی )کی حکومت میں دو ماہ وفاقی وزیر تجارت رہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پر قطر سے ایل این جی ٹھیکہ اور اینگرو کو پورٹ قاسم پر بغیر ٹینڈر ٹھیکہ دینے کے الزامات ہیں جن میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ،اتوار کے روز اظہار تشکر کے سلسلہ میں منعقدہ جلسہ کے دوران عمران خان کی جانب سے آصف علی زرداری کو للکارنے سے اپوزیشن میں اتحاد برقرار نہ رہ سکا جس کا براہ راست فائدہ حکومتی پارٹی نے خوب اٹھایا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ امیدوار الانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہونے کے سبب عبوری وزیر اعظم کے انتخاب کا عمل یک طرفہ ہو گیا تھا ،پی پی پی کی ایوان میں 47نشستیں ہیں ،ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستارنے پارلیمنٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کی حمایت کا اعلان کر دیا ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں 24نشستیں ہیں این پی اے نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا،اس سے پہلے پاکستان میں مجموعی طور پر 25وزیر اعظم،4گورنر جنرل اور15صدر اقتدار میں آچکے ہیں ،وزراء اعظم نواز شریف تین اورمحترمہ بے نظیردو دفعہ جبکہ صدور میں وسیم سجاد (نگران صدر) واحد شخصیت ہیں جو اس ملک کے دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں ،پہلے گورنر جنرل بانی پاکستان قائد اعظم ،وزیر اعظم لیاقت علی خان اور صدر سکندر مرزا تھے،اس بات ذرہ شبہ نہیں کہ سوائے قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد مجموعی طور پر بااثر شخصیات کے ہاتھوں اس ملک کی باگ دوڑ آئی یہی بنیادی وجہ تھی کہ وہ عوام کی اصل حالت،ان کی بنیادی ضروریات اور مسائل سے نابلد تھے،پہلے وزیر اعظم جنہیں قائد ملت لیاقت علی خان بیرون ملک تعلیم کے حامل انڈین گورنمنٹ میں وزیر خزانہ تھے ،ان کے والد نواب رستم علی ،رکن الدولہ ،شمشیر جنگ اور نواب بہادر کے القاب سے جانے جاتے تھے،ان کی جاگیر میں3سوگاؤں شامل تھے،16اکتوبر1951کو راولپنڈی کے کمپنی باغ(لیاقت باغ)میں اکبر نامی شخص نے انہیں گولی مار شہید کر دیا۔خواجہ ناظم الدین۔قائد اعظم کے بعد غلام محمد کو گورنر جنرل بنا کر خودوزیر اعظم بن گئے خواجہ ناظم الدین کے خاندان کا رقبہ2لاکھ ایکڑ تھا،، محمد علی بوگرہ اور بعد میں چوہدری محمد علی کو سکندر مرزا(میر جعفر کے پڑپوتے) نے وزیر اعظم نامزد کر دیا،انہوں نے پاکستان کا پہلا آئین بنایا جو1956میں نافذ ہوا،،ابراہیم اسماعیل چندریگر،فیروز خان نون ایوب خان صرف4دن،وزیر اعظم نورالامین جو7دسمبرسے 20دسمبر1971تک(صرف13دن)وزیر اعظم کے عہدے پر رہے اور یہ پہلے وزیر اعظم تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش)سے تھا ، ذوالفقار علی بھٹو تھے جو برطانیہ سے تعلیم یافتہ ہونے کے بعد سیاست میں آئے ایوب خان کے دور میں کئی محکموں کے وفاقی رہے،انہوں نے14اگست1973کو نئے آئین کے تحت حلف اٹھایا،آئین پاکستان آئین کی وراثت،ایٹمی طاقت کے معمار اور پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے جنہیں یحییٰ خان نے1971میں عنان حکومت سونپ دی تھی وہ دسمبر1971تا 13اگست1973تک صدر مملکت بھی رہے،پاکستان میں ملٹری مارشل لاء کے بعدسول مارشل لاء لگانے والوں کی فہرست میں ان کا نام بھی ہے،بھٹو نے ہی قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا تھا ،5جولائی کو جنرل ضیا ء الحق نے مارشل لاء نافذ کر دیااسی سال ستمبر میں نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں ان کی گرفتاری ہوئے اور؂؂4اپریل1979کو پنڈی میں انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا،محمد خان جونیجو1985کے غیر جماعتی انتخابات میں منتخب ہو کر اس عہدے تک پہنچے ضیا ء الحق نے 8ویں ترمیم کے تحت ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا،عجب اتفاق کہ اس سندھی وزیر اعظم سے پہلے پاب اور بعد میں بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں،۔محترمہ بے نظیر بھٹوانتہائی تعلیم یافتہ اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم جن کی حکومت کو تقریباً دو سال بعد صدر غلام اسحاق خان نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت ختم کر دیا،نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی بنے۔میاں محمد نواز شریف20اکتوبر1990کے عام انتخابات میں وزیر اعظم کے طور پر پاکستانی سیاستدان کا ایک یقینی حصہ ہوگئے،ان کے اقتصادی اور ترقیاتی اقدامات پر انہیں بے پناہ عوامی پذیرائی حاصل کی ،اڑھائی سال بعد صدر مملکت غلام اسحاق خان کے اس کی حکومت کو بر طرف کر دیا، اسی موقع پر آرمی چیف وحید کاکڑ کی مداخلت پر اسحاق خان کو بھی گھر جانا پڑا،بلخ شیر مزاری نگران وزیر اعظم پھر غلام اسحاق کی کال پر امریکی شہری معین الدین قریشی کو اس اہم عہدے پر 3ماہ کے لئے بٹھا دیا گیا،بے نظیر بھٹو،19اکتوبر1993کو دوسری مر تبہ اقتدار میں آئیں تین سال بعد سردار فاروق احمد لغاری نے کرپشن الزامات کے تحت ان کی حکومت کو بر طرف کر دیا، معرج خالد نگران وزیر اعظم بنائے گئے،میاں نواز شریف دوسری بار وزیر اعظم بنے تو ایٹمی دھماکے کئے،نواز شریف نے آرمی چیف پرویز مشرف کو تنہا کرتنہااور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی کوشش پر اقتدار سے باہر ہوئے، ، ظفراللہ جمالی کو مشرف دور میں انتخابات2002کے بعدوزیر اعظم بنایا گیا،مشرف ان کی پر فارمنس سے مطمئن نہ ہوئے جس پر جمالی نے استعفیٰ دیدیا۔چوہدری شجاعت حسین کو خاقان عباسی طرح وزیر اعظم بنایا گیا پھرشوکت عزیز 20اگست2004سے15نومبر2007تک وزیر اعظم رہے،اس سے قبل14مئی2006میں بے نظیر کی لندن میں نواز شریف ملاقات میں میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے،اکتوبر2007میں بے نظیر بھٹو نے امریکی امداد پر مشرف سے مل کر مالی بد عنوانی کے تمام مقدمات ختم کرائے،27دسمبر2007کو لیاقت باغ پنڈی میں عوام سے خطاب کے بعد فائرنگ سے انہیں شہید کر دیا گیا ،راولپنڈی میں ہی باپ بیٹی سمیت3 وزرائے اعظم کا قتل ہوا۔یوسف رضا گیلانی 25مارچ 2008میں وزیر اعظم بنے جنہیں19جون2012کو چیف جسٹس نے انہیں توہین عدالت کیس میں نااہل کر دیا،ان کے بعدراجہ پرویز اشرف وفاقی وزیر بجلی و پانی کو وزیر اعظم بنایا گیا،میر ہزار خان کھوسو نگران وزیر اعظم بنے۔عام انتخابات2013 کے بعد نواز شریف نے ریکارڈ تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا حلف اٹھایا،ان کے عرصہ اقتدار میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا نواز شریف سمیت11افرادکے خلاف مقدمہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت پر درج ہوا،انقلابی مارچ اور دھرنے ہوئے مگر کچھ نہ ہوا بالآخر ۔پانامہ پیپرز۔ معاملہ سامنے آگیا طویل تفتیش،سماعت کے بعد 28جولائی2017کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف کو نا اہل کر دیا،اب نیب شریف خاندان کے کئی افراد کے خلاف ریفرنس داخل کرنے جا رہا ہے ،ان کے بعد میاں شہباز شریف آئیں گے ان کے لئے لاہور کا حلقہ120جبکہ وہ اوکاڑہ شہر کی نشست ایم این اے ریاض الحق جج کی جگہ بھی الیکشن کا ارادہ رکھتے ہیں، بہر حال کوئی شک نہیں کہ سفر بہت کٹھن ہے ۔