-،-عید قربان پر روہنگیا مسلمانوں کو خون میں نہلا دیا گیا ( پہلو ۔۔۔۔۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل

بنگلہ دیش ،تھائی لینڈ ،انڈیا اور چین کے ساتھ ملحقہ اور خلیج بنگال اور بحیرہ انڈومان کے ساتھ طویل ساحلی پٹی پر مشتمل دنیا کا انوکھا ،ظالم اور مسلمانوں کے لئے جائے قیامت میانمار(برما)میں بربریت کی نظیر قائم ہو چکی ہے،عید الاضحی کے موقع پر دنیا بھر میں مسلمان سنت ابراہیمی ؑ میں مصروف تھے 20لاکھ سے زائد فرزندان توحید حرمین شریفین میں حج میں مصروف تھی کہ بدھ مت کے پیروکاروں نے برما میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی ، ہم نے اللہ کو راضی کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا مگر اس بات کو فراموش ہر گز نہ کرنا کہ ایک طرف تم خوشیاں مناؤ اور دوسری جانب تمہارے مسلمان بھائیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں ایسے میں اللہ کبھی کسی مومن پر راضی نہیں ہوتا، یہ سر زمین تاریخی اعتبار سے کئی ممالک پر مشتمل تھی ،بعد میں خاص طور پربرمی جو بعد میں میانمار کے نام سے مشہور ہوئے وہ مانڈے اور اس کے اطراف سے یہاں پہنچے ان کو گیارہویں صدی میں انو راٹھا نے متحد کیا یوں بدھ مت کو درآمد کیا گیا یہاں زیادہ تر تبت اور چین سے آنے والے بدھ پہنچے،روہنگیا مسلمانوں سے1982میں برما کی شہریت چھین لی گئی ،برمی ریاست انہیں بنگالی جبکہ بنگلہ دیش انہیں برمی سمجھتا ہے مگر باقی دنیا انہیں کچھ نہیں سمجھتی ،چونکہ وہ بے وطن قرار پا چکے ہیں اس لئے ان کی املاک،زندگی اور بال بچے اکثریتی بودھوں کے لئے ہیں ،برما میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے دنیا میں اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی،ان کے لئے تعلیم کے دروازے مکمل بند،شادی کے لئے حکومت سے اجازت ضروری،میانمار دنیا کا واحد ملک ہے جو محض مذہبی عناد کی وجہ سے اپنے شہریوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، 2012میں بھی کم از کم روہنگیا مسلمانوں کے دس ہرزار سے زئاد مکانات ملبے کا ڈھیر ،80ہزار سے زائد افراد بے گھر اور20ہزار کے قریب شدید ترین تشدد کے ذریعے شہید کر دئے گئے،اس وقت بنگلہ دیش نے ساڑھے تین ہزار سے زائد برمی مسلمانوں کو وہاں سے نکالا تو کشتیوں میں سوار یہ بے بس لوگ سری لنکا پہنچے،انہوں نے بھگایا تو تھائی لینڈ وہاں سے ملائیشیا اس نے بھی اپنے ملک داخل نہ ہونے دیا تو انڈو نیشیا،اس نے بھگایا تو سنگا پور ،یہ افراد کئی روز تک بھوکے پیاسے دریا اور سمندر میں ہی رہے،یہ انسانوں کی بات ہو رہی ہے جن کے کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں آج تو یورپ اور امریکہ نے جنگلی درندوں کے تحفظ کی انجمنیں قائم ہیں ،دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں کو خون بہا وہ انہی قوتوں کی وجہ سے بہا،لندن کی ایک یونیورسٹی رپورٹ کے مطابق میانمار حکومت کی زیر سرپرستی روہنگیامسلمانوں کی نسل کشی آخری مراحل میں ہے،اسی سال برما کے آمر صدر تھین سین نے کہا تھا کہ ان مسلمانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنا چاہئے ان کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں تب ان کے گھر مسجدیں کچھ بھی محفوظ نہیں تھا سب کچھ نذر آتش کر دیا گیاسحرو افطار کے اعلان پر پابندی ،گھر میں بھی نماز تراویح کی ممانعت،ہر طرف سرکاری سرپرستی میں دہشت گرد تنظیم ،ماگ،کا راج تھا، ،اس وقت میانمار میں نوبل انعام یافتہ رہنما انگ سان سوچی کی قیادت میں مسلمانوں پر زندگی مزید تنگ کر دی گئی ہے، دنیا میں روہنگیا مسلمان ایک ایسی اقلیتی برادری ہے جس پر سب سے زیادہ ظلم ہو رہے ہیں ،حال ہی میں میانمار کی ریاست ہرخائن میں جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریتی ہے پر تشدد واقعات میں 2ہزار سے زائد مکانات کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا،400 سے زائد مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا ،یہ کاروائی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کی جانے والے بڑے پر تشدد واقعات میں سے ایک ہے ،تقریباً60ہزار سے زائد مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلہ دیشی سرحد کے قریب پہنچ چکے ہیں ،ان تمام انسانیت سوز واقعات کے میں میانمار کی فوج کا ہاتھ ہے جو ان کو یہاں رہنے نہیں دینا چاہتی، ہیومن رائٹس کے مطابق سیٹلائٹ سے لی گئی تصویر سے ظاہرہوتا ہے کہ گھروں کو آگ فوج نے ہی لگائی،میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد کم از کم دس لاکھ ہے جو صدیوں سے یہاں رہ رہے ہیں شہریت جن کا بنیادی حق ہے اس کے باوجود انہیں غیر قانونی شہری تصور کیا جاتا ہے،کوفی عنان کے مطابق،روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کا سب سے بڑا بغیر ریاست کے گروہ قرار دیا تھا،اقوام متحدہ ان مظالم کو نسل کشی قرار دے چکی ہے،مقام حیرت تو ہے کہ یہی اقوام متحدہ انہیں مکمل پناہ گزین کا درجہ دینے سے قاصرہے ،خستہ حال خیموں میں انہیں ہر مقام پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان کی بستیوں ایک عجیب سی بے چاگی اور بے بسی کا بسیرا ہے انہیں لگتا ہے کہ پوری دنیا ان سے مختلف ہے ،روہنگیا مسلمان اب کہتے ہیں کہ وہ روہنگیا ہیں انہیں مار ہی دیا جائے ،بنگلہ دیش کے ایریا کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عارف السلام نے میڈیا کو بتایا کہ کوسٹ گارڈ نے 11بچوں سمیت25افراد کی لاشیں نکالی ہیں دیگر ذرائع کے مطابق یہ تعداد پچاس ہے جو سب روہنگیا مسلمان تھے،برما کی ریاست رخائن چونکہ سابق مشرقی پاکستان کی سرحد کے ساتھ ملحق تھی جب قیام پاکستان کی تحریک چلی تو روہنگیا مسلمانوں نے بھی علیحدگی پسند تحریک کا آغاز کیا کہ رخائن کو مشرقی پاکستان میں شامل کیاجائے ،ان کے ایک وفد نے قائد اعظم سے ملاقات بھی کی مگر ان کا یہ خواب ادھورا رہا جس کی پاداش میں وہ آج بھی سزا بھگت رہے ہیں،پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے عید الاضحیٰ کے موقع پر 400سے زائد مسلمانوں کے قتل عام ،آتشزدگی اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ ترکی نے بنگلہ دیش کو آفر دی ہے کہ پناہ گزینوں کے لئے اپنی سرحد کھول دے وہ ان کے تمام اخراجات ادا کرے گا،دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد 1.67ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 23فیصد ہیں، جس میں تقریباً ایک ارب مسلمان صرف ایشیا میں رہتے ہیں 2015کی رپورٹ کے مطابق مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ میں91،سنٹرل ایشیا میں80, ,جنوب مشرقی ایشیا میں40،جنوبی ایشیا میں31،صحارا افریقہ میں 30 ایشیا آکسین میں 25،یورپ6فیصد اور امریکہ میں1فیصد مسلمان بستے ہیں،57مسلم اکثریتی ممالک ہیں اور اسلام مسیحت کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے،کئی مسلم ممالک میں تو دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود روہنگیا کے مسلمان اس دور جدید میں بھی بے وطن ،انہیں صرف انسان ہی سمجھ لیا جائے ،مسلم حکمرانوں دین اسلام میں تو غیر مسلم کی مدد کرنا بھی بہت بڑا ثواب ہے وہ تو پھر بھی مسلمان اور دنیا کے مظلوم ترین مسلمان ہیں ،ان مظالم پر مسلم امہ کے حکمرانوں کی خاموشی مجرمانہ غفلت سے کم نہیں ہے،ذرا اپنے دامن میں تو جھانکو کیا تم مسلمان ہو ؟نہیں تم یہودیت ،صہونیت کے دوست ہو ان کی خوشنودی کے لئے بہت کچھ کر جاتے ہو، آج اس اللہ پاک کی دھرتی پر مسلمان ایسی مصیبتیں ،دکھ،تکالیف ،مظالم برداشت کر رہے ہیں جنہیں سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، ان مظالم کی کسی تصویر پر بھی نظر نہیں ٹھہر سکتی ،زندہ انسانوں کے ساتھ اتنی درندگی توبہ ایسی درندگی تو جنگلوں میں بھی نہیں ہوتی ،بے ایمان مسلم حکمرانوں ایمان لے آؤ اور ان کی خبر لوجن کی خبر لینے والا کوئی نہیں،برما پر چین کا بہت زیادہ اثرو رسوخ ہے اسی کے ذریعے ہی اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے،