-،-یہودیوں کی فلسطین میں مزار حضرت یوسف علیہ السلام کی بے حرمتی ( پہلو ۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل

بیت المقدس میں گذشتہ ماہ سے یہودیوں نے مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا نماز جمعہ تک مسلمانوں کو وہاں ادا کرنے کی اجازت نہیں چار روز قبل ایک ہزار سے زائد شر پسند اور متعصب یہودیوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل) (Hebronمیں واقع جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پاک پر دھاوا بول دیا،مذہبی رسومات کی آڑ میں مزار پاک کی آڑ میں بے حد بے حرمتی کی گئی جس کے بعد فلسطینی شہریوں اور یہودیوں آباد کاروں کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز اوردونوں طرف سے پتھراؤ کا تبادلہ ہوا،انٹر نیشنل میڈیا کے مطابق ایک ہزار سے زائد یہودی شر پسند تلمودی تعلیمات کی روشنی میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں اس مقدس ترین مقام پر آئے اور اسرائیلی فوج کی سیکیورٹی میں مزار حضرت یوسف ؑ میں داخل ہوئے ،حملے سے پہلے یہودی حوارہ چوک پر جمع ہوئے بعد میں۔ بیت فوریک۔سے 7بسوں کے ذریعہ مزار پر پہنچے مقامی شہری نے بتایا کہ شر پسندوں کی آمد سے قبل اسرائیلی فوج نے مزار پاک سے ملحق دویات خاندان کے مکانوں میں گھس پر ان کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں ، دھاوے کے بعد شر پسندوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی،اس توہین آمیز شرمناک جسارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ،اس ناپاک جسارت پر ابھی تک کسی بھی مسلم ملک کی جانب سے مذمتی بیان تک نہیں آیا ،عالم اسلام کی جانب سے اس قدر غفلت کا مظاہرہ کیا جانا اسلامی اسلاف سے روگردانی اور جذبات مردہ ہونے کی کھلی دلیل ہے،اس کے علاوہ فلسطین کے مغربی کنارہ کے جنوبی شہروں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف پکڑ دھکڑ کی نئی ظالمانہ کاروائیاں تیز تر کر دی گئی ہیں اب تک 144بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت غرب اردن کے جنوبی شہروں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، الخلیل یا (Heborn) فلسطین میں ایک بلند مقام پر قائم ہے جو سلسلہ کوہ الخلیل یا سلسلہ کوہ یہود جو اسرائیل اور مغربی کنارے میں ایک سلسلہ کوہ ہے جہاں ہروشلم اور دیگر کئی کتاب مقدس کے شہر واقع ہیں میں شامل ہے ،اس کا پرانا نام قریت اربع یعنی چار شہر ہے ،یہ شہر مصری شہر صنعن سے سات ہزار سال پہلے آباد ہوا،یہ بیت المقدس سے جنوب میں30کلومیٹر دورویسٹ بینک کا دوسر ابڑا شہر ہے، 6لاکھ کے قریب آبادی پر مشتمل یہ شہر دوحصوں میں منقسم ہے 1۔H پر فلسطین اور2۔Hپر اسرائیل کا کنٹرول ہے ،اسرائیل کے زیرتسلط علاقہ شہرکے کل رقبے کا 20فیصد ہے ،یہودیوں کے لئے یہ دوسرا جبکہ مسلمانوں کے لئے یہ چوتھا مقدس ترین مقام ہے اس شہرکا ذکر عبرانی بائیبل میں ہے ،یونیسکو کے مطابق 8ہزار قبل مسیح آباد ہونے والا یہ شہر دنیا کا سب سے قدیم ثقافتی شہر ہے،مسلمانوں کے لئے یہ اس لئے مقدس ہے کہ یہاں مسجد خلیل کے احاطہ میں عظیم پیغمبران خدا حضرت ابراہیم ؑ ،حضرت اسحاق ؑ ،حضرت یعقوب ؑ ،حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کی زوجات یہاں مدفون ہیں ،اس کے علاوہ دنیا بھر میں کوئی اور مقام نہیں جہاں ایک ساتھ چار جلیل القدر پیغمبر مدفون ہوں ،نبیوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ اسلام جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے تھے جن کا ذکر بائبل میں بھی ملتا ہے ،ان پر گیارہ سال کی عمر میں ہی نبوت کے آثارواضح ہونے لگے تھے،آپ ؑ نے بارہ سال کی عمر میں خواب دیکھا کہ آپؑ ایک سونے کے تخت پر بیٹھے ہیں جبکہ چاند ،سورج اور گیارہ ستارے آپ ؑ کو سجدہ کر رہے ہیں،آپؑ نے اپنا یہ خواب اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو بتایا تو انہوں نے منع فرمایا کہ اس خواب کا کسی سے ذکر نہیں کرنا ،ابن کثیر کے مطابق حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں ان سب کے ناموں سے قبیلے موسوم ہوئے تاہم ان سب قبائل میں سب سے عظیم ،بہتر اور خاص قبیلہ حضرت یوسف ؑ کا ہے،اس خواب کا ذکر ان کی سوتیلی ماں ۔لیاء۔(حقیقی والدہ ماجدہ کا نام ۔راحیل ۔تھا)نے دیگر بیٹوں کے سامنے کر دیا یہی سے حسد برداران کا آغاز ہوا،قرآن مجید میں خواب کے اس قصے کو ۔احسن القصص ۔کہا ہے،ایک اندازے کے مطابق ان کی بعثت کا زمانہ سترہویں صدی قبل مسیح تھا،ان کا ذکر یہودیوں کی کتاب ۔کنک۔(کنک اس مجموعہ کا نام ہے جس کو عبرانی بائبل کہا جاتا ہے جو یہودیت کی سب سے مقدس کتابوں کا مجموعہ ہے اس کے تین اجزاء ہیں تورات،نبویہییم اور کیددویم) اور عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل میں بطور یوسف آیا،حضرت یعقوب ؑ کے تمام بیٹوں میں سے صرف انہی کو مقام نبوت سے سرفرا زکیا گیا،اگرچہ دیگر انبیاء کا تذکرہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں تھوڑا تھوڑا آیا ہے تاہم حضرت یوسف ؑ کے ذکر سے قرآن کی ایک مکمل سورہ جس کا نام سورہ یوسف ہے میں ان کے سارے واقعات کو خاص اہمیت دی گئی آپ ؑ کا ذکر مبارک سورہ انعام اور سورہ عامر میں بھی آیا، یوں تو سارا قرآن مجید ہی اہمیت کے حامل واقعات و درس پر مبنی ہے مگر جس طرح ان کی زندگی کے اہم ترین واقعات کا تفصیل سے بیان کیا گیا کسی اور نبی کا اس قدر تفصیل سے تذکرہ نہیں ہے ،سورہ یوسف قرآن پاک کی 12ویں سورت ہے جو نبی آخر الزمان ﷺ کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی اس وقت قریش مکہ اس مسئلے پر غور کر رہے تھے کہ آپ ﷺ کو (نعوذ با اللہ )قتل،جلاوطن یا قید کر دیں،اس زمانے میں غالباً یہودیوں کے اشارے پر قریش نے آپ ؐ کا امتحان لینے کے لئے آپؐ سے سوال پوچھا کہ بنی اسرائیل کے مصر جانے کا سبب کیا تھا؟ چونکہ اہل عرب اس قصے سے ناواقف تھے بلکہ کسی ایسی بات کا نام و نشان تک نہ تھا انہیں توقع تھی کہ آپؐ یا تو اس کا مفصل جواب نہ دے سکیں گے یا ٹال مٹول کر کے کسی یہودی سے پوچھنے کی کوشش کریں گے اور یوں آپ ؐ کا بھرم کھل جائے گالیکن اس امتحان میں انہیں الٹی منہ کی کھانی پڑی ،اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کیا کہ فوراً اسی وقت یوسف ؑ کا پورا قصہ آپ ﷺ کی زبان پر جاری کر دیا بلکہ مزید برآں اس قصے کوفریقین کے اس معاملے پر بھی چسپاں کر دیا جو وہ برادران یوسف کی طرح آپؐ کے ساتھ کررہے تھے،جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کرتے ہوئے فرمایا۔آج تم پر کوئی گرفت نہیں اور اللہ تمہیں معاف کرے وہ سب پر رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے،اسی طرح آپ ﷺ نے بھی فرمایا ۔میں تمہیں وہی جواب دیتاہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کو دیا تھا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں جاؤ تمہیں معاف کیا۔حدیث مبارکہ ہے ۔آپﷺ نے فرمایا ۔جب دنیا بنی تو حسن کے تین حصے کئے گئے جن میں ایک حصہ یوسف ایک حصہ ان کی والدہ اور باقی ایک حصہ پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؑ کتنے حسین تھے،یہودیوں کی ان کے روضہ مبارک کی بے حرمتی کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے عالم اسلام کے حکمران اس قدر بے حس کیوں ہو چکے ہیں کہ بات یہاں تک آن پہنچی ،فلسطین ،میانماراور کشمیرمین مسلمانوں پر ہی طلم و ستم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں اور اب تو لعنتی نبیوں کے مزارات پر بھی شیطانی سے باز نہیں آ رہے