۔،۔ ناقابلِ تسخیر قوم ۔طارق حسین بٹ (چیرمین )مجلسِ قلندرانِ اقبال-،-

butt

طارق حسین بٹ
۱۴ اگست کا دن اس کرہِ ارض پر اگر ہماری پہچان کا دن تھا تو چھ ستمبراس پہچان کی حفاظت کا دن تھا۔اگر کوئی مجھ سے یہ پوچھے کہ چھ ستمبر کی کہنہ و حقیقت کیا ہے تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہو گی کہ چھہ ستمبر پاکستان کی نئی حیات کا ایسا دیباچہ تھا جس نے دنیا میں اس کے نام کو سر بلند کر دیا تھا۔ایک ایسی حیات جس کے اندر اسلام کی اجلی روح جلوہ افروز تھی اور جسے مٹانا ہمارے ازلی دشمن کی ازلی خوا ہش تھی لیکن دشمن شائد بھول گیا تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔شیرِ خدا حضرت علی کی الذولفقار کی چمک کی حامل قوم ،حضرت جعفرِِ طیار کی تکبیروں کی دمک کی حامل قو م، امامِ عالی مقام کے سرِ دار نمازِ عشق کی رسمِ وفا نبھانے والی قوم ،خالد بن ولید کی شمشیرِ برہنہ کی کاٹ کی امین قوم ، سعد بن ابی وقاص کی حراِتِ یمانی میں ڈھلی ہوئی قوم،عمرو بن العاص کی ظفر مندی کا تاج سجانے والی قوم،ابو عبیدہ بن جراح کے ایمان و آگہی کے نغمے گانے والی قوم ،موسی بن نصیر کی جرا توں کے ترانے گانے والی قوم ، محمد بن قاسم کی بسالتوں میں رنگی ہوئی قوم ،تاجِ سرِ دارا کو اپنے پاؤں تلے رھوند نے والی قوم،تختِ طاؤ س کو گرانے اور اچھالنے والی قوم ،روم ا و ایران کو زیرِ نگیں کرنے والی قوم ، ایران کے آتش کدوں کو ٹھنڈا کرنے والی قوم،قیصرِ روم کے پرچم کو سر نگوں کرنے والی قوم،غوری و غزنوی کی اجلی روایات کی پاسداری کرنے والی قوم ،ہندوستان کے بت کدوں میں توحید کی شمع روشن کرنے والی قوم ،بت پرستی کی بجائے بت شکنی کرنے والی قوم اور اند لس کے ساحل پر طارق بن زیاد کی فلک شگاف تکبیر بلند کرنے والی قوم کو کیا پتھر کی مورتیوں کے سامنے جھکنے والی قوم ہزیمت سے ہمکنارکر سکتی ہے ؟کبھی نہیں۔جس قوم کا نعرہ ہو کہ ۔ (ہر ملک ملکِ ما است ۔۔کہ ملکِ خدائے ما است ) اس قوم کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی اور پاکستانی ایک ایسی ہی قوم ہیں جن کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد ہے ،جو شہادت کی تمنا پالتے ہیں،جو بے تیغ لڑنے کے فن میں تاک ہیں ،جو موت سے بغلگیر ہونے کو اپنی خوش بختی تصور کرتے ہیں ،جو شمشیر پر نہیں ایمان کی قوت پر بھروسہ کرتے ہیں اور پھر دشمن کو اپنے سچے جذبوں کی بدولت دھول چاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔،۔
باطل سے ڈبنے والے اے آسماں نہیں ہیں ہم ۔،۔ سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
تیغوں کے سائے میں پل کر جواں ہوئے ہیں ۔،۔ خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
عزیز انِ من۔،۔عجیب اتفاق ہے کہ فوجی جوانوں کے شانہ بہ شا نہ فنکاروں،گلو کاروں موسیقاروں ،شاعروں اور ادیبوں نے بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کا بہترین اظہار کیا اور فوجی جوانوں سے اپنی محبت کے ایسے انمٹ ترانے تخلیق کئے جو اب بھی تنِ مردہ میں زندگی کی رمق پیدا کر نے کا کام دیتے ہیں۔ولولوں کا ایک طوفا ن تھا جو ان ترانوں سے امڈ پڑا تھا اور قوم یک مشت ہو کر میدانِ کارزار میں نکل پڑی تھی۔ ملکہ ترنم نور جہاں کی گائیکی نے جوطلسم کدہ تخلیق کیا تھا اس کی اثرفرینی نے فوجی جوانوں کے حوصلوں کو ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بلندی عطا کر دی تھی اور شہادت ان کی زندگی کی پہلی ترجیح بن گئی تھی۔ ،۔رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو۔۔۔اے وطن کے سوجیلے جوانو۔۔۔میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔۔کرنیل نیں جرنیل نیں ۔۔لیکن جب ملکہِ ترنم صوفی غلام مصطفے تبسم کے شعرہ آفاق گیت۔ ( اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔،۔توں لبھدی پھر یں بازار کڑھے۔) کیلئے نغمہ سرا ہوئیں تو ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کائنات حالتِ وجد میں آ گئی ہے اور منتشر قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی ہے ۔ایسا نظر آتا تھا کہ ہر ماں کی گود میں ایک ایسا لال ہے جووطن پر قربان ہونے کیلئے بیتاب ہے ۔در اصل یہ ترانہ ممتا کی پکار تھا ،قوم کا وقار تھا، وفاؤں کا اقرار تھا،مر مٹنے کا اظہار تھا ،شہادت کی ادا تھا ،سر کٹانے کی نداتھا،سرفروشی کی ردا تھا ، محبت کی داستاں تھا ،جذبوں کی کہکشاں تھا، آنسوؤں کا خراج تھا،سچائی کا سراج تھا،یکجہتی کی معراج تھا،خلوص کا نگینہ تھا،دلنوازی کا خزینہ تھااور بسالتوں کا آئینہ تھا جس میں قربانی اور شہادت کے سوا کوئی دوسرا جذبہ جگہ نہیں پا سکتا تھا۔اس گیت نے وہ کارنامہ دکھایاجسے ہزاروں مقررین کی تقاریر بھی سر انجام دینے سے قاصر تھیں۔عزیزانِ من۔،۔سیاچین کی یخ بستہ بلندیاں ہوں،پنجاب کے چٹیل میدان ہوں ،سندھ کے وسیع و عریض ریگزار ہوں ،خیبر پختونخواہ کے خوبصورت کو ہ و دمن ہوں۔بلوچستان کے ہرے بھرے پہاڑی سلسلے ہوں، کشمیر کی دلکش چوٹیاں ہوں پاک فوج کے جوان ہمہ وقت چاک و چوبند اور چوکس رہتے ہیں۔چھ ستمبر کوبھارتی فوج فتح کے نشے میں چورٹینکوں،توپوں،اسلحہ بارود اور ہوائی جہازوں سے لیس ہو کر ایک ایسی دھرتی کو فتح کرنے نکلی جو۷ ۲ رمضان المبارک کی عظیم ساعتوں میں صورت پذیر ہوئی تھی جب بھارتی فوج نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کیا تو پاک فوج کا ایک ایک سپاہی خیبر شکن بن گیا اور میرے وطن کے جانبازوں نے اپنے لہو کی سرخی سے اس کی حفاظت کا معجزہ سرانجام دے کر سب کو ورطہِ حیرت میں گم کر دیا تھا۔ اپنے سے چھ گنا بڑی طاقت کو اس کے نحو و تکبرکے ساتھ شکستِ فاش سے دوچار کرنا ایسا غیر معمولی واقعہ تھا جس سے اس کرہِ ارض پر پاک فوج کی عظمتوں کا ڈنکا بجنے لگا۔،سترہ (۱۷ )دنوں کی جنگ محض جنگ نہیں تھی بلکہ صدیوں کی مخاصمت ان سترہ دنوں میں سمٹی ہوئی تھی۔یہ حق و باطل کا ایسا معرکہ تھا جس کی جیت کیلئے بھارت بڑا بے تاب تھا کیونکہ وہ ہندوستان پر صدیوں کے مسلم تشخص اور حکمرانی کا حساب بے باک کرنا چاہتا تھا لیکن میرے وطن کے فوجی جوانوں نے جرات و بسالت اور جانثاری کے جس عظیم الشان کردار کا مظاہرہ کیا تھا اس سے بھارتی خواہشیں نقش بر آب ثابت ہوئیں اور دشمن کو شکستِ فاش سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ وہ جھنیں مٹا نا چاہتا تھا ۔ جھنیں غلام بلانا چاہتا تھا،جھنیں محکوم بنانا چاہتا تھا۔جھنیں سرنگوں کرنا چاہتا تھا اور جھنیں دستِ تصرف میں لینا چاہتا تھاانہی کے ہاتھوں اسے وہ زخم لگا جوآج تک مندمل نہیں ہو سکا۔پاک فوج نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہافرادِ قوم پنے اپنے گھروں میں چین سے رہیں،سکون سے رہیں،بے خوف و خطر رہیں،ڈر اور خوف و ہراس سے ماورا رہیں کیونکہ جب تک ہمارے جسم میں لہو کی ایک بھی بوند ہے دشمن کے ناپاک قدم پاک دھرتی کو چھو نہیں سکتے اور اگر کسی نے ایسا کرنے کی جرات کی تو ہم انھیں نیست و نابود کر کے دم لیں گئے۔ایسی قومیں تاریخ کے سینے میں دھڑکن کی مانند زندہ ہوتی ہیں کیونکہ اہلِ جہاں ان کی تکبیروں سے خود میں حرارت محسوس کرتے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑا ئی میں ہمارے فوجی جوان اپنے عہد کی پاسداری کی خاطر اپنے جسموں پر بم باندھ کر جس طرح بھارتی ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے تھے وہ تاریخِ عالم کا بالکل انوکھا واقعہ تھا ۔چشمِ فلک ایسا عدیم النظیر منظر شائد دوبارہ نہ دیکھ سکے۔ٹینک تباہ ہوتے رہے،ہوائی جہاز آگ کے شعلوں کی نذر ہوتے رہے، بھارتی سورمے پسپا ہوتے رہے، قوم فتح مند ہوتی رہی،پاک فوج سر خرو ہوتی رہی،اس کی قربانیاں رنگ لاتی رہیں ،اہلِ جہاں اس کی عظمتوں کے گن گاتے رہے ،اسے خراجِ تحسین پیش کرتے رہے ،اس کی بسالتوں پر رطب ا لسان ہوتے رہے ،اس کی جراتوں کو سلام پیش کر تے رہے، اس کی رفعتوں پردادو تحسین کے پھول نچھاور کرتے رہے،اس کی پیشانی کے بوسے لیتے رہے اور پاکستانی قوم دنیا میں ایک ناقابلِ تسخیر قوم کی صو رت میں فخرو ناز کے پھول سمیٹتی رہی۔،۔
خونِ دل دے کر نکھاریں گئے رخِ برگِ گلاب ۔،۔ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے