-،-پیپلز لبریشن آرمی آف چائنا ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا 90یوم تاسیس اندرونی منگولیا میں انتہائی جوش و جذبے اور شاندارطریقے سے منایاجس میں چینی صدر ۔شی چن پنگ۔فوجی وردی پہن کر شامل ہوئے چین نے اس موقع پر بھر پور طاقت کا مظاہرہ کیا چینی صدر جو پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں نے کہا۔دراندازی کرنے والی قوتوں سے نمٹنے کے لئے چین پوری طرح تیار ہے دنیا میں بد امنی پھیلی ہوئی ہے اور امن کے لئے دنیا کو چین کی ضرورت ہے وہ چین کا عظیم قوم کا خواب پورا کر کے دکھائیں گے،اس پریڈ میں 12ہزار فوجیوں،700سے زائد ٹینک،توپیں ، فوجی گاڑیاں ا ور دوسرے ہتھیار پیش کئے گئے اس پریڈ میں100سے زائد جہازوں نے حصہ لیا،چینی وزارت دفاع کے مطابق ان میں بیشتر وہ ہتھیار تھے جو کبھی منظر عام پر نہیں لائے گئے چین کی یہ سب سے بڑی اور بیجنگ سے ہٹ کر چین کے شمالی صوبے ۔اندرونی منگولیا۔میں منعقد کی گئی پہلی فوجی پریڈ تھی جس میں جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش خاص طور پر میزائلوں کی کاکردگی کا مظاہرہ کیا گیا،جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائلوں کے علاوہ وہ میزائل بھی شامل تھے جنہیں ٹرک پر لے جا کر کسی بھی دوسری جگہ سے داغا جا سکتا تھا،یہ یوم تاسیس چینی کارکنوں اور کسانوں کی ۔ریڈآرمی۔اور نان چنگ بغاوت کو یاد رکھنے کے طور پر منایا جاتا ہے جس کی بنیاد یکم اگست1927 میں رکھی گئی تھی،لبریشن آرمی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے جس میں 22لاکھ85ہزار اہلکار شامل ہیں جو کل ملکی آبادی کا 0.18فیصد ہیں،اس کی سنٹرل کمانڈ سنٹرل ملٹری کمیشن جو کیمونسٹ پارٹی جنرل سیکرٹری جبکہ منسٹری آف ڈیفنس اسٹیٹ کے ماتحت ہوتی ہے سیاسی اور ملٹری قیادت مل کر پی ایل اے کو ایک پیشہ ور فوجی قوت بنانے کی ٹھوس کوشش ہے،فوجی کمیشن کا مشن ،حکمران کیمونسٹ پارٹی کی حکمرانی کو مستحکم کرنا،فوجی ترقی جاری رکھنے کے لئے خود مختاری ،علاقائی سا لمیت ،ملکی سلامتی و معیشت کی تعمیرکو یقینی بنانا،چین کے قومی مفادات کا تحفظ کرنا،دنیا کے امن کو برقرا رکھنے میں مدد فراہم کرنااور ہنگامی ریلیف میں کردار کا تصور ہے،،فوجی یونٹس ملک بھر کے پانچ تھیٹروں اور20سے زائد فوجی اضلاع میں تفویض کی جاتی ہے،لازمی فوجی سروس کا قانون ہے ملکی آبادی کے تناسب سکی وجہ سے نافذ نہیں کیا گیا،ایمرجنسی کے زمانے میں مسلح پولیس اور پیپلز لبریشن ریزرو ملیشیا حمایتی عناصر کے طور پر PLAکے لئے کام کرتے ہیں ،چین میں فوج کی ہر جگہ رسائی کے لئے ریلوے اور سڑکیں جیسی چیزیں تیزی سے بنائی جا تی ہیں ان میں سے بعض ایسی قابل رسائی پہاڑی مقامات پر بھی بنائی گئی ہیں جہاں فوج کے سوا کوئی نہیں جا سکتا،چین کو سول وار ،جاپان کے خلاف جنگ ،دوسری جنگ عظیم کا حصہ بننے سمیت اب تک24جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، لبریشن آرمی کے چیر مین شی چنگ پنگ،وائس چیر مین اور کمانڈر ملٹری کمیشن فین چنگ لانگ اور ائیر فورس جنرل سمیت 9ممبران جن میں منسٹر آف نیشنل ڈیفنس ،چیف آف جوائنٹ سٹاف،ڈائریکٹر آف پولیٹیکل ورکس ڈیپارٹمنٹ،ڈائریکٹر آف ایکوئپمنٹ ڈیپارٹمنٹ،کمانڈر آف پیپلز لبریشن آرمی گراؤنڈ فورس،ڈائریکٹر آف پی ایل اے نیوی،کمانڈر آف پی ایل اے ائیر فورس اور کمانڈر آف پی ایل اے راکٹ فورس شامل ہیں ، ،2016میں چینی فوج کے لئے نئی ریفارم عمل میں لائی گئیں جن میں جوائنٹ سٹاف ڈیپارٹمنٹ،لاجسٹک سورس ڈپارٹمنٹ، اسلحہ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ،پولیٹیکل ورک ڈیپارٹمنٹ،ٹریننگ اینڈ اینڈ منسٹریشن ڈیپارٹمنٹ،ڈسپلن انسپکش کمیشن،پولیٹیکس اینڈ لیگل افیرز کمیشن،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن،آفس آف دی اسٹریٹیجک پلاننگ، آفس آف دی ریفارم اینڈ آگنائزیشن سٹریٹیجک ،آفس آف دی ملٹری کوآپریشن،آڈٹ آفس اور ریجنسی فار آفسزایڈمنسٹریشن شامل ہیں ،اس کی گراؤنڈ فورس دنیا کی سب سے بڑی فورس ہے 2لاکھ55ہزارافسران و اہلکاروں پر مشتمل بہترین نیوی ہے ،10ہزار میرینCrops،26ہزار نیول ائیر فورس ،25ہزار نیول کوسٹل فورسزاور اب بلیو واٹر نیوی کے مزید بہتر بنانے کے ساتھ نیوی کے پاس سینکڑوں کرور میزائل موجود ہیں،ائیر فورس 4لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں کمانڈ فورس،24ائیر ڈویژن،راکٹ فورس(جس کے پاس نیو کلیر میزائل سسٹم موجود ہے)،بلیسٹک میزائل ڈویژن شامل ہیں ، 2016میں چینی فوج کو 5تھیٹر کمانڈ میں منقسم کر دیا گیا جن میں ایسٹرن تھیٹر کمانڈ،ویسٹرن تھیٹر کمانڈ،ناردن تھیٹر کمانڈ ،سدرن تھیٹر کمانڈ اور سنٹرل تھیٹر کمانڈ شامل ہیں ،دو ہزار سال قبل یہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی ،کئی نشیب و فراز کے بعد 2014میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گئی، جنوبی افریقہ کے ساتھ اس کی سب سے زیادہ تجارت ہے جبکہ روس چین سے 61فیصد ہتھیار خریدتا ہے،چائنز ۔پیس پروگرام ۔کے مطابق وہ2020تک خلا میں دنیا کا سب سے بڑا خلائی اسٹیشن مکمل کر لے گا، بڑے ہتھیار برآمد کرنے والوں میں چین کا اس وقت تیسرا نمبر ہے،چین کی طرف سے 2010اور2014کے درمیان 35اہم ممالک کو 68فیصد اسلحہ برآمد کرنے کا آغاز ہوا،اندورونی منگولیا جہاں یہ آرمی لبریشن کی پریڈ منعقد ہوئی بیجنگ سے ہوائی سفر کے مطابق407کلومیٹر دور ہے جس کی سرحد منگولیا اور روس سے ملتی ہیں اس بہت بڑی ریاست کا رقبہ 12لاکھ مربع کلومیٹر جو چین کے کل رقبہ کا 12فیصد ہے کے دارلحکومت کا نام۔ ہوہوٹ۔ہے اس علاقہ میں سب سے زیادہ ۔پان چینی ۔رہتے ہیں جو اندرونی منگول کا92فیصد ،تائیوان کی آبادی کا98فیصد،سنگا پور میں 76اور ملائشیا میں 25فیصد ہیں ،جنوبی ایشیا کا یہ قبیلہ دنیا کا سب سے بڑا نسلی گروپ ہے،گریٹ ہال آف پیپلز میں چینی صدر نے کہا ۔چین اپنی خود مختاری پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا ہم اپنے خلاف ہونے والے تمام حملوں کا مقابلہ کرنے اور جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ،عظیم چین پاکستان کا عظیم ،قابل فخر دوست ہے ،پاکستان بھی وہ واحد ملک ہے جس نے سب سے پہلے 1950میں چین کی حکومت کو تسلیم کیا اور ساتھ ہی سلامتی کونسل میں اسے مستقل ممبر کی حیثیت دلانے کے لئے بھرپور جدوجہد کی پاکستان اور چین کے درمیان 1963میں پہلا تجارتی سمجھوتہ ہوا اور چین پاکستانی کپاس کا سب سے بڑا خریدار بن گیایہ سال دونوں ممالک کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو آج تک قائم و دائم ہے، 90سالہ لبریشن آرمی کے یوم تاسیس کی تقریب چینی سفارت خانے اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی جس کی میزبانی چینی فوج ،بحریہ اور ائیر ڈیفنس کے اتاشی میجر جنرل چن وینگونگ نے کی مہمان خصوصی آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم تاسیس کا کیک کاٹااور کہا۔چین اور پاکستان اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لئے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں پاک فوج کو چین کے ساتھ دوستی پر فخر ہے اور بلاشبہ پیپلز لبیرشن آرمی کے پیشہ ورانہ معیار کا کوئی ثانی نہیں ،چینی سفیر سن دی ڈونگ نے کہا کہ پاک چین افواج کے درمیان باہمی تعلقات کا ایک ستون ہے، بھارت کے دفاعی تجزیہ کار اہل مہر جی نے چین بھارت کی موجودہ کشیدگی پرکہاکوئی شک نہیں کہ انڈیا نے فوجی طاقت کے معاملہ میں بہت ترقی کی ہے لیکن چین کے مقابلہ میں بھارت کچھ بھی نہیں ،تبت اور اس پورے علاقہ میں چین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جو انڈیا سے100فیصد زیادہ اور بہتر ہے،