۔،۔ بیت اللہ کی تعمیرکا تاریخی پس منظر ۔ ( پہلو ۔۔۔۔۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
خانہ کعبہ ،کعبہ یا بیت اللہ مسجد احرام کے وسط میں واقع اہم اور دنیا کی سب سے بڑی مقدس ترین عمارت ہے عرش پر جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا حکم دیا کہ انسان (حضرت آدمؑ )کو سجدہ کریں پہلے انہوں نے انکار کیا مگر شیطان کے بعد سبھی پریشان کہ خداوند کریم کی خوشنودی کیسے حاصل کی جائے،تب حکم الہٰی پر فرشتو ں نے عرش کے نیچے چار ستونوں پر قائم ایک خوبصورت بیت المعمور کے نام سے تعمیر کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا اس کا طواف کرنے کا حکم دیا اس کا طواف کرنے کے لئے روزانہ 70ہزار فرشتے داخل ہوتے اور جو ایک بار داخل ہوتا تو نکلنے کے بعد دوبارہ داخل ہونے میں قیامت تک اس کی باری نہیںآئے گی ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ بیت المعمور کی طرح زمین پر بھی میرا گھر بنائیں جس کا طواف میرے بندے کریں،تعمیل میں انہوں نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی جس کا نام الضراح رکھا گیا فرشتوں نے اس کا حج بھی کیا،حضرت آدم ؑ جب زمین پر تشریف لائے تو عرض کیا خدایا یہاں تسبیح اور عبادت کرنے کے لئے کوئی عبادت گاہ نہیں جس پر حضرت جبرائیل ؑ آئے اور وہاں پہنچے جہاں زمین بنی تھی یعنی جس جگہ جھاگ پیدا ہوئی اور جو پھیل کر پوری زمین بن گئی ،اللہ تعالیٰ نے بادل کا ٹکڑا بھیجا تاکہ اس کے سایہ میں کعبہ کی حد مقرر کی جائے،تعمیر کے بعد حضرت آدم ؑ اس کا طواف اور عبادت کرتے،طوفان نوحؑ کے بعد یہاں صرف مٹی کا ڈھیر رہ گیا اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کے ذمہ اس کی تعمیرلگی ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔اور جب ہم نے ابراہیم ؑ کو کعبے کی جگہ مقرر کر دی اور اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف،رکوع،قیام اور سجدے کرنے والوں کے لئے صاف رکھنا(سورہ حج )اس طرح روئے زمین پر پہلی اسلامی مسجد ،مسجدا حرام کے نام سے تعمیر ہوئی جس کی اونچائی تین اطراف میں45 ،32 اور37میٹر بلند تھی،عرب اور ایران کے درمیان ملک عراق میں نمرود کی حکومت تھی شہر ببل کے قریب شہرار نامی بستی میں سامی قبیلہ کے ،تارخ،نامی شخص جن کے گھر میں بت پرستی عام تھی حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے آپ ؑ کی ولادت طوفان حضرت نوح ؑ کے 17سو نو سا ل بعد جبکہ حضرت عیسیٰ سے چار سو سال پہلے ہوئی،جب حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ فلسطین میں پیدا ہوئے تو آپؑ حکم ربی سے اپنی بیوی حضرت ہاجراںؑ کو لے کر اس جگہ پہنچے جہاں خانہ کعبہ کے کھنڈرات تھے وہیں چھوٹی سی جھونپڑی بنا کر انہیں ٹھہرایا اور دعا مانگی ،حضرت ابراہیم واپس چلے گئے ،جب دوسری کے بعد تیسری مرتبہ حضرت ابراہیمؑ یہاں آئے تب حضرت ہاجراں کا وصال جبکہ حضرت اسماعیل ؑ کی عمر20ہو چکی تھی ، جب حضرت ابراہیمؑ فلسطین سے واپس آئے تو حضرت اسماعیل ؑ آب زم زم کے پاس درخت نیچے بیٹھے تیر بنا رہے تھے ،آپؑ نے فرمایابیٹے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اللہ کے گھر کی تعمیر کروں،خانہ کعبہ کی بنیادوں میں حضرت جبرائیلؑ نے مدد کی یوں کعبہ کی تعمیر کا آغاز ہوا،کھدائی کے دوران قدیم بنیادیں ظاہر ہوئیں حضرت ابراہیمؑ بڑھاپے میں ایک معمار اور حضرت اسماعیل ؑ مزدور کی طرح تعمیر میں لگ گئے،حضرت جبرائیل ؑ کوہ لبنان،کوہ حرا،کوہ ابو قیس ،کوہ صفا اور مروہ سے پتھر لاتے جو حضرت ابراہیمؑ کعبے میں لگاتے،جب کعبہ کی دیواریں بلند مقام پر پہنچ گئیں تو مزید تعمیر کے لئے جبرائیل ؑ کی نشاندہی پر ایک چھوٹی سی کھوہ سے دو پتھر لائے گئے اس میں سے ایک حجر اسود اور دوسرا مقام ابراہیم کے نام سے متعارف ہوا،حدیث مبارکہ ہے۔جب حجر اسود جنت سے اترا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا مگر انسان کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا(بخاری شریف)مقام ابراہیم ؑ کا پتھر بھی جنت کے یاقوت میں سے ہے جیسے جیسے دیواریں بلند ہوتی تھیں اسی طرح یہ پتھربھی اونچا ہوتا جاتا تھا اسی پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ نے حج کا اعلان کیا تھا اس پتھر پر ان کے دونوں پیروں کے نشان اب بھی واضح ہیں ،یہ بیت اللہ بغیر چھت کے مستطیل نما جس کے دو دروازے جو زمین کے برابر تھے جن سے ہر خاص و عام کو گذرنے کی اجازت تھی،خانہ خدا کا یہ انداز صدیوں رہا،قریش نے بیت اللہ کے شمال کی طرف تین ہاتھ چھوڑ کر مکعب نما (یعنی کعبی)بنایا اور چھت ڈال دی مغربی دروازہ بند جبکہ مشرقی دروازے کو بلند کر دیا،حجر اسود کو دوبارہ رکھنے کا مشہور واقعہ بھی اسی دور کا ہے،مؤذن اسلام حضرت بلالؓ کو خانہ کعبہ کی چھت پر سب سے پہلے اذان دینے کا شرف حاصل ہوا،خانہ کعبہ کے تین ستون ، دو چھتیں اور ایک دروازہ ہے کعبہ کے اندر رکن عراق کے ساتھ باب توبہ ہے اندر المونیم کی 50سیڑھیاں ہیں جو چھت تک جاتی ہیں،چھت پر سوا میڑ شیشے کا ایک حصہ ہے جو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے کعبہ کے اندر سنگ مر مر سے تعمیر اور قیمتی ہیرے لٹکے ہوئے ہیں قدیم روایات کے مطابق ایک صندوق بھی ہے کعبہ کی موجودہ عمارت 1996میں تعمیر کی گئی جبکہ توسیع کا عمل جاری رہتا ہے عمارت 14میٹر اونچی دیواریں ایک میٹر سے زیادہ چوڑی ہیں ، اس کے شمال جانب نصف دائرے میں جو جگہ ہے اسے حطیم کہتے ہیں اسی دیوار کے باہر طواف کیا جاتا ہے کعبہ سے سوا تیرہ میٹر مشرق میں مقام ابراہیم ہے 1967سے پہلے اس جگہ کمرہ تھا مگر اب سونے کی جالی میں بند ہے اس مقام کو مصلے کا درجہ حاصل ہے امام کعبہ اس کی طرف سے کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھاتے ہیں ،حجر اسود کعبہ کے جنوب مشرق میں تقریباً اڑھائی فٹ قطر کے چاندی میں جڑے ہوئے مختلف شکلوں کے چھوٹے چھوٹے 8سیاہ پتھر ہیں ،کعبہ شریف کا طواف حجر اسود سے ہی شروع ہوتا ہے،مسجد حرام کے جنوب مشرق میں 21میٹر فاصلے پر آب زم زم کا کنواں ہے جو چار ہزار سال قبل معجزے کی صورت میں مکہ کے بے آب و گیاں ریگستانی علاقے میں جاری ہوا،یہ سوکھ گیا تھا جسے آپﷺ کے دادا عبدالمطلب نے خدا کے حکم سے دوبارہ کھدوایا1953تک تمام کنوؤں سے پانی ڈول کے ذریعے نکالا جاتا تھااس وقت تو کئی جگہ سبیلیں لگی ہیں ،کعبہ کے دروازے کو باب کعبہ کہتے ہیں جو زمین سے 2.3میٹر بلند ہے ،خانہ کعبہ کے جنوب مغربی کونے کو کا نام رکن یمنی ہے آپ ﷺ کے مطابق یہ رکن اور حجر اسود دونوں جنت کے دروازے ہیں ،غلاف کعبہ کی ابتدا بنی اسرائیل نے کی تھی ،وہ ہمیشہ سیاہ رنگ کے ریشم سے تیار اور سال میں ایک مرتبہ تبدیل کیا جاتا ہے،سعودی حکومت نے اس کی تیاری کے لئے الگ کارخانہ قائم کر رکھا ہے،باب کعبہ اور حجر اسود کے درمیان دیوار کا حصہ ملتزم کہلاتا ہے یہ بیت اللہ کے وہ مقام جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں ملتزم کو بہت اہمت حاصل ہے لوگ اس سے لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگتے ہیں ،کعبہ کی چھت پر لگے پرنالے کو مییذاب رحمت کہتے ہیں یہ پرنالہ سونے کا بنا ہوا ہے ،حضرت آدم ؑ ،حضرت حواؑ اور حضرت جبرائیل کے بعدحضرت شیث ؑ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جو طوفان نوح تک قائم رہی ،پھر حضرت ابراہیم ؑ کے بعد بنو برہیم نے تعمیر کی اس وقت شدید بارشوں کی وجہ اس کی دیواریں بوسیدہ ہو گئی تھیں،بیت اللہ کی تعمیر کا شرف قوم عالقہ کو بھی حاصل ہے ،قصی بن کلاب جو حضور نبی اکرمﷺ کے اجداد میں سے تھے انہوں نے تقریباً تین سو سال سے قائم بنو خزاعہ کے اقتدار کو اکھاڑ پھینکا ان کا بہت بڑا کارنامہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہے،قریش میں وہ پہلے شخص تھے جنہیں یہ سعادت حاصل ہوئی انہوں نے کعبہ کی چھت میں کجھور کی لکڑی اور شاخیں استعمال کیں،جب حضرت محمدﷺکی عمر 35 برس تھی اس زمانے میں خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر ہوئی ،قریش کی تعمیر کو ایک صدی بھی نہ گذری تھی کہ مشہور صحابی رسول ﷺ حضرت زبیرؓ ؑ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا،خلیفہ عبدالمالک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے خلیفہ کو لکھا کہ عبداللہ بن زبیرؓ نے بیت اللہ کی تعمیر قریش کی تعمیر سے ہٹ کر کی ہے جس خلیفہ کے حکم پرحجاج نے کعبہ کو دوبارہ از سر نو تعمیر کرایا،اس تعمیر کے ایک سال بعد مکہ میں شدید بارشوں اور ژالہ باری نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی جس سے کعبہ کی دیواریں منہدم ہو گئیں تو سلطان مراد خان شاہ قسطنطنیہ کے حکم پر جمادی الاول 1040ھ کو تعمیر کا آغاز ہوا جو چھ ماہ جاری رہاسوائے حجر اسود کے تمام عمارت دوبارہ تعمیر ہوئی البتہ طرز حجاج بن نیوسف والی رہی اندر سنگ مر مر کا فرش،نہایت نفیس مخملی چھت گیری لگائی ،نفیس سیاہ ریشمی پردہ جس پر کلمہ طیبہ اور نیچے سلطان کا نام تھا،آخر میں سعودی فرمانروا شاہ فہد نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کرائی اس کے ساتھ مسجد الحرام کی تاریخٰ توسیع کا منصوبہ شامل ہوا اس منصوبے سے کعبہ کے شمال مشرقی اور شمال مغربی حصہ میں 4لاکھ مربع میٹر سے زائد جگہ کا اضافہ ہوا ابھی تک مزید توسیعی کام جاری ہے جہاں اس وقت دنیا بھر سے لاکھوں افراد حج مبارکہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔