۔،۔جہالت سے جنگ ۔آمنہ عثمان ۔،۔

Amna usman

۔آمنہ عثمان ۔
کچھ دن پہلے میں نے ایک کالم لکھنے کاارادہ کیا ،کئی موضوعات پرلکھناچاہا ،لکھتے وقت دل میں کئی طرح کے وسوسے بھی آئے کہ لوگ کیا رائے دیں گے ،کچھ احباب کا خیال تھا خود نہ لکھو ں بلکہ کسی سے لکھواؤں لیکن دل نہ مانا کیونکہ وہ میری اپنی تحریر نہ ہوتی لہٰذاء ہمت کرکے اپنے خیالات سپردقرطاس کردیا کالم کو بہت احباب نے سراہا کچھ نے تنقید بھی کی لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں جو تنقید سے گھبرا جائیں ۔بلاشبہ میں خود ایک طالبعلم ہوں اورابھی سیکھنے کے مراحل میں ہوں ۔میرے نزدیک یہ ایک انتہائی خوش آئند بات تھی کہ اسے پڑھا گیااوراحباب نے آزادانہ طوپراپنا بے لاگ فیڈ بیک دیا ۔ میں اپنے اساتذہ جن میں خاص طور پر ڈا کٹر مغیث الدین شیخ قابل ذکر ہیں ان کی بیحد ممنون ہوں ،انہوں نے میری بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی اورآئندہ بھی گائیڈ کرنے کاوعدہ فرمایا ۔ میرے پہلے کالم کے ایک جملے پر اعترا ض کیا گیا کہ اس صدی کی خوبصورت تخلیق عورت ہے تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس صدی کی ہی کیوں ؟ اس بات سے میری مراد صرف اور صرف یہ تھی کہ اس ہی صدی میں عورت کو ایک نمایاں مقام حاصل ہوا وہ خلا تک جا پہنچی،اس نے اپنے عزم واستقلال سے بلند پہاڑوں کو مسخر کیا،پاک سرزمین اور پاک فوج کیلئے خدمات کا معاملہ ہو ،کھیلوں کا میدان ہو یا کمرشل پائلٹ کی حیثیت سے فضا میں اڑان بھرنا ہر شعبہ میں اس نے اپنے پوشیدہ جوہر کو منوایا یہاں تک کہ اس نے شعبہ صحت،شعبہ صحافت،شعبہ سیاست اور شعبہ درس وتدریس سمیت ہر میدان میں نمایاں کامیابی کاجھنڈا گاڑدیا ۔ پاکستانی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں بہت سے روزمرہ کے مسائل یوں تو بظاہرناممکن دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر ان پر توجہ دی جائے تو حقیقتاً اس کے دور رس فوائد حاصل ہو سکتے ان میں اولاد کی درجہ بندی ایک حساس معاملہ ہے ۔بیٹوں کو زیادہ اہمیت اور بیٹیوں کو ہر معاملے میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو کہ نہایت افسوسناک رویہ ہے ۔بیٹوں کو زندگی کہ ہر کارہائے منصبی میں فوقیت دینا ایک پسماندہ قوم کی عکاسی کرتا ہے ۔زمانہ قدیم سے یہ سلسلہ چلا آ رہاہے گھر میں کھانا پکتے ہی بیٹے کیلئے اچھی بوٹیاں الگ کرلی جاتی ہیں، سب سے پہلے اس کانیا لباس خریدا جاتاہے ،پسندیدہ اشیاء میں سے ایک نمایاں حصہ اس کیلئے مخصوص کر دیا جاتا،بیٹی سے کہاجاتا ہے اسے ہاتھ نہ لگانا یہ تمہارے بھائی کیلئے ہے ،وہیں ایک کمزور اور معصوم حوا کی بیٹی بھی یہ سب خاموشی سے دیکھ اورسوچ رہی ہوتی ہے میرا قصور کیا ہے ؟ کیا میں انسان نہیں ان کی اولاد نہیں ، عہدحاضر میں تعلیم اورمیڈیا کی بدولت کچھ تبدیلی آئی ہے لیکن وہ بھی آٹے میں نمک کے برابر ،اب یہ درجہ بندی تعلیم کے معاملے میں کی جاتی ۔جب بیٹے کی تعلیم کا وقت آتا ہے تو اسے مہنگے اوراعلیٰ تعلیمی ا داروں میں داخل کرنے کے خواب دیکھے جاتے ہیں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں بھی اسوقت برداشت ہو جا تی ہیں لیکن وہی والدین جب بیٹیوں کو پڑھانے کا سوچتے ہیں تو فور اً سرکاری تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ماں باپ کو اپنے رویوں پرسوچ بچار کی ضرورت ہے ۔بیٹیاں کہیں سے بھی بیٹوں سے کم نہیں ہیں وہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح اپنا اور اپنے ماں باپ کا بوجھ اٹھا سکتی ہیں۔ خدارا ان خوبصورت ننھی کلیوں کے ذہنون کو پراگندہ نہ کریں ورنہ یہ مرجھا جائیں گی ایک اور المیہ بچوں کی تعداد میں بے انتہا اضافہ ہے ۔ریسورسز ہوں نہ ہوں بچے دیورانی، جٹھا نی کے بچوں سے زیادہ ہی ہونے چا ہئیں ورنہ لوگ طعنہ دیں گے۔میری ایک عزیزہ ابھی کچھ ہی روز پہلے مجھے ملیں اور بتانے لگیں کہ میرا ایک بچہ تھا جو” لاکاس” میں زیرتعلیم اورانتہائی ہونہار تھا پھر میں نے دوسرا کیا پھر تیسرا، بچوں کو الائیڈ اسکول میں لے آئی اب مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ مجھے چوتھا بچہ کروں یا نہیں ؟ میں سر پکڑ کر بیٹھ گئی اور سوچا کہ کس قدر کم عقلی ہے کہ بچوں کی تعداد بڑھائے جا رہی ہیں اچھے اسکول سے نکال کر ایک عام اسکول میں ڈال دیا یقیناًافورڈ نہیں کر پا رہے اور پھر ایک اور بچہ۔ہم جس طرح دہشت گردی کیخلاف حالت جنگ میں ہیں اس طرح ہمیں جہالت کیخلاف بھی جنگ شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔امن وآشتی ،مساوات ،رواداری،برداشت ،تعمیروترقی اورتمدن کاراستہ تعلیم سے ہوکرجاتا ہے۔ہم نے جس روزجہالت کیخلاف جنگ جیت لی اس دن دہشت گردی اورمفلسی سمیت متعددمعاشرتی برائیوں کوبھی شکست ہوجائے گی ۔
اصل میں ہمارے ہاں کم علمی اورکج فہمی کا بنیادی اوربڑاسبب تعلیم کا کم ہونا ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ایک عورت یہ سمجھنے سے ہی قاصر ہے کہ اس کے لئے کیادرست اور کیا غلط ہے ۔رہی سہی کسر ہر سال پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش اور حالات کی کسمپرسی اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے ۔ایک عورت جس نے آنے والی نسل کی تعلیم وتربیت اور تکمیل کرنی ہے اس کی صحت و تندرستی قوم کی ترقی کیلئے لازم و ملزوم ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں جو اقدامات اٹھائے وہ ابھی نہ کافی ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت کو مزیداوردوررس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ معاشرے میں ایک منظم مہم شروع کی جائے جو خواتین کو اس بات کیلئے آمادہ کرے کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم وتربیت اورزندگی کی دوسری بنیادی اورضروری سہولیات دیں۔ اگر وہ یہ سب کچھ افورڈ نہیں کر سکتے تو بچوں کی زیادہ تعداد ان کیلئے مختلف مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ تعلیم وتربیت اوربہترین خوراک ہر آ نیوالے بچے کا بنیادی حق ہے اور اگر آپ اپنے بچوں کو وہ بھی بھرپورانداز سے فراہم نہیں کر سکتے تو معاف کیجئے گا آپ کو والدین کہلانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔