۔،۔ گوہرِ نایاب ۔طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال ۔،۔

butt

طارق حسین بٹ شانؔ

۲۸ جو لائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے مقدمہ میں میاں محمد نواز شریف کو وزارتِ عظمی سے نا اہل قرارے دیا جس پر پی ٹی آئی نے یومِ تشکر منایا۔وہ اس فیصلے سے ۲۰۱۸ ؁ کے انتخابات میں اپنی انتخابی فتح کی امید لگائے ہوئے ہے۔اب اس کی امیدین بر آتی ہیں یا اسے مزید انتظار کرنا پڑیگا ابھی واضح ہو کر سامنے نہیں آیا کیونکہ میاں برادران ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔وہ اقامہ،ویزہ اور تنخواہ وصول نہ کرنے کے ایشوکو اپنی بے گناہی کیلئے استعمال کر رہے ہیں ۔ وہ اس فیصلہ کو اپنی شرافت،صالحیت اور شفاف طرزِ حکومت کی دلیل بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ۳۰ سالہ عرصہِ اقتدار میں نا اہلی کیلئے اگر کچھ ملا بھی تو وہ ایک اقامہ جس کا کرپشن سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ۔ میری ذاتی رائے کہ اس فیصلے کے بعد سیاسی مخالفین کا ایک دوسرے کے خلاف نا اہلی کا فیصلہ حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواستوں کا ا ایک نیا سلسہ شروع ہونے والا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ہوگا ۔کیا یہ کہنا زیادہ صحیح نہیں ہے کہ اس کرہِ ارض پر کون ہو گا جو صادق اور امین ہو گا؟حدِ بشریت کے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر انسان روز کتنے سچ اور جھوٹ بولتا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں ہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ صادق اور امین ہونے کے جوہر کو بے آبرو کیا جائے۔یہ ایک صفت ہے اور اس صفت کا ہر انسان کے اندر ہونا ہی انسانیت سے اس کے رشتے کی محکم دلیل ہے۔یہ جو ہر جتنا محکم ہو گا انسان کے مدارج اتنے ہی بلند ہوں گے۔آئین میں ۶۲ اور ۶۲ کا ندراج بھی شائد اسی لئے کیا گیا تھا کہ ممبرانِ پارلیمنٹ اپنے کردار اور اپنے افعال کو شفاف اور قابلِ تقلید بنائیں کیونکہ وہ عوام کے نمائندے ہوتے ہیں اور لوگ ان کو رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ریاست کا کلی اختیار اور اس کے مالی امور ممبرانِ پارلینٹ کی مٹھی میں بندہوتے ہیں لہذا ان کا صادق اور امین ہونا انتہائی ضروری ہوتاہے۔اگر وہ کرپشن میں ملوث ہوں گے تو پورا معاشرہ کرپشن زدہ ہو جائے لیکن اگر وہ دیانت دار،سچے،صالح اور امین ہوں گے تو پورا معاشرہ بھی انہی کے رنگ میں رنگ جائیگا ۔۔سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں ۶۲ اور ۶۳ کا اطلاق جس مبہم اور غیر واضح انداز میں کیا گیا ہے اس نے بے شمار سوالات کھڑے کر دئے ہیں ۔سوال گندم تھا لیکن جواب چنا نکلا۔سوال اٹھا یا گیا تھا کرپشن کا لیکن فیصلہ آیا اقامہ پر۔کیا اقامہ کو بھی آئیندہ کرپشن میں شمار کیا جائیگا ؟ میڈیا کی ترقی اور آزادی نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے۔مختلف ممالک کے انسانوں کا ایک دوسرے سے رابطہ اب انتہائی آسان ہو گیاہے۔جب لوگ موبائل، سکائپ، ویٹسپ یا ایمو پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں ۔ ویڈیو لنک ان سب کے اندر یہی احساس اجاگر کرتا ہے کہ ان کے درمیان دوریوں کا کوئی وجود د نہیں ہے ۔دوسرے ممالک کا اقامہ،ویزہ ،گرین کارڈ اور نیشلینٹی کا سلسلہ اب عام ہے۔کئی ممالک اپنی نیشلنٹی کیلئے اخبارات اور رسائل میں اشتہارات دیتے ہیں کیونکہ انھیں جس طرح کے افراد معاشرے میں چائیے ہوتے ہیں وہ ان کے ہاں دستیاب نہیں ہوتے۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد پورا یورپ اسی لئے تو غیر یورپی اقوا م سے بھر گیا تھا کہ ان کے ہاں افرادی قوت بالکل ناپید ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے معاشرتی ڈھانچے کا قیام،ارتقا اور استحکام بالکل ناپید ہو رہا تھا ۔ امریکی ویزہ لاٹری اور کینیڈا کیلئے امیگریشن کا چرچا سب نے سنا ہو گا۔ لوگوں نے جوق در جوق ان پیشکشوں سے فائڈہ اٹھ یا اور وہ جو وطنِ عزیز میں ناکام ،نکمے اور نکھٹو تصور ہوتے تھے ان ممالک سے اقامہ،شہریت اور گرین کارڈ کے حصول کے بعد کا میاب و کامران انسان بنے۔،۔میاں محمد نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی کیپیٹل ایف زیڈ ای سے اس وقت اقامہ لیا جب وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔جنرل پرویز مشرف نے ان کی آئینی حکومت پر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا۔ان کے گھروں ،ملوں،فیکٹریوں اور جائدادوں کو اپنی تحویل میں لے رکھا تھا۔وطنِ عزیز میں ان کا داخلہ ممنوع تھا۔ان کی قسمت میں جلا وطنی تھی ۔وہ کبھی سعودی عرب میں تھے،کبھی یو اے ای میں تھے اور کبھی برطانیہ میں تھے ۔ان کیلئے یہ اقامہ کسی نعمت سے کم نہیں تھ اکیونکہ اسی کی بدولت وہ یو اے ای میں سکونت اختیار کر سکتے تھے۔یو اے ای میں وہ سیاسی سرگرمیاں بھی کر سکتے تھے کیونکہ یہاں پر پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجو ہے جہاں اپنے ہی کلچر اور ماحول کا احساس ہوتا ہے ۔محترمہ بے نظیر بھٹو پہلے ہی یو اے ای میں جلا وطنی کے دن گزار رہی تھیں لہذا دو سابق وزرائے اعظم کا مسکن یو اے ای ہی قرار پایا تھااور یہاں رہنے کیلئے اقامہ انتہائی ضروری تھا۔اقامہ اس وقت لیا گیا تھا جب میاں محمد نواز شریف نہ تو وزیرِ اعظم تھے اور نہ ہی کوئی دوسرا ریاستی عہدہ ان کے پاس تھا۔ وہ ۲۰۱۳ ؁ میں پاکستان کے وزیرِ اعظم بنے تو یہ اقامہ پھر بھی ان کے پاس تھا اور آئین میں اقامہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے ۔آئین میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ جس کے پاس اقامہ ہو گا وہ نا اہل تصور ہو گا۔سپریم کورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا اقامہ رکھنا اور بیرونِ ملک نوکری کرنا غیر آئینی ہے تو اٹا رنی جنرل کا جواب تھا کہ آئین میں ایسی کوئی قدغن نہیں ہے۔اقامہ اور بیرونِ ملک نوکری کرنا آئینی طور پر جائز ہے لیکن نا پسندیدہ فعل کے زمرے میں آتاہے، بالکل ویسے ہی جیسے طلاق کا معاملہ ہے ۔ہے تو یہ جائز قانون لیکن اسے نا پسندیدہ فعل کہا گیا ہے کیونکہ اس سے دو خاندانوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے ۔اسی لئے صلح صفائی اور افہام و تفہیم کیلئے وفد بنانے کا اصول وضح کیا گیا تا کہ کسی نہ کسی انداز میں مسئلہ سلجھ جائے۔ یو اے ای میں جہاں تک اقامہ کا معاملہ ہے تو وہاں پر اماراتی ویزوں کا کاروبار کرتے ہیں۔بے شمار لوگ اپنے قیام کیلئے ان سے ویزہ خریدتے ہیں ۔ویزہ کے بعد نہ تو نوکری کا کوئی تصور ہوتاہے اور نہ ہی تنخواہ کا کوئی سوال ٹھتا ہے۔متعلقہ شخص کو ویزہ چائیے ہوتا ہے اور وہ اس کیلئے قیمت ادا کرتا ہے۔اس کے بعد اس کا اپنے کفیل سے کوئی تعلق اور لینا دینا نہیں ہوتا ۔ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ اپنے کفیل سے رابطہ میں رہتا ہے تا کہ اگر کوئی قانونی الجھن دامن گیر ہو جائے تو ہ اس سے نجات حاصل کر لے۔،۔
میاں محمد نواز شریف کے معاملے میں کوئی سوال نہیں ا ٹھنا تھا اگر وہ کمپنی ان کے اپنے بیٹے کی نہ ہوتی۔انھیں ویزہ کی ضرورت تھی اور ان کے بیٹے کی کمپنی نے ان کیلئے ویزہ کا بندو بست کر دیاتھا۔یہ ویزہ کئی سال رہا لیکن کوئی سوال نہیں ا ٹھا۔پاناما لیکس کا معاملہ منطظرِ عام پر آیا تو تب بھی سوال نہیں اٹھا لیکن جب معاملہ کی مزید تحقیق کیلئے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی توآخری دنوں میں اقامہ کا معاملہ طشت از بام ہو گیا جس سے میاں محمد نواز شریف کو وزارتِ عظمی سے نکلوا نے کی امید جاگی ۔اپوزیش کو وہ گوہرِ نایاب مل گیا جس کی اسے تلاش تھی۔اقامہ کی شرائط باپ اور بیٹے کے درمیان تھیں اور بہتر ہوتا انھیں باپ اور بیٹے کا مقدس رشتہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا لیکن چونکہ ارادہ میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دینا تھا لہذا اس سے آسان کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا حالانکہ اخلاقی اور قانونی طور پر ایسا کر نامستحسن نہیں تھا ۔ سپریم کورٹ کیلئے ضروری تھا کہ وہ ویزوں کے اجراء اور اس کے رائج طریقہ کار پر اسے مزید انکوائری کیلئے نیب کے پاس بھیج دیتی تا کہ سارے پہلو سامنے آ جاتے اور کسی کو اعتراض کا موقعہ نہ ملتا ۔ہمارے ہاں باپ اور بیٹے میں کبھی حساب نہیں ہوتا لیکن سپریم کورٹ کے ھالیہ فیصلہ میں اسے حساب کے دائرے میں مقید کر دیاگیا ہے۔باپ بیٹے سے کہتا ہے کہ مجھے تنخواہ نہیں چائیے کی لیکن سپریم کورٹ کورٹ کہہتی ہے کہ تنخواہ وصول کرنا تمھار ا قانونی حق ہے ۔تم نے یہ حق استعمال نہیں کیا لہذا اپنا حق وصول نہ کرنے پر تم نا اہل ہو۔ اپنا حق استعمال نہ کرنے پر نا اہل قرار دینا قانون کی دنیا میں بالکل انوکھا واقعہ ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایک دن وہ اقامہ رکھنے اور تنخواہ وصول نہ کرنے کی بنیاد پر وزارتِ عظمی سے نا اہل قرار پا جائیں گے۔شائدیہی وجہ ہے کہ لوگ اس فیصلہ کو سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔،۔