-،-برماکی شہریت روہنگیامسلمانوں کاحق ہے ۔سینیٹرطلحہ محمود،زمردخان ،انعام مسعودی-،-
برماحکومت روہنگیا مسلمانوں کوشہریت اورعزت دے جبکہ ان کے جان ومال سمیت بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت یقینی بنائے۔روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اورخواتین کی آبرووریزی پرعالمی ضمیر کاری ایکشن تسلی بخش نہیں۔برما سے ہجرت کرنیوالے مسلمانوں کوبھوک ،بیماریوں اورموسم کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔روہنگیامسلمانوں کوخوراک اورادویات سمیت دوسری بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے الخیرفاؤنڈیشن اوراس فلاحی ادارہ کے چیئرمین امام قاسم رشیداحمد کی کمٹمنٹ اور خدمات قابل قدر اورقابل تقلید ہیں ۔اقوام متحدہ برما بحران کے پائیدار حل ،وہاں سے ہجرت کرنیوالے مسلمانوں کی بحفاظت اورآبرومندانہ واپسی اورآبادکاری کیلئے اپنااثرورسوخ استعمال کرے ۔ان خیالات کااظہارمختلف مقررین سینیٹر طلحہ محمود ،زمردخان ، ایڈوائزر ٹو وزیراعظم بیرسٹر ظفر اللہ خان،مطلوب انقلابی ،مشعال حسین ملک ،الخیر فاؤنڈیشن پاکستان کے چیئرمین انعام الحق مسعودی ،رمیش کمار،جے سالک،مظہربرلاس ،حبیب ملک ،عبداللہ گل ،حیدرہمایوں،محمدناصراقبال خان ،محمدساجد،وسیم قریشی ،رانافیصل اورفیصل عرفان خان سمیت مختلف نیشنل وانٹرنیشنل این جی اوکے سربراہان ،اینکرز اور کالم نگاروں نے الخیرفاؤنڈیشن کے زیراہتمام ” روہنگیا بحران” کے زیرعنوان راؤنڈٹیبل قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔راؤنڈٹیبل کے اختتام پرمشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیاگیا ۔مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات قومی راؤنڈٹیبل کانفرنس میں شریک تھیں۔مقررین کی طرف سے روہنگیا بحران پرراؤنڈٹیبل کانفرنس کے کامیاب انعقاد پرالخیرفاؤنڈیشن کے کردارکوزبردست اندازمیں سراہا گیا۔سینیٹر طلحہ محمود نے شرکاء کوروہنگیا مہاجرین اورمتاثرین کے کیمپ کادورہ میں ہونیوالے اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا اور ان کی بھرپورامداد کے سلسلہ میں مختلف تجاویز دیں۔ زمردخان نے کہا کہ مظلوم کے حق میں آوازاٹھانابھی بہت بڑا کام ہے اس سے معتوب ومغلوب انسانوں کوحوصلہ ملتا ہے۔آنیوالے چندروزمیں اسلام آباد میں مختلف این جی اوزاورسول سوسائٹی کی مددسے جس میں چارسو یتیم بچے اورسویتیم بچیاں بھی شامل ہوں گی،ہم سب روہنگیامسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے ریلی منعقد کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کاش آج آصف علی زرداری ،میاں نوازشریف ،عمران خان اورمولانا فضل الرحمن سمیت سیاسی قیادت ہم آواز ہوکرروہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہارہمدردی اوراظہاریکجہتی کرتی ۔انعام الحق مسعود ی نے کہا کہ روہنگیا بحران مقتدرقوتوں کی مزید مجرمانہ چشم پوشی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔جومہذب ملک جانوروں کے حقوق پرسمجھوتہ نہیں کرتے وہ کئی ملین روہنگیا مسلمانوں کی حق تلفی ،ان پربہیمانہ تشدد اوران کے قتل عام پر کس طرح خاموش رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جوکچھ ہورہا ہے اسے محض ظلم وبربریت کہنا کافی نہیں۔انسان کی تخلیق سے اب تک کسی نے انسانوں پر ایسا ظلم دیکھااورنہ سنا ۔عالمی ضمیر کی بے حسی اورمجرمانہ خاموشی برماحکومت کی ریاستی بربریت سے بڑا سانحہ اورالمیہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کے حامی برما کی ریاستی بربریت کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں۔کسی مذہب کے انسانوں کوناحق قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔انہوں نے کہا کہ برماحکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں کاقتل عام ناقابل برداشت ہے ۔برماکے مسلمانوں کی نسل کشی کے سلسلہ میںیونائٹیڈ نیشن اوردنیا کی مہذب ومقتدرقوتوں کاکردارایک سوالیہ نشان ہے۔ بیرسٹرظفر اللہ خان نے کہا کہ اوآئی سی کسی ملک پرپابندی لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ،ہم سیاسی ومعاشی طاقت بنے بغیر اپنے یادنیا کے دوسروں ملکوں میں مقیم مسلمانوں کودرپیش مسائل وچیلنجزسے نبردآزماہونے کیلئے اپنااثرورسوخ استعمال نہیں کرسکتے ۔ہمیں اپنی اندرونی کمزوریاں اورخامیاں بھی دورکرناہوں گی کیونکہ دنیا میں کمزوروں کی بات کوئی نہیں سنتا۔ مطلوب انقلابی نے کہا ہے کہ روہنگیامسلمانوں کی حالت زار دیکھ کرہرباضمیر انسان کادل خون کے آنسوروتا ہے ۔برما ،فلسطین اورجموں وکشمیر میں مسلمانوں پربہیمانہ تشدد اوران کے ساتھ بدترین تعصب ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان انتہاپسند نہیں بلکہ انتہاپسندوں کا ہدف ہیں۔دنیا کے متعدد ملکوں میں مسلمانوں کوتختہ مشق بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ برما کی شہریت اوروہاں چھت روہنگیامسلمانوں کابنیادی حق ہے جوکسی صورت سلب نہیں کیا جاسکتا۔ مشعال حسین ملک نے کہا کہ دنیا مین جہاں ظلم ہوتا ہے وہ مسلمانوں پر ہوتا ہے،ذلت صرف مسلمانوں کے ساتھ ہوتی ہے۔علامہ اقبال نے یہ بات پہلے کہہ دی تھی کہ بجلی بے چارے مسلمانوں پر گرتی ہے،جو اپنی زندگی،ایمان ،نظریات کی حفاظت نہیں کر سکتا اسے دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ہم سے ہمارے حق چھین لئے گئے ہیں،ہمارے پاس کچھ نہیں رہا۔برما کے مسلمانوں کے ساتھ بہت مظالم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے دنیا نے ڈرنا چھوڑنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقوق بچایا منوا نہیں سکتے۔مسلمان ہی صرف اذیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔برما میں مظالم ناقابل بیان اورناقابل برداشت ہیں۔ جے سالک نے کہا کہ ہم ادھر بھی ہوتے اور ادھر بھی یہ رویئے ختم کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیمی اورمعاشی میدان میں جہاد کرنا ہوگا۔جب تک پاکستانیوں کی آواز مضبوط نہیں ہو گی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔سات ہزارسال سے دنیا میں انسانی حقوق کا ڈھونگ رچایاجارہا ہے ۔ جس وقت تک ہم معاشی،سماجی،علمی طور پر مضبوط نہیں ہوں گے کوئی ہماری بات نہیں سنے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں لیکن بارڈر غیر محفوظ ہیں۔حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔ساری دنیا ایک طرف ہو جاتی ہے امریکہ ویٹو کرتا ہے اور اسرائیل ابھی تک قائم ہے۔اگر اپنے آپ کو مضبوط نہیں کریں گے تو کچھ نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ دنیا مفادات کی ہے۔دنیا آپ کو کارنر کر رہی ہے کیونکہ فائدہ نہیں اٹھایا،انٹرنیشنل انٹرسٹ ڈیولپ نہیں کر سکے۔سی پیک جن قومون کے انٹرسٹ میں ہے وہ لے کر آ رہے ہیں،پہلے زرداری،مشرف سی پیک کے سرخیل بنے ہوئے تھے اب موجودہ حکومت کہتی ہے کہ سی پیک ہم لے کر آئے ہیں۔ عبداللہ گل نے کہا کہ اقوام متحدہ ہماری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتی ،اقوام متحدہ کی ترجیحات مسلمانوں کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔میں اپنے والد جنرل حمیدگل کے اندازمیں انقلابی اورجہادی لہجے میں بات کرتاہوں ،دنیاکی کوئی طاقت ہمیں دبایاڈرانہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی نسل کشی قیام پاکستان کے وقت ہوئی تھی،راوی،چناب،ستلج سرخ ہو گئے تھے اور وہ خون مسلمانوں کا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ریاستیں دہشت گرد لیکن ظلم کرنے والے انصاف پسند بنے ہوئے ہیں۔امریکہ،اسرائیل ،انڈیا ایک پیج پر ہیں اور عالمی سیاست میں شمالی کوریا،روس،ترکی،چین ،پاکستان ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسد کی مانند کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے اور اپنی خامیوں کا احاطہ کرنا چاہئے۔اسلامی تعلیمات میں ظلم کو ہاتھ سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Al-Khair Foundation Photo1