دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
طلبا کے ساتھ ایک شام
اللہ کی کتاب میں ہے اُس نے مکہ والوں کیلئے ایک رسول بھیجا جو اُنہیں میں سے تھا تاکہ اُنکے سامنے قرآن کی تلاوت کرئے۔انکے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور اُنھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔حضرت محمدﷺ کا اررشاد ہے کہ جو شخص علم کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اُسے پا لیتا ہے تو اللہ اُسے دوگنا اجر عطا فرماتا ہے اور جو علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے اُسے ایک گنا اجر عطا فرماتا ہے پھر دوسری جگہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص جہنم سے آزاد اور محفوظ قرار دئیے ہوئے افراد کو دیکھنا چاہتا ہے اُسے چاہیے طالب علموں کو دیکھے پھر حضورﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے چین ہی جانا پڑے۔میری اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔کچھ روز قبل۔۔یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب۔۔کے طلبا کا وفد پروفیسر جناب طاہر اشفاق کی قیادت میں ہالینڈ کا دورہ مکمل کرکے جرمنی پہنچا تو پاکستان کونصلیٹ جنرل ٖفرانکفرٹ نے اُنکے اعزاز میں استقبالیہ دیااور اس موقع پرکونصلر جنرل جناب ندیم احمد نے طلبا کو بتایا کہ یہاں جرمنی میں پاکستانی طلبا کیلئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جرمن حکومت بہترین سہولتیں مہیا کرتی ہے اورقابل طلبا کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کیلئے وظائف بھی دیتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہاں تعلیم بالکل فری ہے اور طلبا اس سہولت سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اور پھر پاکستان جرمن پریس کلب اور ہمارے مربی اور جرمنی میں ائیڈیا فورم کے روح رواں سید محسن رضا نے اُنہیں عشائیہ پر مدعو کیا ان دونوں نشتوں میں مجھے مستقبل کے نوجوان معماروں سے اُنکے خیالات جاننے کا موقع ملا اوریہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہماری نوجوان نسل کے دلوں میں اپنے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے حوصلے بلند اورعزم پختہ کے ساتھ ساتھ کچھ کرنے کا جذبہ اور لگن بھی موجزن ہے اور یہ حققت اپنی جگہ موجود ہے یہی نوجوان اور طلبا کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حثییت رکھتے ہیں طلبا سے گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ جرمنوں کی اخلاقی اقدار اور اُنکی حب الوطنی،ملک و قوم کی تعمیر وترقی کی رفتار کو دیکھ کر وہ بہت مُتاثر ہوئے ہیں اور اکثر طلبا نے جرمنوں کی طرح محنت وجانفشانی سے کام کرکے اپنے وطن عزیز میں انقلابی ترقی کے عزم کا اظہار بھی کیا غیر جانبداری سے اگر کشور خداداد پاکستان کی سیاسی،سماجی،معاشرتی اور اقتصادی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم ستر سال گزرنے کے باوجود بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا بلکہ ہر آنے والادن گزرے ہوئے کل سے بہتر ہونے کی بجائے بد سے بد تر ہوتا جا رہا ہے اور اللہ کی کتاب کہتی ہے کہ خدا اُس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک اُس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کی فکر نہ ہو اور ارتقائی مراحل کو طے کرنے کیلئے سب سے بنیادی مسلہ آئین اور دستور کا ہے اور پھر اُس پر عمل درآمد کاہے لیکن ہم اس لحاظ سے بد قسمت ثابت ہوئے ہیں۔۔ یعنی سر منڈلاتے ہی اولے پڑے۔۔کہ ہمیں پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی اپنی اُس قیادت سے محروم ہونا پڑا جس کی طفیل ہم پاکستان بنانے کی جدوجہد میں کامیاب ہوئے تھے یعنی ہمارے قائداعظم جلد ہی ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور پھر پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو شہید کر دیا گیا اگر کچھ عرصے بعد ہمیں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں ایک قیادت میسر آئی تو ایک امر اپنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر اُسے پھانسی دیکر راستے سے ہٹا دیا گیا اور پھر وہی ہوا کہ۔۔رضیا غنڈوں کے نرگے میں آگئی۔اور ریاست کو ایسے حکمرانوں نے یرغمال بنا لیا جہنیں ریاست کے نہیں اپنے ذاتی مفادات زیادہ عزیز تھے اور وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی رٹ قائم کرنے کی بُری طرح ناکام رہے اور۔ نظام سقے۔ کی طرح اپنے سکے چلانے کی تگ و دو میں مصروف ہو گئے یوں ایک عرصے تک کشور خداداد آئین اور دستور ہی سے محروم رہی اور آمر اپنی من مانی کرتے رہے جس کے نتیجے میں ہم قائداعظم کے حقیقی پاکستان کو قائم نہ رکھ سکے اور جلد ہی اپنے ایک بازو یعنی مشرقی پاکستان سے محروم ہوگئے۔ کیونکہ ریاست اپنی عوام کو وہ کچھ دینے میں نہ کام رہی ہے جسکے وہ حقدار تھے۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کے بعد ہمیں ایسی قیادت ہی میسر نہیں ہوئی جو عوام کو اُنکے بنیادی حقوق دینے میں کوئی مُثبت کردار ادا کرتی یا پھر ہم ہی اپنی قیادت کے انتحاب میں کوئی سنجیدہ فیصلہ کرنے میں نہ کام رہے ہیں،بقول علامہ اقبال۔۔مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے،۔۔۔۔،من اپنا پرایا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا،۔۔۔۔