ینگون،میانمار میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔،۔

شان پاکستان برما ینگون۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ میانمار میں ظلم و ستم و قتل و غارت کی بنا پر ابھی تک تقریباََ ایک ہزار 1000سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا جا چکا ہے ،میانمار میں معمور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائدے ۔ینگ ہی لی Yanghee Leeکی رپورٹ کے مطابق میانمار میں بچوں، خواتین اور بزرگوں پر مظالم سیکوٹی فورسز اور بدھ مت شرپسندکر رہے ہیں ، سیکورٹی فورسز ہر اس شخص کو قتل کر رہے ہیں جو سیکورٹی فورسز اور بدھ مت شرپسندوں کے قتل و غارت کے عینی شاہد ہیں ، 25 اگست سے ابھی تک تقریباََ ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہجرت کر کے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و تشدد ، قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا تو پورا خطہ عدم و استحکام کا شکار ہو سکتا ہے ، انہوں نے راکھائن میں انسانی حقوق اور سیکورٹی کی صورتحال پر شدید شویش کا اظہار کرتے ہوئے برمی حکومت پر زور دیا کہ روہنگیا مسلمانوں کو مبک کی شہریت دی جائے ، انسانی حقوق کے اداروں نے بومی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ راکھائن میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاوُن کو فوری طور پر روک دے۔

mi mi2 mi3 mi4 mi6 mi5 246537_394695243912972_1328877553_n mi1
۔،۔سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹرش کا کہنا ہے کہ برمی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی شہریت دے۔،۔

tt

بی بی سی BBCکے نمائندہ جونا تھن ہیڈ Jonathan Head نے چند صحافیوں کے ساتھ متاثرہ مقامات کا دورہ کیا ،ان کا کہنا تھا کہ جلتی وادی میں پہنچے تو ہم نے دیکھا کے وہاں سے چند نوجوان باہر نکلے ، جن کے ہاتھوں میں چھریاں، تلواریں اور غلیلیں موجود تھیں جب ان سے کچھ پوچھا گیا تو انہوں نے کیمرے دیکھ کر جواب دینے سے انکار کر دیا ، چند صحافیوں نے دور جا کر جب پوچھا تو انہوں نے بے دریغ جواب دیا کہ ان کا تعلق رخائن کے بدھ مت مذہب کے ماننے والوں سے ہے انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ انہوں نے جب آگ لگائی تو پولیس نے بھی ان کی مدد کی۔

tt1

میانمار کی ریاست راکھائن میں ریاستی ظلم و جبر سے متاثرہ روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے ایران کی میڈیا کے مطابق ایران سے بھیجے جانے والے امدادی پیکج برما روانہ کر دیئے گئے ہیں۔