-،-برما میں جوکچھ ہوا اسے بربریت کہنا کافی نہیں،ایسا ظلم دیکھا نہ سنا -،-اجمل نیازی
برما میں جوکچھ ہورہا ہے اسے ظلم وبربریت کہنا کافی نہیں۔انسان کی تخلیق سے اب تک کسی نے انسانوں پر ایسا ظلم دیکھااورنہ سنا ۔عالمی ضمیر کی بے حسی اورمجرمانہ خاموشی برماحکومت کی ریاستی بربریت سے بڑا سانحہ اورالمیہ ہے ۔انسانیت کے حامی برما کی ریاستی بربریت کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔کسی مذہب کے انسانوں کوناحق قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔برماحکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کاقتل عام ناقابل برداشت ہے ۔برماکے مسلمانوں کی نسل کشی کے سلسلہ میںیونائٹیڈ نیشن اوردنیا کی مہذب ومقتدرقوتوں کاکردارایک سوالیہ نشان ہے۔ان خیالات کااظہارمختلف مقررین ڈاکٹر اجمل نیازی ،محمددلاورچودھری ،مظہر برلاس ،میاں منطوروٹو،میاں محمودالرشید ،امیرالعظیم ،ابوالہاشم ربانی ،نویدچودھری ،عارفہ خالد پرویز ،مولانامحمدزبیر البازی ، محمدناصراقبال خان ،اخترڈار ،کیپٹن (ر)عطاء محمدخان ،رقیہ غزل ،سردارمرادعلی خان،قاضی سعداخترقریشی ،محمدآصف عنایت بٹ،شاہد رشید ، محمداکرم چودھری ،عابدسلمان،ملک غضنفر اعوان ،عبداللہ ملک ،نبیلہ طارق ،ممتازاعوان ،میاں اشرف عاصمی ،سلمان پرویز ،محمدشاہد محمود ،خالدنصر،غلام عباس صدیقی،علی عمران شاہین،طاہراقبال خان اورخاکسارنائلہ شوکت نے ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیراہتمام قومی سیمینار ”برما کی ریاستی بربریت انسانیت اورعالمی امن کیلئے زہرقاتل” سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ورلڈ کالمسٹ کلب کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد اجمل خان نیازی نے کہا کہ دنیا مین جہاں ظلم ہوتا ہے وہ مسلمانوں پر ہوتا ہے،ذلت صرف مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے۔علامہ اقبال نے یہ بات پہلے کہہ دی تھی کہ بجلی بے چارے مسلمانوں پر گرتی ہے،جو اپنی زندگی،ایمان ،نظریات کی حفاظت نہیں کر سکتا اسے دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ہم سے ہمارے حق چھین لئے گئے۔ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔برما کے مسلمانوں کے ساتھ بہت مظالم ہو رہے ہیں۔حج کے دوران کتنا بڑا اجتما ع ہوتا ہے اس کا ذرہ بھی اثر دنیا پر نہیں ہوتا کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہیں اور متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے دنیا نے ڈرنا چھوڑنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ھقوق منوا نہیں سکتے۔مسلمان ہی صرف اذیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔برما میں مظالم کے حوالہ سے جلسے ہوتے ہیں۔ایٹم بم جس قوم کے پاس ہوں اس قوم کی حالت کمزور ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اگر زندہ ہیں تو ہمیں ثابت کرنا چاہئے کہ ہم زندہ ہیں۔ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین محمد دلاور چوہدری نے کہا کہ ہم ادھر بھی ہوتے اور ادھر بھی یہ رویئے ختم کرنے ہون گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جہاد کی اشد ضرورت ہے،تعلیمی،معاشی میدان میں جہاد کرنا ہے۔جب تک آواز مضبوط نہیں ہو گی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انسانی حقوق سات ہزار سال میں ڈھونگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ آواز میں
جاری ہے ! طاقت ہے تو اقوام متحدہ میں آواز بلند کریں ،برمی سفیر کو بلائیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہم جہاد کا فارمولا نہیں اپنائیں گے معاشی،سماجی،علمی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈارفٹ تیار کریں اور اپنے آپ کو بھیجیں کہ ہم علم سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن بارڈر غیر محفوظ ہیں۔حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔ساری دنیا ایک طرف ہو جاتی ہے امریکہ ویٹو کرتا ہے اور اسرائیل ابھی تک قائم ہے۔اگر اپنے آپ کو مضبوط نہیں کریں گے تو کچھ نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا مفادات کی ہے۔دنیا آپ کو کارنر کر رہی ہے کیونکہ فائدہ نہیں اٹھایا،انٹرنیشنل انٹرسٹ ڈیولپ نہیں کر سکے۔سی پیک جن قومون کے انٹرسٹ میں ہے وہ لے کر آ رہے ہیں،پہلے زرداری،مشرف سی پیک کے سرخیل بنے ہوئے تھے اب موجودہ حکومت کہتی ہے کہ سی پیک ہم لے کر آئے ہیں۔سی پیک کی وجہ سے الیون بلین ڈالر کی انویسمنٹ ملی باقی لون ہے۔
ٍ ورلڈ کالمسٹ کلب کے صدر مظہر برلاس نے کہا کہ مسلمانوں کی نسل کشی قیام پاکستان کے وقت ہوئی تھی،راوی،چناب،ستلج سرخ ہو گئے تھے اور وہ خون مسلمانوں کا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ریاستیں دہشت گرد لیکن ظلم کرنے والے انصاف پسند بنے ہوئے ہیں۔امریکہ،اسرائیل ،انڈیا ایک پیج پر ہیں اور عالمی سیاست میں شمالی کوریا،روس،ترکی،چین ،پاکستان ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسد کی مانند کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے اور اپنی خامیوں کا احاطہ کرنا چاہئے۔اسلامی تعلیمات میں ظلم کو ہاتھ سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اورپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی نائب صدر میاں منظوراحمد وٹو نے کہا کہ قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد پہلی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان میں سب برابر ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقے سے ہو۔انہوں نے کہا کہ برکس اعلامیہ کو دیکھیں،ٹرمپ کی گوہر افشانیوں کو بھی سامنے رکھا جائے،امریکہ بھارت سے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے اور اس کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کے خلاف اوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہے۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برما کے مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے ہر پاکستانی پریشان ہے۔حکومت برما کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروائے ۔اگر برما باز نہیں آتا تو سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں او آئی سی پاکستان میں تھی اور بھٹو اس کے چیئرمین تھے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اورپنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمو الرشید نے کہا کہ ورلڈ کالمسٹ کلب کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،مختلف اہم ایشور پر پروگرام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو واقعات ہم دیکھ رہے ہیں سوشل میڈیا پر چیزیں آ رہی ہیں ایسا بربریت کا المناک مطاہرہ کم ہی ملتا ہے۔کلہاڑیوں کے ساتھ بچوں کو ذبح کیا جا رہا ہے۔مظالم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر جس طرح سٹینڈ لینا چاہئے تھا اس طرح جرات و دلیری نظر نہیں آئی۔برمی مسلمانوں کی مدد کے لئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔برما کا سفارتخانہ بھی بند نہیں کیا۔پنجاب و قومی اسمبلی میں قراردادیں پاس ہو جائیں گی اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔دنیا کی چھٹی بڑی مملکت ہے۔روٹین کے مذمتی بیان پر احتجاج کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔نوبل پرائز ملا ہے حکومتی سطح پر مطالبہ کریں کہ اس سے ایوارڈ واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا بھی دوہرا معیار واضح ہو چکا ہے،۔اسے برما کے مسلمانوں پر مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔طیب ارگان کی تحسین کرنی چاہئے کہ خاتون اول وہاں پہنچ کر سامان تقسیم کر رہی ہیں اور اعلان کیا کہ مظالم بند کریں ورنہ ہم بارڈر کراس کر کے پہنچ جائیں گے یہ بات پاکستان بھی کر سکتا تھا۔حسینہ واجد جس نے مہاجرین پر دروازے بند کر دیئے اس کے خلاف بھی بات کر سکتے تھے۔،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے رویوں کے خلاف بھی احتجاج کی ضرورت ہے۔جو قائدانہ کردار ادا ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا۔جماعت اسلامی کے مرکزی ترجمان امیر العظیم نے کہا کہ برما کا مسئلہ آج کا نہیں۔1826میں انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا ،انگریزگئے تو وہاں بدھوؤں کو اٹھانے کی کوشش کی ،1942میں چالیس دن تک قتل عام جاری رہا،ڈیڑھ  عام ہوا،1954میں باقاعدہ فوج نے قتل عام کا آغاز کیا،1982میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 1992میں مشرقی پاکستان گیا اور وہاں لوگوں کی حالت زار دیکھی۔انہوں نے کہا کہ چالیس لاکھ کی آبادی میں سے پانچ لاکھ لوگ مارے جا چکے ہیں ۔لفظوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے ،عمل سے حل ہوتے ہیں۔پاکستانی حکومت او آئی سی کی آڑ میں بدعملی کا نمونہ بنی ہوئی ہے۔،حکومتیں مفادات کی شکار اور بے حسی کے کفن اوڑھ کر دفن ہو چکے ہیں اسوقت باہر نکلتے ہیں جب امریکی ترانہ بجتا ہے ،پھر اپنے اڈے،سڑکیں سب کچھ امریکہ کے حوالہ کر دیتے ہیں لیکن جب مسلمانوں پر مظالم کا مسئلہ آئے تو صرف قراردادیں پاس کی جاتی ہیں۔ہمیں لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی کمزوری کی وجہ سے عالم اسلام بھی جمود کا شکار ہو گیا ہے۔عالمی ضمیر کے جاگنے کا کوئی امکان نہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آج بھی روہنگیا مسلمانوں کو کارڈنہین دیئے جا رہے۔برمی حکومت کو ظلم سے کون روکے گا،قومی اسمبلی کی قرارداد نہیں روک سکتی۔برما کو وارننگ دی جائے کہ وہ ظلم بند کرے ۔برما کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔اسلامی دنیا کے سامنے آواز اٹھائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کی خاتون اول برما پہنچ گئی پاکستان بھی ذمہ داری ادا کرے۔پاکستان برما کو ہتھیار دیتا ہے اب مسلمانوں پر مظالم کے بعد ہتھیاروں کی فروخت بند ہونی چاہئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نوید چوہدری نے کہا کہ برما کے مسلمانوں پر جو کچھ ہوا قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں میں بیٹھ کر ان ایشو کا اٹھانا چاہئے۔،سیکورٹی کونسل میں اٹھائیں ایک قرارداد کی ضرورت ہے جو ملیحہ لودھی دے سکتی ہیں لیکن انہوں نے نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے انسانیت کا درس دیا لیکن آج مسلمانوں کر دنیا میں دہشت گرد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں اقلیتوں پر مظالم کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
ملی مسلم لیگ کے رہنما ابوالہاشم ربانی نے کہا کہ آج ہم جس ظلم کے خلاف ہم اکھٹے ہوئے ہیں اس کا سلسلہ نیا نہیں ،مسلمانوں پر ظلم دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔بنگلہ دیش اور برما کے درمیان جنگل میں مقیم برمی مسلمانوں میں فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کھانا تقسیم کر رہی ہے۔میڈیکل کیمپ لگا کر طبی امداد دی جارہی ہے اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادیاں ایسے نہیں ملتیں بلکہ چھیننی پڑتی ہیں۔عالم اسلام کو برما کے مسلمانوں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔غلامیوں کے خاتمے کے لئے نکلنا ہو گا۔امت مسلمہ کی خوشحالی کا راز دہشت گروں کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ میں ہے۔مسلم لیگ(ن) کی رکن قومی اسمبلی عارفہ خالد پرویز نے کہا کہ اقوام متحدہ تک آواز پہنچانی چاہئے اور اختلافات ختم کر کے ہمیں آپس میں متحد ہونا چاہئے۔اسوقت ملک میں کمزور میں پالیسیاں چل رہی ہیں ،ہمیں مضبوط آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔دنیا میں نفرت سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں بڑی قربانیاں دیں۔ہمیں فوج اداروں کی عزت کرنی ہو گی ۔مل کر بیٹھ کر پالیسی مرتب کرنی چاہئے اور پھر عالمی سطح پر بات کر نی چاہئے۔افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوج ہے۔کالم نگار بہترین کالم نگار ہیں۔جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے سیکرٹری جنرل مولانا محمدزبیر البازی نے کہا کہ برما کے مسلمانوں پر دہشت ناک مظالم دیکھے تو رنج وغم،غصے،نفرت کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا،زندہ انسانوں کو جلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کے گھروں پر قیامت بیت رہی ہے وہ دہشت گرددرندوں کا شکار ہو رہے ہیں۔چنگیز خان،ہلاکو سے بھی بدھسٹ دہشت گرد آگے نکل گئے۔دنیا خامو ش ہے اور مسلم حکمران بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔عالمی سازش ہے جسے صہیونیوں بے ترتیب دیا ہے ۔ جب سے دہشت گردی کی اصطلاح شروع ہوئی ہے تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمیں مل کر اس سلسلے میں جدوجہد کرنے کی ضروت ہے۔پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے رہنما اختر ڈار نے کہا کہ برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔او آئی سی کی تنظیم نو کی جائے اور برما سے تعلقات ختم کرنے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں پر بھی مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔مسلمانوں پر مظالم کے حوالہ سے کوئی مضبوط و ٹھوس لائحہ عمل بنانا ہو گا۔ جاری ہے !معروف کالم نگاراورتجزیہ کارسلمان عابد نے کہا کہ طاقت کا استعمال عالمی سیاست کے لئے خطرہ ہے۔فورمز کو زیادہ مضبوط بنایا جائے۔اقوام متحدہ کتنا پاور فل ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔او آئی سی کی حالت زار بھی سامنے ہے۔مسلم دنیا کو سوال اٹھانا چاہئے کہ قراردادوں کے فورم کو بااختیار بنایا جائیے اور فیصلہ سازی کا حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ برما کے مسلمانون پر مظالم کے بعد عالمی دنیا کی بے حسی بھی قابل مذمت ہے۔ورلڈکالمسٹ کلب وومن ونگ کی مرکزی چیئرپرسن نیلما ناہیددرانی نے کہا کہ مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے جس کہ وجہ سے دنیا بھر میں مظالم ہو رہے ہیں۔سوڈان،انڈونیشا میں الگ ملک بنا دیئے گئے لیکن کشمیر ،فلسطین کو آج تک آزادی نہیں ملی۔افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا ،قربانیاں دیں اور دہشت گردوں کا قلع قمع کیا۔انہوں نے کہا کہ ترکی کے طیب اردگان کو سلام پیش کرتے ہیں۔رقیہ غزل نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کی مدد کے لئے ورلڈ کالمسٹ کلب کی آج کی تقریب بہت بڑا قدم ہے۔کشمیر،فلسطین سمیت ہر خطے میں مسلمان مر رہے ہیں اور ہم خاموشی کے ساتھ تماشا دیکھ رہے ہیں۔

WCC 10 Sep 2017