۔،۔ شاہین آج آئی سی سی کے نئے قوانین کے تحت سری لنکا کے مد مقابل ہوں گے ۔ پہلو ۔ صابر مغل ۔،۔

sab

پہلو ۔ صابر مغل

پاکستان کرکٹ ٹیم آج طویل عرصہ بعد سابق کپتان مصبا الحق اورمایہ ناز بیٹسمین یونس خان کی عدم موجودگی،نئے قوانین اور سرفراز احمد کی کپتانی میں پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی کے شیخ زید کرکٹ سٹیڈیم میں سری لنکن کھلاڑیوں کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں نبرد آزما ہو گئی ،سرفرازاحمد کی قیادت میں اظہر علی،شان مسعود ،سمیع اسلم ،اسد شفیق ،حارث سہیل،عثمان صلاح الدین ،یاسر شاہ ،محمد اصغر،بلال آصف ،میر حمزہ ،محمد عامر ،حسن علی ،محمد عباس اور وہاب ریاض پر مشتمل سولہ رکنی ٹیم تین روز قبل نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے لاہور ائیرپورٹ اور وہاں سے غیر ملکی پرواز کے ذریعے یو ای اے پہنچی ،تربیتی کیمپ میں شامل دیگر دو کھلاڑی احمد شہزاد اور رضوان احمد کو ڈراپ کر دیا گیا ان کے علاوہ آل راؤنڈر محمد حفیظ اور شاداب خان بھی ٹیم میں جگہ نہ بنا پائے،یو ای اے کی وکٹیں بیٹنگ کے لئے عموماً سازگار ہوتی ہیں اس لئے باؤلنگ کے شعبہ کی مضبوطی کے لئے فٹنس مسئلہ کا باوجود یاسر شاہ کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا،2009میں سری لنکا کی ٹیم پر لبرٹی چوک لاہور میں دہشت گردوں نے حملہ کر دیا پولیس اہلکاروں نے مہمانوں کی حفاظت کے لئے بھرپور مقابلہ کر کے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،بس کے ڈرائیور نے ٹیم کو سٹیڈیم پہنچایا دہشت گردی کی اس واردات میں6پولیس اہلکاروں سمیت8افراد شہید ہوئے تھے اس بزدلانہ حملہ میں سری لنکن ٹیم کے 7کھلاڑی زخمی ہوئے پاکستانی ایمپائر احسن رضا بھی زخمیوں میں شامل تھے،اس ٹیم کے دو کھلاڑی چمارا کانتااور سرنگا لکمالاس وقت بھی ٹیم میں شامل ہیں،یہی سے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے، قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اس سیریز کو سابق کپتان مصباح الحق اور یونس خان کے بعد پاکستانی کرکٹ کے ایک نئے عہد کا آغاز قرار دیا ہے،ایک طرف وہ عظیم بیٹسمین شامل نہیں تو دوسری طرف سرفراز احمد کی پہلی سیریز میں نا تجربہ کار بیٹسمین ڈال کر بیٹنگ لائن کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے،اس اسکواڈ میں پانچ نئے کھلاڑی محمد اصغر،میر حمزہ،عثمان صلاح الدین،بلال آصف اور محمد عباس نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کی البتہ ان میں بلال آصف ،محمد عباس،عثما ن صلاح الدین ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں نمائندگی کر چکے ہیں،شیڈول کے مطابق پہلا ٹیسٹ28ستمبر کو ابوظہبی میں دوسرا 6اکتوبر کو دوبئی میں یہ ٹیسٹ میچ ڈے اینڈ نائٹ ہو گا پاکستان اس سے قبل ایک ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ کھیل چکا ہے جبکہ سری لنکا گلابی رنگ کی گیند سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گا،پہلا13کو دوبئی 16اور18کو دوسرا اور تیسرا ابوظہبی میں20اور23اکتوبر کو باقی دونوں میچ شارجہ میں کھیلے جائیں گے،ٹی20۔26اور27اکتوبر کو ابر ظہبی میں اور تیسرا 29اکتوبر کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں شام 7.30پر کھیلا جائے مگر اس کے لئے سیکیورٹی کلیرنس مشروط ہے سری لنکن کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو اینگلے ڈی سلوا کے مطابق UEAسے پاکستان میں سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی جاری رہے گی مگر قومی امید ہے کہ یہ میچ لاہور میں ہی ہوگا،پہلا ٹیسٹ پاکستان وقت کے مطابق صبع11بجے،دوسراشام4.30پر،تمام ون ڈے شام چار بجے،یو ای اے میں کھیلے جانے والے ٹی ٹونٹی رات نو بجے شروع ہوں گے،پہلے اور دوسرے ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ سے تعلق رکنے والے آئن گولڈ ،اینگل لونگ ،ارچرڈ کیٹل برگ ایمپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے،14اگست کو سری لنکا کرکٹ کے چیف تھیلنگا سوما ٹھیپلا نے اپنی ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دی تھی،چیر مین پی سی بی نجم سیٹھی نے سری لنکا کے اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ہے امید کی جا رہی ہے کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم بھی جلد پاکستان کا دورہ کرے گی،پاکستانی ٹیم اس وقت ٹیسٹ اور ون ڈے میں چھٹی ٹی ٹونٹی میں دوسری پوزیشن پر ہے ،سری لنکا ٹیسٹ میں7ویں ،ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں 8ویں عالمی پوزیشن پر ہے،سری لنکن ٹیم کو اب تک 262ٹیسٹ میچوں میں 82میں فتح،99میں شکست ہوئی اور81ڈرا ہوئے،اس سال 8ٹیسٹ میچوں میں دو جیتے6ہارے ،کل803ون ڈے میں372میں کامیابی 390ناکامی ،5ٹائی،36بغیر نتیجہ کے ،اس سال 20میں سے صرف 4جیتے 14ہارے اور دو بے نتیجہ ختم ہوئے،T20میں کل96،51میں جیت اور43میں ہار 1ٹائی ایک بے نتیجہ،اس سال 9میں سے چار ہارے اور پانچ میں اسے جیت ہوئی،اسی طرح پاکستان نے کل410ٹیسٹ میچ کھیلے132میں جیت ،120میں ناکامی جبکہ158ڈرا ہوئے اس سال پاکستان نے دو کھیلے مگر دونوں ڈرا ،کل ون ڈے879میں سے 464میں فتح 389میں شکست8ٹائی 16بے نتیجہ،ٹی ٹونٹی117،69میں کامیابی45میں شکست3ٹائی،اس سال کھیلے گئے 7میں سے پانچ جیتے دو ہارے،پاکستان اور سری لنکا کے درمیا ن اب تک 96 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے ،51پاکستان نے جیتے 43میں سری لنکا کو کامیابی ملی18ڈرا ہوئے،148ون ڈے میں 85پاکستان اور58سری لنکا نے جیتے،1ٹائی 4بے نتیجہ ختم ہوئے،اگر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا انفرادی ریکارڈ دیکھا اجائے تو کپتان سرفراز احمد 36ٹیسٹ میچوں میں نمائندگی کر چکے ہیں 3سینچری13نصف سینچریوں کے ساتھ2089رنز بنا چکے ہیں ان کے کھاتہ میں50کیچ اور17اسٹیمپ بھی شامل ہیں،اسد شفیق53ٹیسٹ اور60ون ڈے کھیل چکے ہیں ،ٹیسٹ میچوں میں ان کی 10سینچریاں اور18ففٹیاں ہیں،اظہر علی60ٹیسٹ میچ اور49ون ڈے ،ٹیسٹ کیرئیر میں 14مرتبہ سینچری اور25مرتبہ ففٹی سکور کیاٹیسٹ میں میں ان کا بہترین انفرادی سکور302اورون ڈے میں102ہے،بابر اعظم9ٹیسٹ ,31ون ڈے اور11ٹی ٹونٹی،ون ڈے میں ان کی پانچ سینچریاں ہیں ،حارث سہیل22ون ڈے اور4ٹی ٹونٹی،سمیع اسلم5ٹیسٹ اور 1ون ڈے ،سہیل اسلم نے دورہ نیوزی لینڈ جس میں32سال بعد اس نے پاکستان کو ہرا کر ٹیسٹ سیریز جیتی اس سیریز کے ایک میچ میں سمیع اسلم نے پاکستان کی طرفٖ سے سست ترین نصف سینچری بنائی تھی،(قومی ٹیم نے نیوزی لینْد کے بعد آسٹریلیا کا دورہ کیاتھا وہاں بھی اسے مکمل شکست ہوئی)،حسن علی 1ٹیسٹ21ون ڈے اور7ٹی ٹونٹی کھیل چکے ہیں،ٹیسٹ میں ان کی 3ون ڈے میں42اور ٹی ٹونٹی میں 10وکٹیں ہیں،حسن علی کی طرح محمد عامر پاکستانی باؤلنگ میں لازم و ملزوم ہیں انہوں نے28ٹیسٹ میں 94،36ون ڈے میں55اور31ٹی ٹونٹی میں 34وکٹیں حاصل کی ہیں،وہاب ریاض سینئر باؤلر ہیں وہ25ٹیسٹ میچز میں78جبکہ79ون ڈے میں 102وکٹیں ان کے کھاتہ میں ہیں،یاسر شاہ صرف18ٹیسٹ میچوں میں149وکٹیں حاصل کر چکے ہیں جن میں10وکٹیں دو بار5وکٹیں کسی ایک میچ میں11مرتبہ حاصل کیں انہوں نے سری لنکا کے خلاف تین میچوں میں 24وکٹ حاصل کئے تھے ،سری لنکن کھلاڑیوں میں رنگانا ہیراتھ کو سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ83کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے 389وکٹیں جن میں5وکٹ31مرتبہ اڑائیں،دنیش چندی مل نے 39ٹیسٹ 129،ون ڈے اور48ٹی ٹونٹی میں 12سینچری اور 37بار نصف سینچری مکمل کی،نوان پردیب26ٹیسٹ23ون ڈے, کاسل مینڈس20ٹیسٹ 37ون ڈے اور8ٹی ٹونٹی کھیل چکے ہیں ان کا بہترین انفرادی سکور194ہے ٹیسٹ میچ میں یہ آل راؤنڈر سری لکن ٹیم کے سب سے کم عمر کھلاڑی بھی ہیں،ڈائمتھ کرارتنے اس ٹیم میں 42 ٹیسٹ کے ساتھ کافی تجربہ کے حامل کھلاڑی ہیں ٹیسٹ میچز میں ان کی 6سینچریاں اور 12نصف سینچریاں ہیں،پاکستان نے اس سیریز میں جہاں پانچ نوجوان اور نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا ہے وہیں سری لنکا نے دو کھلاڑی سدیرا سمارا وکرم اور روشن سلوا کو شامل کیا ہے،سری لنکن ٹیم پر حملہ کے بعد دو سال قبل پاکستان نے سری لنکا جا کر سیریز کھیلی تب ٹیسٹ کرکٹ کے کپتان مصباح الحق ،ون ڈے کے اظہر علی جبکہ ٹی ٹونٹی کے شاہد آفریدی تھے پاکستان نے سیریز کی تینوں فارمیٹ میں مخالف ٹیم کو مات دی ایک ٹیسٹ میں سری لنکا نے چوتھی اننگز میں پاکستان کو جیت کے لئے 90رنز کا ٹارگٹ دیا جسے صرف 11.2اوورز میں 8.11کی اوسط کے پورا کر لیا گیا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ہدف کے تعاقب میں سب سے زیادہ سٹرائیک ریٹ تھا اسی میچ کی دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے 76رنز دے کر 7وکٹیں حاصل کیں جو سری لنکا میں کسی بھی غیر ملکی باؤلر کی سب سے بہترین باؤلنگ ہے،سرفراز نے دوسری اننگز میں ہی تین بلے بازوں کو سٹمپ آؤٹ کیا ٹیسٹ کرکٹ میں یہ پہلا موقع تھا کہ تین سری لکن بلے باز ایک اننگز میں سٹمپ آؤٹ ہوئے،پاکستان نے اس میچ میں 10وکٹ سے فتح اپنے نام کی جو نو سالوں میں سری لنکا میں اس کی پہلی فتح تھی ،سری لنکا کی ٹیم کا ماضی کا ریکارڈ بہت اچھا رہا اس نے زمبابوے کو 3جبکہ بنگلہ دیش اور آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو 1۔1مرتبہ وائٹ واش کیا، اس وقت شکستوں کے سائے تلے ہے ماضی قریب میں اس کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی اس میں پہلے جیسا دم خم نہیں حال ہی میں اسے زمبابوے کے ہاتھوں اسے پہلے ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑابعد ازاں بھارت نے اسے عبرتناک شکست سے دوچار کیا،حاالانکہ یہ وہ ٹیم ہے جس نے ون ڈے میں جارحانہ کھیل کا تصور پیش کر کے ورلڈ کپ بھی جیت لیا،گرین شرٹس کودباؤ سے بچنے کے لئے جارحانہ حکمت عملی اپنانا ہو گی جبکہ نوجوان اور خاص طور پر نئے کھلاڑیوں کے پاس کمزور حریف کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین چانس ہے، یو ای اے کے تینوں سٹیڈیمز میں سب سے پہلا میچ کھیلنے کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہے،پاکستانی ٹیم کو مجموعی طور پر سری لنکا کی ٹیم پر ہمیشہ برتری رہی،بلا شبہ بین الاقوامی کرکٹ سے مصباح اور یونس کے رخصت ہونے کے بعد پاکستانی ایک امتحان میں ہے کیونکہ دونوں طویل عرصہ تک پاکستانی بٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ثابت ہوئے ان کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کو متعدد فتوحات دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا ،سرفراز احمد ان کی عدم موجودگی میں کپتانی ملنے کے بعد ایک نئے تجربے سے آشناہونے والے ہیں،سرفراز اس سے پہلے 9ون ڈے اور 11ٹی ٹونٹی میچوں میں ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں،اب سرفراز احمدٹیم کی قیادت کرنے والے پاکستان کے پانچویں وکٹ کیپر ہیں ان سے قبل امتیاز احمد،وسیم باری،راشد لطیف اور معین خان ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں،اسی سیریز کے آغاز پر آئی سی سی کے نئے اور دلچسپ قوانین ،ترامیم کا اطلاق جو 28ستمبر سے پاکستان ،سری لنکا،بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے درمیان شروع ہونے والے ٹیسٹ میچوں سے ہو گا،آئی سی سی نے بلے کے حجم ،رن آؤٹ کے نئے قانون اور جھگڑالو کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر کرنے جیسے نئے قانون اور ترامیم شامل ہیں ،جھگڑالو کھلاڑیوں کو میدان سے باہر کرنے کے علاوہ بلے کی لمبائی ،چوڑائی میں تبدیلی نہیں بلکہ اس کے کناروں کی موٹائی40ملی میٹر اور کسی بھی جگہ سے زیادہ سے زیادہ موٹائی کی حد 67ملی میٹر ہو گی،اسے ناپنے کا ایمپائر کے پاس آلہ ہو گا،ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 80اوور کے بعدڈی ایس آر ٹاپ اب ختم جبکہ ٹ ٹونٹی میں یہ رہے گی،ڈی ایس آر میں ایک اور تبدیلی کہ امپائر کال پر فیصلہ آنے پر اسے چیلنج کرنے والی ٹیم کا ریویو ضائع نہیں ہو گا،باؤنڈر کیچ میں ضروری ہے کہ فیلڈر باؤنڈری کے اندر رہتے ہوئے ہی اسے دوبارہ تھام لے ورنہ وہ باؤنڈری تصور ہوگی،اب سٹمپس کے ساتھ جڑی بیلز کا استعمال ہو گا،رن آؤٹ میں اگر بیٹسمین کا بیٹ ایک بار کریز کو چھو جائے تو پھر وہ آؤٹ نہیں ہو گا ،وکٹ کیپر یا فیلڈر کے ہیلمٹ سے ٹکرا کر کیچ ہونے گیند پر کھلاڑی آؤٹ ہو گا،اگر ٹی ٹونٹی کا کوئی میچ 10اوور اننگز تک ہو گا تو ہر باؤلر کا کوٹہ دو دو اوور ہو گا،نو بالز پر بھی بائیز اور لیگ بائیز کے سکور شمار ہوں گے ،کسی ایک اوور میں باؤلر صرف ایک باؤنس بال کرا سکے بعد کی نو بالز ہوں گی،ابھی تک تو سرفراز احمد قسمت کے دھنی ثابت ہوئے ہیں امید ہے وہ اس سیریز کی جیت کا تحفہ بھی عوام کو دیں گے،پاکستان دنیا کی واحد ٹیم ہے جو کسی بھی بڑے معرکے کو ریت کی دیوار ثابت کر سکتی ہے اور جب یہ خود ریت کی دیوار بنے تب بھی پتا نہیں چلتا ،سرفراز احمد کی قیادت میں پاکستانی ٹیم میں گروہ بندی جیسی لعنت ختم ہو گئی ہے شاید اسی وجہ سے ٹیم کو چیمپئین ٹرافی بھی نصیب ہو گئی،