۔،۔ وائرس کا خاتمہ جی ٹی روڈ پر ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نااہل وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں سینئر مسلم لیگی رہنماؤں سے خطاب میں کہا ۔پاکستان کے نظام میں ۔وائرس۔(Virus)موجود ہے جو ایک منتخب وزیر اعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دیتا موجودہ سیاسی نظام پر اطمینان نہیں جہاں ایک منتخب وزیر اعظم اوسطاً ڈیڑھ سال اپنے منصب پر فائز رہتا ہے جبکہ ایک فوجی آمر ملک پر اوسطاً 9سال حکومت کرتا ہے اس نظام میں موجود اس وائرس کو ڈھونڈنے کی ضروت ہے تاکہ ملک صحیح راستوں پر گامزن ہوسکے ، مری سے شہر اقتدار پہنچنے کے بعد صحافیوں سے ملاقات میں کہا۔یہ سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ ہے اور ایسا فیصلہ دیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ فیصلہ کہاں سے آیا کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ابھی خاموش ہوں،شام سے قبل انہوں نے اینکر زپرسن اور وکلاء سے ملاقات میں کہا۔ان کی ناہلی کا فیصلہ ہو چکا تھا صرف جواز ڈھونڈا جا رہا تھا جب کچھ نہ ملا تو معمولی سی بات پر نکال دیا گیا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انکوائری میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افراد کو شامل کیا جائے عجب بات ہے جسے کروڑوں لوگ منتخب کریں اسے 5نوبل افراد چلتا کریں اس کے علاوہ انہوں نے اور بہت کچھ کہا ایک وزیر نے تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو یکسر نہ ماننے کا میڈیا پر اعلان کر دیا۔وائرس کا لفظ لاطینی اور اس سے پہلے یونان سے آیا تھا جس کا مفہوم ۔زہر۔ہے،وائرس کو زندگی برقرار رکھنے کے لئے کسی خلیہ میں طفیلی کے طور پر رہنا لازمی ہے،وائرس،ایم آئی،آئی ایس آئی کے نمائندے،نا اہلی کے فیصلہ قبل از وقت ،جواز کی تلاش اورپانچ نوبل افراد،سول اور آمروں کے دور اقتدار کا موازنہ،نواز شریف کی ان باتوں میں بہت گہرائی ہے،ہزار کوششوں کے باوجود یہ ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ آخر وہ کیا معاملات تھے جس بنیاد پر انہیں نا اہل کرنے کا فیصلہ کو چکا تھا،سپریم کورٹ کے جج (جسٹس)نوبل افراد ، آئی ایس آئی اور آئی ایم کے افراد پر اعتراض ، اتنے الزامات کیوں اور ان کے پیچھے چھپے حقائق کیا ہیں؟نواز شریف کا تشخیص کردہ وائرس کہاں کہاں تک رسائی حاصل کر چکا ہے اسے لازمی ڈھونڈنا چاہئے،اس وطن کو نہ جانے کتنے اقسام کے وائرسوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ،یہ وائرس بھی بہت طاقتور ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی عوام کا نہیں سوچا بلکہ یہاں تک کہ اپنا قومی بجٹ بھی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کی ڈکٹیشن پر بنایا جاتا ہے،ملک کو قحط سے بچانے کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ کا وائرس بھی بہت طاقتور ہے،آج تک غربت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرنے کا وائرس ،حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات جو روز اول سے ہی زیادہ ہیں کے لئے ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کا وائرس،زرعی ملک میں زراعت کی تباہی کا وائرس،عوام کو صاف پانی ،تعلیم ،علاج ،جان و مال کا تحفظ نہ دئیے جانے کا وائرس،حکمرانوں کی بے حسی کا وائرس جس کے باعث ملک میں لوٹ مار،کرپشن،رشوت ستانی،اقربا پروری،دہشت گردی،الزام تراشی ،صو بائیت کا زہر،قتل و غارت کی وارداتیں،اسلحہ کی بھرمار،جان ومال کا خطرہ،غنڈہ گردی،اغوا،مہنگائی اور بے روز گاری سمیت بے پناہ پنپتے مسائل،خود کفالت کی بجائے قرضوں کے حصول کی پالیسی کا وائرس جس سے قومی معیشت مفلوج اورہر بچہ1لاکھ21ہزار روپے کا بوجھ لے کر جنم لیتا ہے،قرضوں کی معافی کا وائرس،تمام قومی اداروں جیسے پی آئی اے،سٹیل ملز،ریلوے وغیرہ کی تباہی و بربادی کا وائرس،اشرافیہ کے لئے مراعات کا وائرس،طبقاتی نظام تعلیم کا وائرس،اعلیٰ طبقے کی جانب سے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کا وائرس،عدلیہ پر لعن طعن کا وائرس،فوج کو ہر بات ذمہ دار ٹھہرانے کا وائرس،منی لانڈرنگ کا وائرس،حکمرانوں کے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے کا وائرس،یہاں کس کس ۔وائرس۔کا ذکر کیا جائے اس زہر نے توہمارے وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے،ایسے وائرس تلاش کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟اس سول حکومت کو چار برس سے زائد عرصہ کا اقتدار ملا اور عوام کو قرضوں کا بوجھ ملا،ملک نے بہت ترقی کی ہو گی مگر عوام کی بنیادی ضروریات کا کیا بنا؟وہ انہیں کس حد تک میسر آئیں؟چلو مان لیتے ہیں حکومت کے خاتمہ کے لئے کوئی سازش ہوئی ہے مگر سازش کا بتانا بھی قومی فرض ہے ہمیں تو علم نہیں کہ وہ سازش تھی کیا؟آپ کہہ رہے تھے کہ مجھے سب پتا ہے ابھی خاموش ہوں ،قومی معاملات پر خاموشی تو وہ وائرس ہے جو ہماری ۔خودی۔کا اصل قاتل ہے،آپ کو نا اہل کرنے کا فیصلہ کیسے پہلے ہو چکا تھا ؟وہ کون سی قوتیں ہیں ؟ان سب وائرسوں کا خدارا عوام کو بتا دیں ،آپ کچھ بتانے کی بجائے اس وائرس کے خاتمے یا اس پر ابھی طاقت ثابت کرنے کے لئے GT روڈ پر نکل پڑے،ایسے اس وائرس کا خاتمہ ہو جائے گا؟اعلیٰ عدلیہ کے جسٹس جنہیں ۔نوبل افراد۔کہا جا رہا ہے ان میں کیسا اور کہاں سے کوئی وائرس آن گھسا ؟اصل میں یہ ایسے وائرس اپنے ہی پیدا کردہ ہیں جب ہم خود میثاق جمہوریت اور این آر او کے لئے امریکہ ولندن کی مدد لیتے ہیں ،پاکستان میں اسلامی برادر ممالک کی لامحدود مداخلت کا وائرس بھی ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے،یہ سوال کہ پاکستان میں جمہوریت کو کبھی پورا موقع نہیں دیا گیا ،پہلے وزیر اعظم شہید ہوئے جن کی جگہ ایک سول شخصیت خواجہ ناظم الدین نے لی، کرپٹ بیورو کریٹ ملک غلام محمد کو سیاست دان نے ہی پاکستان کا گورنر جنرل بنایا اسی نے ملٹری سے سول سروس میں بطور اسسٹنٹ کمشنر سے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے والے بیوروکریٹ سکندر مرزاکو گورنرجنرل بنایا اور خود انگلینڈ چلے گئے، سکندر مرزا جو بعد میں صدر مملکت بن گئے نے خواجہ ناظم الدین،محمد علی بوگرا،چوہدری محمد علی(بیوروکریٹ)،حسین شہید سہروردی،ابراہیم اسماعیل چندریگر،ملک فیروز خان نون ،نورالامین کو اقتدار سے فارغ کیا،نواز شریف ،بے نظیر بھٹو اور کو غلام اسحاق خان اور فاروق احمد خان لغاری نے بر طرف کیا،یوسف رضا گیلانی کو اور نواز شریف کو عدلیہ نے گھر بھیجا، کئی حکمرانوں کو گھر بھیجنے والے سکندر مرزا کو ایوب خان ،ذوالفقار علی بھٹو کو ضیا ء الحق اور نواز شریف سے پرویز مشرف نے اقتدار چھینا،اس ساری صورتحال سے اندازہ لگائیں کہ سول حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ کیا نہیں کیا،جنرل ایوب خان کی آمریت میں اس وقت کے سبھی سیاستدان ان کی حمایت میں تھے عام انتخابات میں انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی بھی مخالفت کی،جنرل ضیا ء دور میں خود میاں نواز شریف پھلے پھولے،پرویز مشرف کی کابینہ میں شامل وزراء،ایم این ایز ،سینیٹرز ،پی پی پی ، نواز شریف اور شاہدخاقان کے دور میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور ہیں،تو پھر سب خرابی کے اصل وائرس کون ہیں شاید جی ٹی روڈ سے مل جائیں ۔ کچھ بھی ہوں عدلیہ کو اس طرح ملعون نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جہاں عدل اور انصاف کا ادارہ ملک سے وفادار نہ ہوں اس ریاست کی سالمیت کی بقا نا ممکن ہے،خدا نہ کرے پاکستان میں ایسا ہو،