۔،۔بیرسٹر امجد ملک چیئرمین اوورسیز پاکستانی کا دورہ یونان اور تلخ حقائق۔،۔

شان پاکستان یونان گریس نذر حسین۔ 28جولائی 2017کو جب مانچسٹر سے ایتھنز پہنچے تو یونان میں سفیر پاکستان خالد عثمان قیصر صاحب نے ان کا شاندار استقبال کیا، ایئر پورٹ پر پاکستانی نمائندہ جماعتوں اور طبقہ ہائے فکر کے نمائندہ افراد اور بیرسٹر صاحب کے دیرینہ دوست چوہدری اعجاز احمد ان کے دست راست سید جمیل شاہ بھی استقبال میں موجود تھے، وقت کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے سیدھے ایمبیسی کا رخ کیاگیا جہاں پر سفیر پاکستان نے کمیونٹی افراد کو بلایا ہوا تھا ، جن میں چیئر مین پاکستانی کمیونٹی سنٹر عبد المجید ملک، صدر پاکستان کمیونٹی چوہدری شاہ نواز وڑائچ، پاک ہیلنک کلچرل سوسائٹی اور پاکستان جرنلسٹ کلب یونان کے ارشاد احمد بٹ، پی۔پی۔پی۔ کے ڈاکٹر طارق جاوید سلہریا، مسلم لیگ (ن) کے متحرک اور دوسری جماعتوں کے سینیئر اکابرین نے شرکت کی، تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو بلا تفریق اور امتیاز سفارت خانے میں دیکھ کر بیریسٹر صاحب نے خوشی کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مجھے دلی مسرت ہوئی ہے کہ ہزار اختلاف کے باوجود ہم پاکستان اور پاکستانیت کے لئے ایک چھت تلے جمع ہونے کی صلاحیت ہمو وقت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں اکابرین سے ملاقات ہوئی وہیں سفارت خانے میں تعنیات عملے جس میں عید الوحید، حسیب اشرف، محمد اویس عزیز، مسز نزہت شعیب اور مقامی زبان پر عبور رکھنے والی پیگی مونیو سے بھی ملاقات ہوئی۔ سفیر پاکستان نے بیریسٹر صاحب کو سفارت خانہ کا مختصر دورہ کروایا دورہ کے درمیان سفیر صاحب نے تمام سہولیات کا احاطہ کیا جو کسی بھی عوامی سطح کے دفتر میں موجود ہونا چائیئے، مثلاََ انتظار گاہ، ٹوکن سسٹم۔ بیت الخلاء کی سہولت، گیٹ کے باہر مناسب معلوماتی نوٹس بورڈ اس کے علاوہ حفاظت کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خاتمہ کے لئے عملی اقدامات جو صحیح معنوں میں اچھے وقت کی طرف صحیح پیش قدمی ہے ان اقدامات پر سفیر صاحب کو مبارک باد دی گئی۔سفارت خانہ کے دورہ اور بریفنگ کے بعد ایک کھلی کچہری کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں مختلف پاکستانی کمیونٹیوں کے اکابرین نے دل کھول کر اپنا مدعا بیان کیا، یاد رہے یہ دورہ خالد عثمان قیصر سفیر پاکستان یونان کی خاص دلچسپی اور ۔اہ۔پی۔ایف۔Overseas Pakistanis Foundationاور پاکستان کے اداروں کے ساتھ متعلقہ مسائل کی وجہ سے عمل میں آیا تھا اس لئے براہ راست عوامی مکالمے سے بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بیرسٹر امجد ملک نے کمیونٹی کو ایک سال میں ۔او۔پی۔ایف۔ کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی اور انہیں دعوت دی کہ وہ عوامی فلاح اور مدد کے لئے قائم کئے جانے والے اقدامات سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں اور ان کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کریں۔24گھنٹے کی ہیلپ لائن، ایئر پورٹس پر 8امدادی ڈیسک، ویب سائٹ اور کمیونٹی ویلفیؤ اتاشی آفس اور سفارت خانے ان کی جائز داد رسی کے لئے موجود ہیں، پاکستان کے بیرون ملک امیج کو اجاگر کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تارکین وطن کا ایع کردار ہے جسے ہم سراہتے ہیں، سہولیات کی فراہمی اور اس کے بارے میں آگہی اور احتساب سرخ فیتے کو کاٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ چیئرمین او۔پی۔ایف (OPF)کا پہلا یونان کا دورہ تھا اس لئے یہ ضروری تھا کہ اس سے ایسی روایت کی داغ بیل ڈالی جائے جس سے عوام اور ملک کا فائدہ ہو، لوگ سفارت خانے اور عملے سے خوش تھے کہ وہ اپنی خدمات احسن طریقہ سے سر انجام دے رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ 5ہزار کے قریب پاکستانی تارکین وطن کی مقامی حراستی مراکز میں قید اور سفری دستاویزات نہ ہونے یا ان کے حصول میں درپیش مسائل یعنی پولیس رپورٹ، پاسپہرٹ اور ٹریول ڈاکومینٹ کا حصول، نادرا کارڈ کی سہولت کے بارے میں کافی ایشوز دیکھنے میں آئے، نادرا کا یونان میں عملہ کا نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ یونان یورپ کا گیٹ وے ہے اور کم از کم آن لائن سروس اگر وہاں سے نادرا کے عملہ کے ذریعے پہنچائی جائے تو وقت کا ضیاع بچایا جا سکتا ہے۔ پاسپورٹ کے محکمے کو بھی 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا ہو گا جو کام مہینوں میں ہو رہا ہے اسے ہفتوں اور ہفتوں والے کام کو دنوں پر لانا ہو گا، پولیس رپورٹ وقت پر نہ آنے کی وجہ سے لوگوں کی پریشانی اور سفیر محترم کی اس پر بار بار یاد دہانی اور اس پر ایک ادارہ جاتی پرلیسی فریم ورک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی محتسب آفس بھی اس سلسلے میں محرک ہے اور امید ہے کہ اس پر ادارہ جاتی انتظام جلد تشکیل دے دیا جائے گا، کیونکہ یونان میں غیر قانونی طور پر آنے والے افراد میں واضع کمی دیکھی جا سکتی ہے لیکن جو لوگ آ چکے ہیں ان کے لئے مقامی سح پر عام معافی تا کہ وہ قانونی طور پر قیام پذیر ہو سکیں۔ پاکستانی کاغذات کی مروجہ بین الاقوامی طریقوں سے تصدیق اور انہیں مقامی معاشرہ میں ڈھالنے کے لئے مقامی انتظام میں جائز مقام بہت ضروری ہے، قابل ذکر تعداد ہونے کے باعث لوگوں کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر لوگوں کو لانے اور لے جانے والے انفرادی اور اجتماعیانسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی کریں لیکن جائز اور قانونی پیداواری اور ملازمت کے مواقع پیدا کریں۔ گلف کی طرح پورے یورپ میں بریگزٹ کے بعد جہاں اقتصادی طور پر مقای کمیونٹی کا افرادی مواقع پیدا کرنا بہت ضروری ہے اور ورک پرمٹ کا اجراء اور قومی سطح پر جاب کے مواحقوں میں حصہ غیر قانونی اقدامات کی روک تھام میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ امیگریشن کیونکہ یونان اور پاکستانیوں کے لئے ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ وزارت داخلہ یونان کے وزیر امیگریشن سے جلد ملاقات کرے اس سے انسانی اسمگلنگ کی بیخ کنی ویں مدد ملے گی اور کاغذات کی تصدیق کے عمل، پولیس رپورٹ کی جلد فراہمی، پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی ترسیل سے پاکستانیوں سے جیلوں سے جلد واپسی ممکن ہو سکے گی۔ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر یونان کی حکومت سے ایسے علاقوں سے جہاں غربت اور بیروزگاریزیادہ ہے وہاں سے کوٹہ پر جاب کے مواقع پیدا کئے جا سکیں گے۔ یونان میں قید پاکستانیوں میں سے قابل ذکر تعداد بچوں کی ہونا باعث تشویش ہے، ایسے بچے جو یونان میں غیر قانونی طریقوں سے لائے گئے ہیں ان کی فلاح و بہبود کے لئے اگر کوئی ان کی ذمہ داری نہیں لیتا تو پاکستان کو ان کی کفالت کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہیئے اور اس سلسلے میں معنی خیز اقدامات کرنا چاہیئے۔ یونان میں بسنے والے تارکین وطن کے لئے بہت بڑا مسئلہ ۔پی۔آئی۔اے۔ کی فلائٹ کا نہ ہونا اور جس کی وجہ سے ڈیڈ باڈی پاکستانھ بھیجنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کمیونٹی کے لئے فارن آفس کے فنڈ میں ایسی شق رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ناگہانی آفت اور اچانک موت کی صورت میں پاکستانی شہری کی میت پاکستان پہنچانے میں ویلفیئر کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے بندوبست کیا جا سکے، بیرون ملک ورکرز کے لئے اس سہولت کا انتظام سٹیٹ لائف انشورنس میں ہی کیا جا سکتا ہے تا کہ ایسے اقدامات بروقت اٹھائے جا سکیں، یہ بات بہر الحال خوش آئندہ ہے کہ جہاں جہاں ۔پی۔آئی۔اے۔ کا فلائٹ آپریشن موجود ہے وہاں سے ڈیڈ باڈی کی مفت ترسیل پی۔آئی۔اے۔ فراہم کرتا ہے اور ۔ او۔پی۔ایف ۔ ایئر پورٹ سے گھر تک ڈیڈ باڈی پہنچانے کی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ تارکین وطن کے مسائل کی نشاندھی اور ان کے حل کے لئے کمیونٹی، ریاست اور سفارت خانے کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر میں ایک پرتکلف عشائیئے کا سفارت خانے میں ہی اہتمام کیا گیا تھا۔ 29جولائی 2017کو سفیر پاکستان نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (IOM) انٹرنیشل ادارہ فار مائیگریشن یونان کے ہیڈ ڈانیال سے تفصیلی ملاقات کروائی ،ہم نے یہ طے کیا کہ (IOM) کے لئے ہم کوشش کریں گے کہ OPFایک فوکل پرسن مقرر کرے اور بچوں کی واپسی اور تارکین وطن کی جلد واپسی کے لئے اقدامات کئے جائیں تا کہ وہ جیلوں میں مقید نہ رہیں اور جو اشخاص تصدیق کی وجہ سے اپنا قیام قانونی کروانے سے قاصر ہیں اس سلسلے میں بھی (IOM) کا ادارہ سفارت خانے ، تارکین وطن اور ریاست پاکستان کی جائز مدد کرے۔ 26ہزار پاکستانی جو دیار غیر میں پاکستان سے اپنی لازوال محبت کا رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں انکی گزارشات پر غور کرنے کی ضرورت ہے، بیریسٹر صاحب کاکہنا تھا کہ مجھے چوہدری اعجاز اور جمیل شاہ کے TVپروگرام میں شرکت کر کے دلی مسرت ہوئی اور اس ناطے ان تمام افراد سے براہ راست رابطہ کرنے کا موقع بھی ملا جو سفارت خانے شرکت نہ کر سکے۔ 5131افراد کی جیلوں میں قید اور تقریباََ5000افراد کی کاغذات نا ممکن ہونے کی وجہ سے مقامی معاشرہ میں قانونی قیام اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ مقامی لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی اناوُں کو قربان کر کے مقامی معاشرے میں نمائندگی پیدا کریں، ووٹ کے حق، کونسل میں نمائندگی اور آگے بڑھ کر ایک دن مقامی پارلیمان میں اپنے نمائندے پیدا کریں۔یہ ان کی اپنے لئے اور ان کے اپنے آبائی ملک کے لئے ایک بیش قیمت خدمت ہو گی۔ دوران وزٹ بشارت علی صاحب نے اپنے پاسپورٹ بارے انفرادی درخواست دی جس پر سفارت خانہ پہلے ہی پاسپورٹ کے محکمے کو متعدد بار لکھ چکا ہے، پی پی پی کے رہنما نے ووٹ کے حق کے بارے کہا، سائل جعفری، محمد اسلم، رزاق ڈار، مرزا جاوید اقبال، عشیرہ، محمد عرفان، غلام مرتضی قادری، شاہد نواز وڑیچ، راجہ مجاہدجلالاور سید جمیل شاہ صاحب نے اپنے اپنے تجربات سہ آگاہ کیا، تمام کاغذات، گزارشات ،مطالبات اور شکایات کا مطالعہ کر کے ایک 42نکات پر مشتمل رپورٹ وزیر اعظم اور بورڈز آف گورنرز کو 2اگست 2017کو جمع کروائی گئی اور امید ہے کہ ریاست پاکستان ان افراد کو کاغذات کے گھپ اندھیرے میں چھپنے نہیں دے گی بلکہ یورپ اور برسلز جاتے جاتے اہل اقتدار یونان کے جزیرے پر بھی رکیں گے تا کہ ان لوگوں کی جائز داد رسی کے ذرائع قابل عمل ہو سکیں اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے عملی اقدامات اور کوشش بروئے کار لائی جا سکیں ، ان کا کہنا تھا کہ میں نے چیئر مین کے طور پر 21جگہ کھلی کچہری لگائی اور سعودی عرب کے بعد یونان مجھے سب سے مستحق اور توجہ کی طالب کمیونٹی لگی ہے اور پاکستان کی حکومت کو یونان میں بسنے والی پاکستانیوں اور قید میں 5000ہزار تارکین وطن کو بھولنا نہیں چاہیئے۔

at8 ath3 at4 at5 at6 at7 ath2 ath1 ath