۔،۔کراچی کی جامعات یا دہشت گردوں کی افزائش گاہیں ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔ صا بر مغل ) ۔،۔

sab

صا بر مغل
عیدالاضحیٰ کے روز صبح سات بجے بفر زون میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن نماز عید پڑھ کر نکلے تو پولیس وردی اور سفید لباس میں ملبوس موٹر سائیکل سورا دہشت گردوں نے ان پر حملہ کر دیا ،خواجہ اظہار اس حملے میں محفوظ رہے تاہم ان کا محافظ پولیس کانسٹیبل معین اور نو عمر طالب علم ارسل کامران جو انہیں محض عید ملنے کی خاطر آگے بڑھا موقع پر شہید ہو گئے،گارڈز کی فائرنگ سے ایک حملہ آور زخمی ہونے کے بعد شیریوں کے ہتھے چڑھ گیا جبکہ باقی فرار جن میں ایک زخمی بھی تھا،مقتول حملہ آور کی جب شناخت ہوئی تو انتظامیہ سکتے میں آ گئی کیونکہ21مئی2015کو سانحہ صفورا جس میں 44بے گناہوں کو قتل کرنے والے قاتلوں کی طرح یہ قاتل بھی تعلیم یافتہ دہشت گرد تھا ،موقع پر مارے جانے والے دہشت گرد کی شناخت احسان بن نذیر سے ہوئی جو پی ایچ ڈی اور انجینرنگ یونیورسٹی میں پروفیسر تھا وہ داؤد انجینرنگ یونیورسٹی اور سر سید یونورسٹی سے بھی فارغ التحصیل تھا ، حساس اداروں کی نشاندہی پر ملیر پولیس نے گلزار ہجری کنیز فاطمہ سوسائٹی سے متصل روز میٹل سکیم 33کے بنگلہ نمبرR.34 میں چھاپہ مار کر گولی لگنے پر زخمی حالت میں فرار ہونے والے کالعدم تنظیم انصار الشریعہ کے اہم کارندے سروش صدیقی کے والد ریٹائرڈ پروفیسر سجاد صدیقی سمیت گیارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ،عبدالکریم سروش صدیقی انصار الشریعہ کا اہم ترین کمانڈر اور حسان بن نذیر کا قریبی ساتھی ہے،عبدالکریم سروش 2011میں کراچی یونیورسٹی میں اپلائیڈ فزکس کا طالب رہااور وہ اس وقت پی ایچ ڈی کر رہا تھاکے گھر سے کئی لیپ ٹاپس ،ٹیلبٹ ،موبائل سمیں ,انٹر نیٹ ڈیوائسزاور انصار شریعہ کا لٹریچر برآمد ہوا اس موقع پر بھر پور مزاحمت کی گئی جس سے ایک پولیس اہلکار اعجاز بلوچ شہید ہو گیا،بعد ازاں پولیس نے سروش صدیقی کے والد کی نشاندہی پر ڈیفنس میں چھاپہ مارا جہاں دہشت گردوں اور پولیس میں فائرنگ کے نتیجہ میں کالعدم تنظیم طالبان کا اہم کمانڈر خورشید اقبال عرف خان جو مولانا فضل اللہ کا قریبی رشتہ دار بھی ہے چار ساتھیوں سمیت مارا گیا، یہاں سے ملنے والے اسلحہ کی جب فرانزک رپورٹ سامنے آئی تو پتا چلا کہ یہی اسلحہ سائٹ ایریا میں پولیس ٹارگٹ کلنگ،ڈی ایس پی ٹریفک حنیف اور اسکے محافظ کانسٹیبل سلطان کی شہادت،گلستان جوہر میں دو ایف بی آئی سیکیورٹی گارڈز کی ہلاکت،ناردن بائی پاس پر دو رضاکاروں کی کلنگ اور لیاقت آباد میں پولیس موبائل پر فائرنگ میں استعمال ہوا ہے،ان تمام واقعات کی ذمہ داری انصار اشریعہ نے ہی قبول کی تھی ،انٹیلی جنس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عبدالکریم سروش صدیقی کے گروپ میں شامل9مختلف جامعات کے طالب علم شدت پسندی کے واقعات میں انتہائی متحرک تھے جو سروش کے ساتھ ہی فرار ہو چکے ہیں ،حساس اداروں کی جانب سے شبہ ظاہر کیا گیاہے کہ یہ گروپ شہر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو چکا ہے ،دہشت گردی کے اس نیٹ ورک میں کراچی کی جامعات کے پروفیسرز اور طلبہ کا شامل ہونا ازحد تشویشناک ہے جن کے روابط مکمل طور پر ملک دشمن عناصر سے ہیں ،دہشت گردوں کے گرہ میں تعلیم یافتہ افراد کی شمولیت انتہائی خطرناک ہے،ماضی میں سامنے آنے والے کراچی کے دہشت گردوں میں ناصر نے جامعہ کراچی سے ایم اے کیا،سانحہ صفورا کا ماسٹر مائنڈ آئی بی اے تھا،نورین لغاری ایل ایم سی میں ایم بی بی ایس کی طالبہ تھی،عشرت سر سید انجینرنگ یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر تھا،کراچی میں پڑھے لکھے دہشت گردوں کی یہ کھیپ کراچی کی مختلف جامعات کے طالب علمو ں پر مشتمل ہے،ان اعلیٰ تعلیم یافتہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر توڑ کر ان سے ہرپہلو پر تفتیش ہونی چاہئے جو ملک دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی RAWکے ایجنٹ ہیں،یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اپنے ہی لوگ اور وہ بھی زیور تعلیم سے آراستہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دہشت گردی کے نیٹ ورک سے پوری طرح منسلک ہو چکے ہیں،جدید تعلیمی درس گاہوں میں دہشت گردی کی یہ نئی کھیپ پتا نہیں کیا کیا گل کھلائے گی،ایسی انتہا پسند سوچ پر قابو پانے کے لئے سائنسی اور ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا،اب صرف طلبہ پر ہی نہیں بلکہ اساتذہ پر بھی نظر رکھنے کی ضروت ہے جو نہ جانے کس کس انداز میں طالب علموں کی برین واشنگ کر رہے ہیں، یہ تعلیم یافتہ طبقہ عام دہشت گردوں کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہے یہ لوگ گوگل اور نیٹ کی مدد سے کام کرتے ہیں ،ان کے دماغ عام دہشت گردوں کی نسبت بہت تیز ہوتے ہیں ،ان کی پالیسیوں کو قابل گرفت لانا انتہائی مشکل ہے،یہ تو ان کی بد قسمتی تھی کہ عید کے روز ایم کیو ایم کے رہنماء پر قاتلانہ حملہ میں اللہ تعالیٰ نے خواجہ اظہار کو نئی زندگی دی مگران ناسوروں کو بے نقاب کردیا،ہماری اپنی پالیسیوں میں بھی کوتاہی شامل ہے ایسے دہشت گرد ظاہر ہونے اور پکڑے جانے والوں کو فوری کیفر کردار تک نہ پہنچانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے،کراچی سنٹرل جیل سے فرار ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق جیل حکام ایسے دہشت گردوں کے آگے بے بس ہوتے ہیں ،مطلب ایک طرف فوج دہشت گردی کے قلع قمع کرنے میں بے پناہ قربانیاں دے چکی ہے دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس حوالے سے کم نہیں ،بے گناہ شہریوں کے لوتھڑے عمارتوں اور درختوں پر نظر آتے ہیں پھر یہ مصلحتیں کیوں کر ہیں ؟ہماری تعلیمی اداروں تک گرفت اس قدر کمزور ہے تو پھر ہم نئی نسل کو دے کیا رہے ہیں؟ پڑھالکھا طبقہ شاید محرومیوں کی بنا پر اپنے راستے کا غلط انتخاب کر بیٹھتا ہے جس کی ذمہ دار ریاست ہے اور کوئی نہیں ،