-،-شعبدہ بازی اورشوبازی-آمنہ عثمان-،-

Amna usman

آمنہ عثمان

جہالت کی طرح شعبدہ بازی بھی ایک کیفیت ہے جوکسی پرکسی وقت بھی طاری ہوسکتی ہے۔شعبدہ بازی سے مراد انسان کاخودوہ ظاہر کرناجووہ حقیقت میں نہیں ہوتا،جس طرح کوئی انتظامی صلاحیتوں سے نابلدہومگر اس کے بارے میں اعلیٰ منتظم ہونے کاتاثرعام ہو۔شعبدہ بازاس کوکہا جاتا ہے جس کی کارکردگی تونہ ہونے کے برابر ہومگر وہ اپنے گلے میں ڈھول لٹکاکراپنی نام نہاد کامیابیوں کاڈھول بجاتا ہے ۔شعبدہ بازی صرف مردحضرات تک محدود نہیں اب کچھ خواتین نے بھی اپنالوہا منوایا ہے۔ماضی میں بھی کچھ سیاستدانوں کے سیاسی سٹنٹ منظرعام پرآتے رہے ہیں،اب کچھ خواتین بھی سٹنٹ کرتی دیکھی جاسکتی ہیں ۔سنجیدہ اورزیرک سیاستدان شوبازی اورشعبدہ بازی سے گریز کرتے ہیں۔شوبازی بناوٹ کادوسرا نام ہے،خودکوشوآف کرنا،خودپسندی اورخودستائشی بھی ایک طرح سے شوبازی کے زمرے میں آتی ہے۔قابل لوگ قائدانہ صلاحیتوں کے اظہار سے معاشرے میں اپناپائیدارمقام بناتے ہیں۔مہذب عورت زندگی کے جس میدان میں یامقام پربھی ہووہ اپنے اندر نسوانیت اورانفرادیت برقراررکھتی ہے۔ مردہویا عورت ان کا پیراہن ہمیشہ سے ان کی عزت اور تکریم کی علا مت رہا ہے پی ٹی آئی کی منحرف ایم این اے عائشہ گلالئی نے عورتوں کی مسیحائی کی آڑ میں ان کیلئے مزیدمسائل پیدا کر دیے ہیں،عورتوں کی راہ میں شکوک وشبہات کی دیوار تعمیر کردی ہے۔خواتین کواپنے گھروں کے اندربھی چیلنجز کاسامنا کرناپڑتا ہے اوروہ ایک خاص مینڈیٹ اوراعتماد کے ساتھ گھر سے باہر نکلتی ہیں لیکن عائشہ گلالئی نے اپنے انتقام کیلئے عورت ذات کوبدنام کردیا۔اسلام شرانگیزی اورفتنہ انگیزی کوپسندنہیں کرتا۔اگران کے الزامات میں صداقت تھی تووہ سپیکرقومی اسمبلی سردارایازصادق کورازداری سے آگاہ کرتیں وہ تحقیقات کاحکم دیتے اورنتیجہ آنے پرقوم کوبتادیا جاتا۔ان کی پریس کانفرنس کامقصد عمران خان کوایکسپوز نہیں بلکہ بدنام کرناتھاجس میں وہ ناکام رہیں۔ان کی پریس کانفرنس لکھی ہوئی تھی جبکہ جس کو۔ پی ٹی آئی کے مرکزی چیئرمین عمران خان پر عائشہ گلالئی کے الزامات کے بعد والدین اپنی بیٹیوں کے مستقبل بارے ہے کہ آیا وہ اپنی بیٹیوں کو خواتین کی ساست میں بھیجیں یا نہیں۔ان کا پہناوہ بھی ان کی متنازعہ سیاست کی عکاسی کرتا ہے یک دم وہ مردوں کے لباس میں نظر آنے لگیں جس سے سیاسی حلقوں میں ہی نہیں سماجی میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں عورت کی خوبصورتی اس کے لباس سے ظاہر ہوتی ہ? اس کی تکریم اس کی تو صیف اس کے لباس سے ظاہر ہوتی نبی اکر م صلی اللہ وعلیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتیں اپنے ہاتھؤں پر مہندی لگا لیا کریں تاکہ پہچانی جائیں اب عائشہ گلالئی کا یک دم مردانہ لباس میں آ جانا ان کی طرف سے عورت ذات کی تذلیل اورتضحیک کو ظاہر کر رہا۔ انہوں نے اچانک پریس کانفرنس میں جس طرح سے اورجس جس پرچارج شیٹ عائد کی اس سے تو ایسا دکھائی دیتا کہ وہ کسی کی ایماء پر ایسا کر رہی ہیں۔اگر کسی عورت کے ساتھ کچھ زیادتی ہو تو اس کا درد اس کے چہرے سے جھلکتا ہے لیکن گلالئی کو اپنا دکھ پڑھ کر پریس کانفرنس میں سنانا پڑا۔ مسلم لیگ(ن) کے عوامی اجتماع سے پہلے موصوفہ پی ٹی آئی کیخلاف پراپیگنڈا میں مصروف تھیں لیکن جیسے ہی میاں نوازشریف کی اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈلاہورمتنازعہ ریلی شروع ہوئی وہ خاموش ہو گئیں اور بعد میں پھرانہوں نے پی ٹی آئی پر گولہ باری شروع کردی حالانکہ پریس کانفرنس سے ایک روزپہلے تک وہ سب سے زیادہ مسلم لیگ(ن) کی بیڈگورننس پر شدیدتنقیدکیا کرتی تھیں اور یک دم ان کا کہنا کہ پنجاب حکومت کا ڈینگی مہم کے لئے مدد کو آنا ایک خوش آئند اقدام ہے،یہ ان کے سیاسی موقف اوررویوں میں تبدیلی نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے دوسری طرف تحریک انصاف جو اب عائشی کی اور ان کی بہن کی کردار کشی کر رہی ان کو بھی ایسا نہیں کرنا چائیے حجتہ الواداع میں ہمارے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عورت کو اللہ نے انسانی جسم کے سب سے نازک حصے سے بنایا ہے اس لئے اس کے ساتھ نرم ونازک سلوک کرنا چائیے انہیں عائشہ گلالئی کو منتخب کرتے ہوئے کو میرٹ کا خیال رکھنا چائیے تھا اب ان کی کردار کشی مناسب نہیں۔ تحریک انصاف کی عائشہ احد کے ساتھ پریس کانفرنس بے شک ایک جوابی وار تھا لیکن یہ سیاسی ہتھکنڈاتحریک انصاف کی کمزور حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے ۔دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کی جانب سے باسٹھ تریسٹھ میں تبدیلی کا فیصلہ لمحہ فکریہ ہے۔ آئین کوئی مذاق نہیں کہ اسے جب چاہے بدل دیا جائے اٹھارہویں ترمیم سے چندشخصیات کے سوا کسی کو فائدہ نہیں ہوا تھا،میاں نوازشریف کے تیسری بازوزیراعظم منتخب ہونے میں جوآئینی رکاوٹ تھی وہ دورہوگئی جبکہ اے این پی کی سیاست زندہ کرنے کیلئے صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبرپختونخوا رکھ دیاگیا۔ اپ پھر محض ایک فردواحد کی خاطر آئین میں ترمیم کے نام پرنقب لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں جب ملک مشکل دوراہے پر آئین میں تبدیلی چہ معنی دارو ہے۔
ادھر امریکن صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے نئی افغان پالیسی اور بھارت کے ساتھ شراکت داری منظور کرنے کے اعلان نے پاکستان کو ایک مشکل دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے۔پاکستان کی خواہش اورسنجیدہ کوشش کے باوجود پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ سفارتی اورتجارتی تعلقات مثالی نہیں رہے ، پاکستان کے کچھ عاقبت نااندیش حکمرانوں نے ہمیشہ امریکہ کی آواز پر لبیک کہا امریکہ کی آشیرباد کیلئے ہمیشہ اپنے پڑوسی چین کو بھی نظر انداز کیاگیالیکن اس کے باوجود پاکستان امریکہ کی توپوں کے دہانوں پر ہے۔ دفتر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زارداری نے اس کی مذمت بھی کی ہے۔آصف علی زارداری نے تو ٹرمپ کو صاف صاف یہ بھی کہا کہ ہمیں دھمکیاں نہ دیں اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پاکستان اب بھی امریکہ کا غلام بنا رہے گا یا پھر خودداری کے ساتھ اس کی اربوں ڈالر کی بھیک کو ٹھکرا تے ہوئے اپنی خودمختاری کالوہامنوائے گا ۔اگر پاکستان نے بہت پہلے ہی اس بھیک کو ٹھکرا دیا ہوتا تو آج شاید نہیں بلکہ یقیناًہم خود کفیل اورمعاشی طاقت ہوتے ۔