دستک

ash
اے آراشرف بیورو چیف جرمنی
ابلیس کے فرزند

میں یہ سوچ کرکہ اگر سیاست دان اپنے بیانات اور آئین کو تبدیل کرکے انقلاب کی بات کر سکتے ہیں تو میں معمولی سا صحافی ہونے کے ناطے الفاظ میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یہ کہاوت بھی بیان کرنے کی جسارت کر سکتاہوں کہاوت یہ ہے کہ۔۔جب شیر کی موت کا وقت آتا ہے تو وہ شہر کا رُخ کرتا ہے ہمارے سابق وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف کو عدالت عُظمہ نے اُنہیں مجرم قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لئے اُنہیں تاحیات نااہل قرار دیا جاتا ہے اور وزارت عُظمہ کے منصب سے فارغ کیا جاتاہے اس فیصلے کیمطابق وہ تاحیات نااہل قرار دئیے جا چکے ہیں ظاہر ہے شیر تازہ تازہ زخمی ہوا ہے اور اُس کا رد عمل بھی ہونا ہی تھا اس وقت۔۔شیر بلکہ شیر پنجاب شدید زخمی ہیں اور شیر کے بارے میں مشہور ہے کہ زخمی شیر اور بھی خطرناک اور خونخوار ہو جاتا ہے شایداسی لئے اُنہوں نے ایک معصوم بچے کو اپنے کارواں کے قدموں تلے روندنے کا عملی مظاہرہ کر کے مصیبتوں ،بیروزگاری اورمہنگائی کے بوجھ میں دبی قوم کو پیغام دیا ہے کہ جو بھی سر شیر کی مخالفت میں اُٹھے گا وہ کٹ جائے گا دوسری جانب وہ اپنے قومی اداروں پر مسلسل حملے کےئے جارہے ہیں اب شیر جاتی اُمرا پہنچ چکا ہے دیکھنا یہ ہے کہ سیاست میں زخموں کی تاب نہ لا کر شیر کی موت ہوجاتی ہے یا روبصحت ہو کر پھر گرجنا شروع کر دیتا ہے یہ مکافات عمل ہے جلد یا بدیر ہر کسی کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہی ہوتا ہے اقتدار کے نشے میں انسان عوام کیا۔اُس خالق حقیقی کو بھی بھول جاتا ہے جس کی عظمت کی تسبیح کائنات کی ہر شے کر رہی ہے وہی جوجسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت سے نوازتا ہے ۔جسے چاہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے جب چاہے چھین لیتا ہے وہ انسان کو ہر طرح سے آزماتا ہے آل شریف پر پاناما کی مصیبت کسی ایرے غیرے یانتھو خیرے نے نہیں ڈالی یہ خدا کی طرف سے اُن اعمال کا حساب ہے جو وہ اقتداد کے نشے میں عوام کا استحصال کر کے دیا غیر کے بینکوں میں دولت جمع کرتے رہے تھے جسے ایک غیر ملکی ادارے پاناما نے انکشاف کرکے دنیا بھر کے کرپٹ سربراہوں ،سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کو بے نقاب کر کے کھلبلی مچا دی تھی جہنوں نے ناجائز ذرائع سے کمائی دولت کو اف شور کمپنیانیوں کے پردے میں چھپا رکھا تھا بعض دوسرے ممالک کے حکمرانوں نے اس انکشاف کے بعد فوراََ استعفیٰ دے دیا تھا لیکن ہمارے وزیرراعظم نے عوام اور حزب اختلاف کے استعفےٰ کے مطالبہ ک ماننے انکار کر دیا تھااسپر پاکستان تحریک انصاف اس معاملے کوعدالت عظمہ میں لے گئی اور تقریباََ چودہ ماہ کی طویل بحث کے بعد فیصلہ آیا جسے نون لیگ اب ماننے سے انکار کر رہی ہے ۔۔علامہ اقبال نے درست ہی کہا تھا۔۔۔ابلیس کے فرزند ہیں،یہ ارباب سیاست۔۔۔تقریباََ تیس سال سے میاں برادران وطن عزیز پر حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں مگر کبھی انہیں غریب عوام کا خیال نہیں آیا اب آچانک عدالت عظمہٰ کا فیصلہ آنے کے بعد اُنکے دل میں غریب عوام کے لئے محبت بھی جاگ اُٹھی ہے اور وہ انقلاب کی باتیں کرنے لگے ہیں اگر اُنہیں غریبوں سے ہمدردی ذرا بھر بھی احساس ہوتا تو وہ تھوڑی دیر کے لئے سہی اپنے کارواں کو روک کر کم از کم بچے کی ماں ہی دلجوئی کرتے جس کے لخت جگر کو آپ کے کارواں نے روند ڈالا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اُنہیں آچانک شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بے گناہی اور اُنکی پھانسی بھی یاد آ گئی جبکہ بھٹو شہید کو پھانسی لگوانے میں جنرل ضیاالحق کے ساتھ میاں صاحب بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے تھے پھر بی بی شہید کی دونوں بار حکومت کو ختم کرنے میں سازش کا حصہ رہے پھر جن ڈکٹیٹروں پر آج میاں صاحب تنقید کے تیر برسا رہے ہیں اُنہیں کی گود میں میاں صاحب پروان چڑھے تھے آج میاں صاحب ہر تقریر میں عدلیہ اور پاک اٖفواج پرکھلم کھلا تنقید کر کے قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کیا آپ کے خلاف افواج پاکستان یا عدلیہ نے مقدمہ بنایا تھا؟ کیا مقدمہ میں عدالت نے آپکو صفائی کا پورا پورا موقع فراہم نہیں کیا تھا؟ کیا پاک افواج یا عدلیہ نے قومی اسمبلی کے فلور پر آپکو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا تھا؟کیا عدلیہ یا پاک افواج نے وزارت عُظمہ کے منصب پر براجمان ہوتے ہوئے اقامہ لیکر دبئی میں ملازمت کرنے کا مشورہ دیا تھا؟ہماری میاں صاحب سے استدعا ہے کہ قومی اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ترک کر کے مُثبت رویہ اپنائیں اور خوش آمدیوں کی گرفت سے نکل کر حققت کا سامنا کریں خدا ہم سب کو ملک و قوم کی بقا کیلئے جینے مرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین