۔،۔حبیبِ خدا۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی۔،۔

prof.Abdullah

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

خالقِ ارض و سما نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے ان نعمتوں میں عشق و محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو تمام نعمتوں پر بھاری ہے ۔روزِ اول سے لوگوں نے اِس عالم رنگ و بو میں ہزاروں بت تراش رکھے ہیں جن کے سامنے ان کی محبتوں کی دنیا شب و روز سرنگوں رہتی ہے عشقِ مجازاور دنیاوی محبتوں کی منافقتوں ، جھوٹ ، دھوکا بازی ، فریب اور بے وفائی کے بعد اہلِ دنیا کو احساس ہوتا ہے ۔نگاہِ عشق و مستی میں محبوب حقیقی ہونے اور ہماری محبتوں اور عشق کے لائق ہستی خالق ارض و سما کے بعد ایک ہی ذات ہے جو فخرِ دو عالم نبی کریم ﷺ کی ہے ۔اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺکی ذات کے علاوہ تمام عشق اور محبتیں سراب و جھوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔خالقِ کائنات نے سرکار دو عالم ﷺ کی محبت و عشق کو اپنی رضا و خشنودی کا سر چشمہ قرار دیا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ چپہ چپہ اِس کی محبت میں گرفتار اور سر شار ہے سورج کے اندر جو تپش ہے وہ نبی کریم ﷺ کے عشق میں سوختہ ہے صبح طلوع ہونے کے وقت جو سرخی سورض کے چہرے پر ہوتی ہے وہ اس شرمندگی کی آئینہ دار ہے جب محبوب خدا نے سورج سے کہا پلٹ کر آتو سورج نے ایک لمحے کی تاخیر کی اور خدا تعالی سے پوچھا ایک طرف تیری عبادت ہے اور دوسری طرف سرور دو عالم ﷺ کا فرمان ہے اب کیا کروں تو خالقِ کائنات نے فرمایا اے سورج میری اطاعت چھوڑ اور میرے حبیب ﷺ کی اطاعت کر تو سورج اللہ تعالی کی عبادت چھوڑ کر ساقی کوثر کی اطاعت کے لیے دوڑ پڑا اور مغرب سے طلوع ہوا ۔نیلگوں آسمان کی بلندیوں پر روشن چاند کے چہرے سے آمنہ کے لال محبوب خد ا ﷺ کے ہجر کی اداسی و غم آشکار ہے کیونکہ فراق کا کرب بہت شدید ہوتا ہے چاند کی روشنی اور کرنوں میں آسودگی اور ٹھنڈک صرف اِس لیے ہے کہ سرورِ دو عالم ﷺ کی انگشتِ مبارک کے اشارے پر فوری دو لخت ہو گیا ۔کرہ ارض کا وہ ٹکڑا جہاں پر محبوب خدا ﷺاپنے حجرہ انور میں سبز گنبد تلے جلوہ افروز ہیں اس روضہ رسول ﷺ پر لاکھوں کروڑوں جنتیں قربان کی جا سکتی ہیں اگر زمین کے اس حصے کو خدا زبان عطا کر ے اور پوچھے کہ تم عرش معلی کا حصہ بننا چاہتے ہو یا موجود جگہ ہی خوش ہو تو یقیناًیہی عرض کرے گا مجھے عرشِ معلی کا حصہ بننے کی حاجت نہیں کیونکہ جہاں محبوب ہوتا ہے وہیں محب بھی ہوتا ہے عشقِ رسول ﷺ وہ چنگاری ہے جب شعلہ بنتی ہے تو پھر اِ س کی پرواز عرشِ معلی سے بھی آگے پرواز کرتی ہے ۔ عشق کانور مردہ دلوں کو زندہ کرتاہے۔ جس دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت و عشق نہیں ہے وہ مردہ اور بنجر و ویران زمین کی مانند ہے جس میں خار اور ببول اگتے ہیں۔عشق کا اظہار اِس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات نے نبی کریم ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیا ورسل دنیا میں بھیجے اِ ن کا درجہ جز یا جذ و اعظم تھا لیکن جب اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کوبھیجا تو کل کی حیثیت اور اپنے محبوب کے بعد نبوت کا سلسلہ بھی بند کر دیا۔جومقامات اور مراتب تما م انبیا و رسل کو دئیے گئے تھے ان تما م سے بہت زیادہ اپنے محبوب کو عطا فرمائے ان کی شریعتوں کو اپنے محبوب کی شریعت میں مدغم کردیا پھر اِس کو قیامت تک لاگو کر دیا ربِ کعبہ نے حضرت ابراھیم کو اپنا خلیل بنایا قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے سو ر النسا ترجمہ : اور اِس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکی والا ہے اور ابراھیم کے دین پر جو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراھیم کو اپنا گہرا دوست بنایا ۔خلیل سے مراد وہ حبیب اور محب جس کے دل میں صرف اور صرف محبوب کی محبت بس جائے اِس طرح کہ پھر کسی غیر کی محبت کی گنجائش نہ رہے ایسی محبت جو نفس میں رچ جائے ۔ یہ وہ خاص مقام تھا کو خالق ارض و سما نے حضرت ابراہیم کو دیا اِسی وجہ سے حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ کہا جا تا ہے ۔لیکن جب مالک مائنات نے اپنے محبوب ﷺکو مقام عطا کیا وہ کسی اور کو نہیں یعنی نبی کریم ﷺ کا مقام اتنا زیادہ ہے کہ بقول سید محمود الوسی۔محبت کا جو مقام رب العالمین نے نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا وہ اتنا بلند ہے کہ حضرت خلیل کا طائر آرزو بھی وہاں پر نہیں مار سکتا کیونکہ اللہ رب العزت نے رسول کریم ﷺ کو اپنا خلیل بھی بنایا اور اپنا حبیب بھی بنایا اور حبیب وہ ہوتا ہے جس کی رضا محب چاہتا ہے ۔ایک بار حضرت موسی نے اللہ تعالی کے حضور درخواست کی اے خدائے پاک میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تو مجھے زیادہ دوست رکھتا ہے یا محمد ﷺ کو ۔ تو رب ذوالجلال نے فرمایا ۔اے موسی تو کلیم ہے اور محمد ﷺحبیب ہے اور میرے نزدیک کلیم سے زیادہ حبیب پیارا ہے ۔ روزِ محشر، حضرت نظام الدین اولیا فرماتے ہیں اللہ تعالی وہی کریں گے جو اس کے محبوب نبی کریم ﷺ فرمائیں گے کیونکہ ربِ ذولجلال نے نبی کریم ﷺ کو اپنا حبیب قرار دیا ہے اور محبت کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ مجازی عشق میں عاشق کو معشوق ہی ہر جگہ نظر آتا ہے ۔معشوق کے گلی کوچے شہر اور جہاں وہ رہتا ہے سب سے اچھا لگتاہے جہاں معشوق ہو وہ جگہ گلِ گلزار اور روشن نظر آتی ہے وہی جگہ دنیا کا بہترین کوچہ سمجھتا ہے ۔دنیاوی عاشق دنیا جہاں کو چھوڑ کر اسی جگہ کا طواف کرتا ہے جہاں اس کا معشوق ہوتا ہے ۔یہ حال عشقِ مجاز کا ہے لیکن جب عشقِ حقیقی کی بات اور ربِ کعبہ کا اپنے محبوب نبی کریم ﷺ سے عشق ہو تو دنیا جہاں سے اوپر کی بات ہے ۔ حقیقت میں نبی کریم ﷺ سے عشق خدائے پاک کے ساتھ ساتھ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر شے جن و انس خدا کی تخلیق کردہ ہر چیز فخرِ دو عالم کا عشق میں مبتلا ہے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کے بارے میں رب تعالی کا ارشادِ پاک ہے سور الانبیا ترجمہ : اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لیے ۔یعنی رسولِ عربی ﷺ کو خدا تعالی نے تمام جہانوں اور عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔خالقِ ارض و سما نے اپنے محبوب کو ایسے کمالات سے نوازا ہے جو کسی اور کو نہیں دیے رسول عربی ﷺ بلا شبہ بے مثال اور بے نظیر ہیں قرآن پاک میں جا بجا جگہوں پر اپنے محبوب ﷺکی شان اور کمالات کا جس طرح ذکر کیا ہے شانِ کریمی کی ادائے بندہ نوازی دیکھ کر زبان سے سبحان اللہ سبحان اللہ کی صدا بلند ہو تی ہے ۔ قرآن مجید میں مختلف جگہوں میں بہت پیار سے اپنے محبوب کو یاد کیا ہے ۔اے محبوب جو کتاب مجید حنیف شریعت بیضا خلق عظیک دلائل قاہرہ حج باہرہ آیات بینات اور معجزات ساطعات غرضیکہ جن ظاہری اور باطنی جسمانی اور روحانی نعمتوں سے مالا مال کر کے ہم نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے اِس کی غرض و غایت یہ ہے کہ آپ ﷺ سارے جہاں کے لیے سارے جہاں والوں کے لیے اپنوں اور بیگانوں کے لیے دوستوں اور دشمنوں کے لیے سراپا بن کر ظہور فرمائیں مفہوم سور الانبیا قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جس احترام اور محبت سے اللہ تعالی نبی کریم ﷺ کا ذکر کرتے ہیں وہ کسی اور کے بارے میں نہیں کیا ۔بلا شبہ رسولِ عربی فخرِ دو عالم ﷺ کو خالقِ ارض و سما کے ساتھ ساتھ زمین و آسمان کی ہر شے عشق کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ کیونکہ خدا تعالی کی ہر تخلیق کے مادے کے اندر عشقِ نبی ﷺ رکھ دیا گیا ہے-