۔،۔ہم نے اپنے لہو سے جو داستانیں رقم کیں۔،۔
بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے فرزندان توحید کی آپ بیتیاں
وجاہت بتول –
1947ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمان مردوں ،عورتوں اور بچوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ۔یہ درد ناک کہانیاں اخبارات و جرائد کے علاوہ کتابوں میں بھی محفوظ ہیں ۔ان میں سے چند ایک قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں:قیام پاکستان کے اعلان کے فورا بعد شمالی ہندوستان کے طول و عرض میں ہندومسلم فساد پھوٹ پڑے۔ انسانی اور اخلاقی قدریں محض قصہ ماضی بن کر رہ گئیں۔ سالہا سال سے اکٹھے رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ ان حالات میں میرے والد نے گاں کے دوسرے لوگوں سے مشورے کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، لیکن ہندوں اور سکھوں کو یہ بات بھی گوارا نہ تھی اور عین ہماری روانگی کے وقت آس پاس کے گاں سے مسلح جتھے وہاں پہنچ گئے اور چشم زدن میں تمام مردوں کو تہِ تیغ کردیا۔ نوجوان لڑکیوں کو ان کی ماں کے سامنے اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایاگیا۔ آج بھی جب میں ان دلخراش منظر کوچشم تصور سے دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ ابن آدم ذلت کی ان گہرائیوں تک بھی جاسکتاہے۔ میرا معصوم بھائی باقی بچوں کی طرح ڈرا سا کھڑا تھا ۔ جب اس نے چند حیوانوں کو میری طرف بڑھتے دیکھا جن پر میری منت سماجت کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھا تو بھاگ کر میرے سامنے آگیا اور مجھے اپنی پناہ میں لے لیا۔ تبھی ایک منحنی سے ہندو نے اپنی کلہاڑی کا زوردار وار اس معصوم کی گردن پر کیا جس سے اس کا سر تن سے جداہو کر دور جاپڑا۔ اس پر اس ظالم نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا اگر مجھے معلوم ہوتاکہ تمہاری گردن اتنی کمزور ہے تو اپنی کلہاڑی تمہارے گندے خون سے بھرشٹ (ناپاک) نہ کرتا۔ اب مجھے اپنی کلہاڑی گنگاجل سے دھو کر پوتر (پاک)کرنی پڑے گی یہ کہہ کر وہ بھی شیطانی کھیل میں شامل ہوگیا۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹ کر گرا۔ تمام بوڑھی عورتوں کو قتل کرنے کے بعد سب لڑکیوں کو وہ ایک حویلی میں لے گئے اور سب قطار بناکر کھڑے ہوگئے اور باری باری اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت فراہم کرتے گئے۔ نئے آنے والے قطار کے آخر میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہوجاتے۔ اس عمل میں، میں زندہ بچ جانے والی چند خوش نصیب یا بدنصیبوں میں بھی شامل تھی۔ اس کے بعد میں ایک کے ہاتھوں سے دوسرے تک پہنچتی رہی۔ آخر سوہن سنگھ نے مجھے اپنے گھر ڈال لیا اور شادی بھی کرلی۔ سات سال بعد سوہن سنگھ سورگباش ہوگیا تو اس کے چھوٹے بھائی مہندر نے مجھ سے شادی کرلی۔(بحوالہ:1947 کے مظالم کی کہانی خود مظلوموں کی زبانی۔ از حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی۔)
اب میرے اپنے سابق ضلع ہوشیار پور کی ایک کہانی بھی شن لیجیے:ہوشیار پور کی وہ رات بے حد طویل تھی ۔ چوک سراجاں پر حملے کی دوسری رات۔۔۔حملہ آوروں کی تعداد میں اضافہ ہورہاتھا۔ پہلے روز پچاس نوجوان شہید ہوئے۔ دوسرے روز ساٹھ، شام ہونے سے پہلے دوچار ایسے دلدوز واقعات ہوئے کہ مسلمانوں کی عزیمت اور جوش میں زبردست اضافہ ہوا۔ بزرگ اور نوعمر بھی میدان میں اترنے لگے۔ عصر کے وقت سے دست بدست لڑائی ہورہی تھی۔ ایک مسلمان نوجوان گرا، خون کے فوارے نکل رہے تھے۔ اس نوجوان کا گھر لڑائی کے میدا ن کے بالکل سامنے تھا۔گھر کا ایک چھوٹا بچہ یہ منظر دیکھ رہاتھا۔ خواتین کو ہوش نہ رہا اور بچہ ابا ابا کہتے ہوئے دروازے سے نکل کر ہندوں اور سکھوں کی طرف بھاگا۔ سکھوں نے بچے کو پکڑ لیا اور چلا چلا کر اعلان کیا، دیکھو ہم آج مسلے کے بچے کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ مسلمان دم بخود تھے کہ یہ بچہ وہاں کیسے پہنچ گیا۔ سکھوں نے بچے کو اوپر اچھالا اور نیچے سے نیزے پر اسے لے لیا۔ بچے کی چیخ اس قدر دلدوز تھی کہ آسمان تک لرز اٹھا۔ ا س نے تڑپ تڑپ کر وہیں جان دے دی۔ (بحوالہ: اردوڈائجسٹ 2016)
ایک کانوائے کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آنے والے ایک نوجوان نے دورانِ راہ جوکچھ دیکھا وہ اس طرح بیان کرتاہے : راستے میں اِکا دکا مسلمان عورتیں ملتی گئیں ،انہیں بھی ساتھ لیتے آئے۔ سکھوں اور ہندوں نے اپنی درندگی کا جی بھر کر مظاہرہ کیا تھا۔ ہوشیارپور سے نکلتے وقت ایک عورت زخمی حالت میں پڑی ملی۔ والد صاحب نے اٹھا یا تو اس کی ٹانگیں اور سینہ کٹے ہوئے تھے۔ ایک مشہور خاندان کی نوجوان خاتون تھی ۔ ابا جی کو معلوم ہواتو ضبط نہ کرسکے ۔ اس خاتون نے صرف اتنا کہا آپ جائیے چاچا جی ،غم نہ کریں !۔اتنا سب کچھ ہوجانے پر پاکستان تو بن گیا۔ مجھے خوشی ہے میں امت کے کسی کام تو آئی۔۔۔۔نہر عبور کرکے ہم سب شدت تاثر سے کانپ رہے تھے کہ ایک طرف سے کراہنے کی آواز آئی۔ ایک بزرگ ڈاکٹر نصیرالدین آگے بڑھے ۔ انہوں نے پوچھا کون ہے؟ نسوانی آواز آئی۔ وہ فورا لپکے ۔ ایک خاتون خون میں لت پت پڑی تھی۔ پانی پلاکر مرہم پٹی کرنے کی کوشش کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا ۔ اس خاتون نے مرتے وقت صرف اتنا کہا شام چوراسی کی جنگ میں میرے والد اور سات بھائی ، چچا اور ان کے چار لڑکے شہید ہوگئے۔ تین بہنیں لڑتے لڑتے اور اپنی عزت بچاتے ہوئے نہر میں ڈوب گئیں ۔ والدہ کو انہوں نے قتل کردیا ۔ میں چھپ گئی ، انہوں نے مجھے ڈھونڈ نکا لا جب قریب آئے تو میں نے چھرے اور ٹوکے سے دو کو زخمی کردیا ۔ انہوں نے جھلا کر میرا یہ حشر کیا ہے ۔آخری سانس لینے سے پہلے اِس مظلوم خاتون نے کہا پاکستان کو میرا سلام پہنچا دیجئے ۔ ۔۔۔جالندھر کے مسلمانوں نے جس بے جگر ی، دردمندی اور زبردست قربانی سے تحریک پاکستان کے لئے کام کیا وہ تاریخ پاکستان کا روشن باب ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے تحریک پاکستان کو تاریخی قربانیوں سے ہمکنار کیا ۔ جالندھر کیمپ کے واقعات بڑے دلدوز تھے ۔ مجھے یاد ہے ایک خاتون آخری دموں پر تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہم لوگ کانوائے پر پاکستان جا رہے ہیں تو اس نے بابا جی کو بلا کر کہا ، یہ میرے زیورات ہیں ۔ خاندان کے سارے مرد شہید ہوچکے ہیں۔ ان زیورات کو قائد اعظم تک پہنچا دیں ۔ شاید پاکستان کے کام آجائیں۔(بحوالہ:اردو ڈائجسٹ اگست 2016)۔)
مشرقی پنجاب میں خون کا جوسیلاب آیا اس کا کچھ اندازہ لندن ٹائمز کے نامہ نگار آین مورسن کی ذاتی مشاہدات پر مبنی ان تین رپورٹوں سے لگایاجاسکتاہے جو اس نے اگست اور ستمبر1947 کو جالندھر اور امرتسرسے اپنے اخبار کو ارسال کی تھیں۔پہلی رپورٹ میں وہ لکھتا ہے سکھ مشرقی پنجاب کو مسلمانوں سے خالی کروانے میں سرگرم ہیں۔ و ہ ہرروز بے دردی سے سینکڑوں افراد کو تہِ تیغ کرتے ہیں اور ہزاروں کو مغرب کی جانب بنوکِ شمشیر بھگادیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے دیہات اور گھر وں کو نذرآتش کررہے ہیں۔ اس ظلم وتشدد کو سکھوں کی اعلی قیادت نے منظم کیا ہے اور یہ خوفناک کام بڑے معین طریقے سے علاقہ بہ علاقہ کیاجارہاہے ۔ دوسری رپورٹ میں لکھتا ہے امرتسر میں 8اگست کے بعد مسلمانوں کے محلوں کے محلے دھڑا دھڑجلناشروع ہوگئے تھے اور لوگ پناہ کے لئے بھاگنا شروع ہوگئے ۔ 13اور 14اگست کو پورا امرتسر شعلوں کی لپیٹ میں آچکاتھا ۔ 15اگست کو امرتسر میں ہندوستان کا یوم آزادی بڑے عجیب طریقے سے منایاگیا۔سہ پہر کو سکھوں کے ایک ہجوم نے برہنہ مسلمان عورتوں کا جلوس امرتسر کے گلی کوچوں میں نکالا۔ ان کی آبروریزی کی اور پھر بعض کو کرپانوں سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور بعض کو زندہ جلادیا۔ تیسری رپورٹ میں وہ مسلمانوں کے ایک بیس میل لمبے قافلے کے بارے میں ایک خبران الفاظ میں بجھواتاہے اس قافلے میں بیس ہزار سے زائد افرا د تھے اور ان میں سے اکثر پید ل ہی پاکستان کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ایسے ہی کئی اور قافلے مشرق سے مغر ب کی طرف رواں دواں تھے۔ آبلہ پا ، تھکان سے چور، بھوکوں کے مارے، سفر کی صعوبتوں سے نڈھال۔ دوماہ بعد وہ لکھتاہے 70لاکھ سے زائد مہاجرین گرتے گراتے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وہ بالکل بے سروسامان تھے۔ ان کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا اور کچھ نہ تھا اور ان کپڑوں کی بھی اکثر دھجیاں اڑی ہوئیں تھیں۔ یہ وہ دردکشانِ بلا تھے جنہوں نے معصوم بچوں کا قتل ،لاشوں کی قطع وبریدی اور عورتوں کی بے حرمتی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی ۔ راستے میں ہر قدم پر موت ان کی گھات میں تھی ۔ ان میں سے ہزاروں بھوک وبیماری سے راستے ہی میں جاں بحق ہوگئے یاسکھوں کے خون آشام جتھوں نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔بہت سے پاکستان کی سرحد پرپہنچتے ہی ابدی نیند سوگئے۔ (بحوالہ :خونِ مسلم ارزاں ہے۔از ڈاکٹر سعید احمد ملک)
پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین کی ٹرینوں پر بھی جابجاحملے ہوتے رہے۔ اکثر ٹرینوں کے سارے کے سارے مسافر فنا کے گھاٹ اتار دیئے جاتے، نوجوان لڑکیاں اغوا کرلی جاتیں اور ان کی زندگیاں موت سے بدتر ہوجاتیں۔ اس ضمن میں بے شمار واقعات میں سے صرف دو کا تذکرہ کیاجاتاہے۔پہلے واقعہ کا راوی گنڈا سنگھ والا ریلوے سٹیشن کا اسسٹنٹ ریلوے ماسٹرخودہے ۔وہ کہتاہے:ایک مہاجر ٹرین فیروز پور کی طرف سے قصور آرہی تھی۔ گنڈا سنگھ والا سٹیشن پہنچ کر رکی ۔ مجید یزدانی صاحب پلیٹ فارم پر اس کا استقبال کررہے تھے۔ گاڑی رکی تو انہوں نے دیکھا کہ سب بوگیا ں خون سے لت پت ہیں اور ڈبوں میں لاشوں کے انبار لگے ہیں۔ یہ منظر اس زمانے کا معمول تھا۔ آگے ایک اور قسم کا منظر آرہا تھا ۔ سب بوگیوں میں جھانکتے ہوئے جب وہ آخری بوگی کے قریب پہنچے تو وہاں بچوں کے رونے پیٹنے اور کراہنے کی درد ناک آوازوں نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔ جھانک کر دیکھا تو ایک روح فرسا منظر ان کے سامنے تھا۔ اس بوگی میں ایک سال سے پانچ سال تک کی عمر کے بے شمار بچوں کی زندہ لاشیں خون میں لت پت کلبلا رہی تھیں ۔ ان بچوں کو ذبح نہیں کیاگیا تھا بلکہ ان کے ہاتھ پاں کاٹ کر زندہ لاشوں کی صورت میں پاکستان کی طرف دھکیل دیاگیا ۔ کیا اس سے زیادہ بہیمیت اور درندگی کی مثال کہیں تاریخ میں مل سکے گی۔ (بحوالہ:جدوجہد آزادی میں پنجاب کا کردار از ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار۔)
دوسرا واقعہ یوں ہے کہ نومبر 1947 کو ایک شام واہگہ ریلوے اسٹیشن پر اہل لاہور کا ایک جم غفیر اس گاڑی کے استقبال کے لئے موجود تھا جو مہاجرین کو لے کر کالکا سے چلی تھی اور براستہ امرتسر پاکستان پہنچ رہی تھی۔ خاصے انتظار کے بعد دھندلائے ہوئے افق پر ایک سیاہ دھبہ منتظر لوگوں کی سمت بڑھتا ہوا نظر آیا۔ یہ ریل کا انجن تھا ۔ خوشی کی ایک لہر ہجوم میں پھیل گئی۔ وہ پانی کے مٹکوں اور کھانے کے طباقوں کا جائزہ لینے لگے جو انہوں نے پاک وطن میں آنے والے مہاجربھائیوں کے لئے تیار کررکھے تھے۔ جوں جوں گاڑی نزدیک آتی گئی لوگوں کاجوش و خروش بڑھتاگیا۔ انہوں نے نعرہ تکبیر ،نعرہ رسالت اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے لیکن گاڑی سے ان کے نعروں کا کوئی جواب نہ آیا۔ گاڑی اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوئی اور ہلکی رفتار سے چلتی پلیٹ فارم پر آرکی، مگر گاڑی کا کوئی دروازہ کھلا نہ اس میں سے کوئی ذی روح برآمد ہوا۔ لوگوں کے دل انجانے اندیشے سے دھڑک اٹھے ۔اور جب انہوں نے کھڑکیوں سے ڈبوں کے اندر جھانکا توان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کرپانوں سے کٹے ہوئے گلے، گولیوں سے چھلنی سینے، جسم سے علیحدہ ہوئے بازو، پھٹے ہوئے پیٹ، ظلم وتشدد کی المناک داستان سنارہے تھے۔ پھر نوجوانوں نے گاڑی کے ڈبے آپس میں تقسیم کرلئے اور خون میں لت پت، کٹی پھٹی اوپر نیچے پڑی لاشوں کو عزت واحترام کے ساتھ آبدیدہ آنکھوں سے ہدیہ عقیدت پیش کرتے اتارنے لگے۔ (بحوالہ: 1947 کے مظالم کی کہانی خود مظلوموں کی زبانی ۔از حکیم محمد طارق محمود چغتائی۔)
لند ن کے اخبار ڈیلی میل کے نمائندہ خصوصی مسٹر رالف نے انہی ایام میں کراچی سے دہلی تک کا سفر کیا۔ اس نے 27اگست 1947کے ڈیلی میل میں لکھا :
میری کہانی صرف وہ لوگ سن سکتے ہیں جو بہت بڑا دل گردہ رکھتے ہوں۔ جب میں کراچی سے براستہ لاہور عازم دہلی ہوا تو کراچی سے لاہور تک راستے میں سفاکی کا کوئی منظر نظر نہ آیا ،اور نہ ہی میں نے کوئی لاش دیکھی۔ لاہور پہنچ کر مشرقی پنجاب میں ہونے والی دہشت وبربریت کے آثار نمایاں نظر آنے لگے کیونکہ اسی دن لاہور میں خون سے لت پت ریل پہنچی تھی، یہ ریل 9ڈبوں پر مشتمل تھی جس پر آسانی سے ایک ہزار مسافر سماسکتے تھے۔ اس ریل کے مسافروں کو بٹھنڈا کے جنکشن پر بے دریغ تہِ تیغ کردیاگیاتھا۔ ہماری گاڑی اتوار کی صبح دہلی کے لئے روانہ ہوئی ۔پاکستان کی سرحد عبور کرنے کے بعد جابجا ایسے مناظر بکھرے پڑے تھے جولاہور کی لٹی پٹی ٹرین سے کہیں زیادہ ہولنا ک اور دہلادینے والے تھے۔ گدھ ہرگاؤں کے قریب سے گزرنے والی ریلوے کی پٹری پر اکٹھے ہورہے تھے، کتے انسانی لاشوں کو بھنبھوڑ رہے تھے اور فیروز پور کے مکانات سے ابھی تک شعلے اٹھ رہے تھے۔ جب ہماری ریل بٹھنڈا پہنچی تو مجھے ریل سے ذرا فاصلے پر انسانی لاشوں کا ایک ڈھیر نظر آیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کے دو سپاہی وہاں مزید لاشوں سے لدی بیل گاڑی لائے جو لاشوں کے ڈھیر پر ڈال دی گئی۔ ا س ڈھیر پر ایک زندہ انسان کراہ رہا تھا ۔ سپاہیوں نے اسے دیکھا لیکن وہ اپنی لائی ہوئی لاشیں ڈھیر پر پھینک کر سسکتے اور کراہتے انسان کو وہیں چھوڑ کر چلتے بنے۔ وہ مزید لکھتاہے : فیرو زپور سے ہجرت کرتے ہوئے ایک لٹاپِٹا قافلہ جب ایک جگہ سستانے کیلئے رکا تو اچانک سکھوں نے حملہ کردیا۔ ایک عورت کی گود میں پانچ چھ ماہ کا بچہ تھا۔ ایک وحشی درندے نے وہ بچہ ماں کی گود سے چھین کر ہوا میں اچھالا اور پھر اس کی کرپان ننھے معصوم کے سینے میں ترازو ہوگئی اور اس کا پاکیزہ خون اس وحشی درندے کے کراہت آمیز چہرے پر ٹپ ٹپ گرنے لگا۔ بچے کے تڑپتے جسم کو ماں کے سامنے لہراکر درندے نے کہالو! یہ ہے تمہارا پاکستان۔ جب ماں نے اپنے جگر گوشے کو نوکِ سناپہ سجے دیکھا تو اس کا دل بھی دھڑکنا بھول گیا۔ ڈیلی میل کایہ نمائندہ خصوصی آگے چل کر لکھتا ہے : بٹھنڈاسٹیشن پر ہم نے جو آخری نظارہ دیکھا وہ انتہائی کریہہ ، گھنانا اور انسانیت سوز تھا۔ جونہی ہماری ٹرین چلی، ہم نے دیکھا کہ چار سکھ چھ مسلمان لڑکیوں کو انتہائی بے دردی سے زدوکوب کرتے ہوئے ان کی سرعام عصمت دری کررہے ہیں۔ دولڑکیوں کوتو انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے ذبح بھی کرڈالا۔(بحوالہ: خون مسلم ارزاں ہے۔ از ڈاکٹر سعید احمد ملک)
امرتسر کی صورتِ حال بھی باقی جگہوں سے کچھ مختلف نہ تھی ۔ ہر طرف قتل وغارت ، آتش زنی اور لوٹ مارکا بازار گرم تھا۔ 15اگست کی صبح نو بجے کے قریب تقریبا پانچ سو بلوائیوں نے ہندو،سکھ پولیس اور فوج کے ساتھ مل کر کوچہ رنگریزاں پر حملہ کردیا اور اس کے تمام مسلمان باسیوں کو تہِ تیغ کردیا ۔ دوسرے دن جب ایک مجسٹریٹ کے ساتھ اس محلے کا معائنہ کیا گیا تو گلی کوچوں میں لاشوں کے سوا کچھ نہ تھا ۔ مکانوں کے اندر جھانکا تو وہ بھی لاشوں سے اٹے پڑے تھے۔ ایک مسجد کے اندر نظر ڈالی تو وہا ں بھی متعدد لاشیں نظر آئیں مگر وہ سب نوجوان لڑکیوں کی لاشیں تھیں ۔ امتِ مسلمہ کی ناموس کی 46برہنہ لاشیں ۔ ان کے گلے کٹے ہوئے تھے۔ ان کی حالت بتارہی تھی کہ ذبح کرنے سے پہلے ان کی عصمت دری کی گئی تھی۔ دیہات سے آنے والے لوگوں نے بتایا کہ کپورتھلہ اور پٹیالہ کے ریاستی فوجی موٹر گاڑیاں لے کر آتے اور ہماری نوجوان لڑکیوں کو زبردستی اٹھا کرلے جاتے ۔ کچھ عورتیں جان بچاکر دروازہ مہان سنگھ سے شریف پورہ کی طرف آرہی تھیں۔ انہیں بلوائیوں اور ہندوسکھ فوجیوں نے دن دیہاڑے سڑک پر سے اٹھا لیا ۔ کوئی نہیں جانتا کہ امتِ مسلمہ کی ان بیٹیوں کا کیابنا۔اسی طرح3ستمبر 1947 تک دہلی کے نواحی دیہات میں بھی فساد ات شروع ہوچکے تھے اور جلد ہی دہلی شہر بھی ان کی لپیٹ میں آگیا ۔ یعنی اب دہلی میں بھی مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوچکاتھا ۔ گلی گلی ، محلے محلے مسلمانوں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آتیں۔ 5ستمبر کو قرول باغ میں امتحانی ہال کے باہر ان تمام مسلمان بچوں کو قتل کردیا گیا جو میٹرک کا امتحان دینے آئے تھے ۔ ہر طرف مسلمان قتل کئے جارہے تھے، سامان لوٹا جارہاتھا اور مکان جلائے جارہے تھے۔ سبزی منڈی کے علاقے میں ولبھ بھائی پٹیل کے اشارے پر گورکھا فوج نے تین ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک عینی شاہدنے بتایا کہ 9ستمبر تک دہلی کے واٹر ورکس اور فیروز شاہ کوٹلہ کے درمیان کم از کم دس ہزار لاشوں کا ڈھیر لگ چکا تھا جو ٹرکوں میں بھر بھر کر وہاں لائی گئیں تھیں۔ شام کو سات بجے ان تمام لاشوں کو پٹرول ڈال کر جلادیاگیا۔ اس جلتے ہوئے انسانی جسموں کے الا کی روشنی دور تک دیکھی جاسکتی تھی ۔ چار اور چودہ ستمبر کے درمیان بیس سے پچیس ہزار تک مسلمان مارے جاچکے تھے۔ ایک مسلمان جو جان بچا کر پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ، وہ اپنا چشم دید واقع بیان کرتے ہوئے کہتاہے کہ ایک جگہ اس نے دیکھا کہ ہندو بلوائی ایک ڈھیر کے گرد خوشی سے ناچ رہے تھے ۔ کیا ہم سوچ سکتے ہیں کہ یہ ڈھیر کس چیز کا تھا ؟ یہ مسلمان عورتوں کے جسموں سے کاٹے ہوئے پستانوں کا ڈھیر تھا ۔ (بحوالہ : خونِ مسلم ارزاں ہے ۔از ڈاکٹر سعید احمد ملک)