-،-صبر و استقامت کے پیکر شہید کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ۔ ( پہلو ۔۔۔۔۔۔۔۔ صابر مغل )-،-

sab

صابر مغل
نواسہ رسول ﷺ ،شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور خاتون سردار جنت حضرت فاطمتہ الزہؓ کے چھوٹے صاحبزادے حضرت امام حسینؓ 4ہجری کو پیدا ہوئے نام حسین اور عبداللہ کنیت تھی،انہوں نے مقدس ترین گودوں میں پرورش پا کر سن شعور حاصل کیا،آپؓ کی عمراس وقت سات سال تھی جب حضور نبی اکرم ﷺ نے دار فانی سے عالم جاودانی کی جانب رحلت فرمائی،حضرت ابوبکر صدیقؓ ،حضرت عمر فاروقؓ بھی آپؓ سے بے پانہ محبت و الفت رکھتے تھے،حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں آپؓ عین شباب پر تھے،مفسدین کی سورش کے وقت آپؓ حضرت عثمانؓ کی خلافت کے محافظ تھے،آپ نے اپنے والد ماجد کے ہمراہ جنگ جمل،نہروان اور جنگ صفین میں حصہ لیا،جب حضرت امام حسنؓ نے خلافت سے دست برداری کا اعلان کیا تو آپؓ نے ان کے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی ،56ہجری میں امیر معاویہ نے اہل مدینہ سے یزید کی ولی عہدی کے حق میں بیعت لینی چاہی مگر آپؓ اس بات سے متفق نہ ہوئے،اس پر امیر معایہؓ کو بھی آئندہ کے خطرات کااحساس ہو گیا،انہوں نے یزید کو وصیت کی کہ اگر کبھی حالات تمہیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے لے آئیں تو تم ان کے حق میں اور قرابت نبویؐ کا احساس کر کے در گذر سے کام لینا،رجب60 ہجری میں جب امیر معاویہ کی وفات ہوئی تو اکثریت نے ان کی بیعت کو قبول کر لیامگر انہیں سیدنا امام حسینؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے خطرہ تھا اس نے تخت خلافت پر متمکن ہونے کے بعد بنی ولید بن عتبہ (حاکم مدینہ )کوحکم دیا کہ حضرت حسینؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے بیعت لی جائے،ولید نے سیدنا حسینؓ کو بلا بھیجا آپؓ چند ساتھیوں کے ہمراہ پہنچے ملاقات ہوئی تو اس نے سیدنا امام حسینؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا ،آپ نے فرمایا کہ میں چھپ کر بیعت نہیں کر سکتا عام لوگوں کو بلاؤ گے تو میں بھی آ جاؤں گا،یہ کہہ کر وہ واپس نکل آئے یہی خبر عبداللہ بن زبیرؓ کو ملی تو وہ فوری مدینہ چھوڑ کر مکہ کی طرف نکل گئے،اسی کشمکش میں سیدنا امام حسینؓ محمد بن حنیفہ کے مشورہ پر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے،اسی دوران اہل عراق سے متعدد خطوط اور پے در پے پیغامات ملنے لگے کہ آپ آئیں اور خلافت سنبھالیں،حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کا انتخاب خلافت میں احادیث نبویؐ ،ارشادات و کنایات سے کام لیا گیا بعد میں شوریٰ نے انتخاب کیا مگر یزید کی امارت سے متعلق اس اصول کی پابندی نہ کی گئی سب کو نظر انداز کردیا گیاکہونکہ وہ فاسق اور کبیرہ گناہوں میں ملوث تھا،مکہ مکرمہ پہنچ کرآپؓ نے مسلم بن عقیل کو عراق میں حالات کی تحقیق اور جائزہ کے لئے کوفہ اور ایک قاصد بصرہ کی جانب روانہ کیا،یہ خبر جاسوسوں کے ذریعے یزید تک پہنچ گئی اس نے عبیداللہ بن زیاد کو حکم دیا کہ مسلم بن عقیل کو فوری کوفہ سے نکال دو اگر مزاحمت کرے تو قتل کر دینا ،بصرہ بھیجے جانے والے قاصد کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا،مسلم بن عقیلؓ کو ہانی بن عروہ نے اپنے زنان خانہ میں پناہ دی ،ابن زیاد نے مسلم بن عقییلؓ کو ہر جگہ تلاش کیا مگر وہ نہ ملے آخر اس کے غلام معفل نے اس خفیہ انتظام کا سراغ لگایا،ابن زیاد نے ہانی بن عروہ کو گرفتارکر کے مسلم بن عقیلؓ کی حوالگی کا مطالبہ کیا انکار پرا نہیں شہید کر دیا ان کے قتل کی افواہ پھیلتے ہی ہانی کے قبیلے کے تقریباً18ہزار افرادمسلم بن عقیلؓ کے ہمراہ ابن زیاد کے محل پر حملہ آور ہوئے اس وقت ابن زیاد کے ساتھ صرف50 لوگ تھے انہوں نے محل کا دروازہ بند کر لیا اور چھت پر چڑھ کر لوگوں کو لالچ اور خوف دلایا تو سب وہاں سے منتشر ہونے لگے ،جب30افراد وہاں رہ گئے تو مسلم بن عقیل وہاں سے نکل پڑے اور یہ افراد بھی راستے میں چھوڑ گئے،تب آپ نے ایک عورت کے ہاں پناہ لے لی اسی عورت کے بیٹے نے لالچ میں ان کی یہاں موجدگی کی اطلاع کر دی،ابن زیاد کے سپاہیوں نے اس مکان کا محاصرہ کر لیا یہاں مسلم بن عقیلِ ؓ نے ڈتے رہے اور جواں مردی کے ساتھ لڑنے کے بعد زخمی حالت میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئے تواس وقت محمد بن اشعث نے انہیں پناہ دینے کا وعدہ کر کے گرفتار کر لیا،دربار میں محمد بن اشعث نے ابن زیاد سے کہا کہ میں انہیں پناہ دے چکا ہوں مگر اس بات کو رد کرتے ہوئے فرمان قتل جاری ہو گیا تب مسلم بن عقیل نے اجازت ے کر عمرو بن سعد کو وصیت کی کہ سیدنا امام حسینؓ آرہے ہیں ان کے پاس آدمی بھیج کر انہیں واپس کر دیا جائے،وصت کے بعد مسلم بن عقیل کو بالائی منزل پر لے جا کر شہید کرنے کے بعد لاش کو نیچے پھینک دیا گیا،دوسری جانب مسلم بن عقیل کے پہلے خط میں کہا گیا تھا کہ آپؓ تشریف لے آئیں تمام شہر آپؓ کا منتظر ہے،جس پر سیدنا امام حسینؓ نے جانے کا فیصلہ کیا،آپ کو بہت روکا گیا ،عمرو بن عبدالرحمانؓ نے کہاکوفہ کے لوگ روپے پیسے کے غلام ہیں یہی لوگ آپ سے جنگ کریں گے،چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے انہیںؓ کو خدا کا واسطہ دیا مگر بات نہ بنی تو مایوسی پر کہا کہ اس سفر میں عورتوں اور بچوں کو نہ لے جائیں،ابوبکر بن حارث نے کہاکہ ہم میں سے حضرت علیؓ سے بڑی شخصیت کوئی نہیں مگر اہل عراق نے ان کے علاوہ حضرت امام حسنؓ سے بھی بے وفائی کی ،لیکن سیدنا امام حسینؓ نے اپنا ارادہ نہ بدلا اور اہل بیت کے ساتھ عراق روانہ ہوگئے،احباب انہیں روک رہے تھے مگر تقدیر انہیں منزل میدان کربلا کی جانب کشاں کشاں لے جا رہی تھی،ادھر اہل بیت کرام کا قافلہ منازل طے کر رہا تھا دوسری جانب ابن زیاد نے قادسیہ سے لے کر خفان ،قطقطانہ اور جبل لعلع تک جاسوس اور سوار روانہ کر دئیے تھے، حاجز پہنچ کر آپؓ نے قیس بن مسہر کے ہاتھ اپنی آمد کا خط بھیجا جسے ابن زیاد نے گرفتار کر کے چھت سے گرا کر شہید کر دیا،بطن رحلہ کے مقام پر عبداللہ بن یطیع نے آپؓ سے ملاقات میں انہیں بہت روکا اور اصل حقائق سے آگاہ کیا،لگلبہ میں آپؓ کو مسلم بن عقیلؓ اور ہانی بن عروہؓ کی شہادت کی خبر ملی،کئی نے آگے جانے سے روکا مگر مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے پیش قدمی جاری رکھنے کا مشورہ دیا،زبار کے مقام پر آپؓ کو اپنے قاصد عبداللہ بن بقطر کی شہادت اوت مسلم بن عقیل کی وصیت کا پتا چلا تب آپؓ نے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا۔ہمارے اپنوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے اب اگر کوئی واپس جانا چاہتا ہے تو چلا جائے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہو گی اس پر راستے میں ملنے والے سب واپس نکل گئے صرف وہی جانثار ساتھ رہے جو مکہ سے ساتھ چلے تھے،بطن عقبہ پر آپ کوپھر واپسی کی ترغیب دی گئی جس پر آپؓ نے فرمایا۔خد ا کے حکم کے خلاف نہیں کیاجا سکتا،محرم 61ہجری کا سال شروع ہوا تو شراف کے مقام پرحربن زید تمیمی نے ایک ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ مدمقابل آ ٹھہرا،اس موقع پر آپؓ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایامگر وہ سب ان باتوں سے مکر گئے،اس پر ۔حر۔نے کہا ہمارا کسی قسم کے خطوں سے کوئی تعلق نہیں ہم ابن زیاد کے سپاہی ہیں اور حکم ہے کہ ہم آپ کے ساتھ لگے رہیں یہاں تک کہ آپ کو کوفہ میں ابن زیاد تک پہنچا دیں،قافہ اہل بیت نے واپس لوٹنا چاہا مگر حر نے راستہ روک لیا،البتہ گفتگو کے بعد ۔حر۔نے یہ اجازت دی کہ اگر آپ کوفہ نہیں جانا چاہتے تو نہ کوفہ جائیں اور نہ ہی مدینہ مگر شرط ہے کہ میں ابن زیا د کو اور آپ یزید کو لکھ کر آگاہ کریں،اس قراداد کے بعد آپؓ ایک ایسے راستے پر روانہ ہوئے جس کی آخری منزل المناک منزل کربلا تھی،ابن زیاد کی طرف سے ،حر،کو نیا حکم ملا کہ قافلہ اہل بیت کو ایک ایسے میدان میں گھیر کر لے جائیں جہاں کوئی قلعہ اور پانی کا چشمہ نہ ہو،اس حکم کے بعد حرنے مزاحمت کی ،دو محرم کو قافلہ اہل بیت اپنے آخری مستقر یعنی ۔نینوا ۔کے میدان کرب بلا میں خیمہ زن ہوا،زبیر بن قیس کے مشورہ کہ یا ابن رسول اللہؐ اسی جگہ جنگ آسان ہے جواب ملا،میں اپنی طرف سے لڑائی کی ابتداء نہیں کروں گا،3محرم کو عمرو بن سعد مزید چار ہزار فوج کے ہمراہ آپؓ کے مقابل آن ٹھہرا ،اس نے بات کے لئے قرہ بن سعد کو بھیجا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایامجھے تمہارے ہی شہر والوں نے خطوظ لکھ کر بلایااب اگر میرا آنا تم کو پسند نہیں تو میں لوٹ جاتا ہوں ،اس پر ابن سعد متاثر ہوا اور ابن زیاد کو لکھا تو جواب ملا تم حسینؓ اور ان کے ساتھیوں سے یزید کی بیعت لو اگر وہ بیعت کر لیں تو دیکھا جائے گا،پھر حکم ملا کہ اہل بیت پر پانی بند کر دو،ابن سعد نے 7محرم کو 5سو سواروں کا ایک دستہ دریائے فرات کنارے تعینات کر دیا تا کہ پانی نہ لیا جا سکے،عبداللہ بن ابو حسین شامی نے سیدنا حسینؓ سے مخاطب ہو کر کہاحسینؓ پانی کو دیکھتے ہو کیسا آسمان کے پیٹ کی طرح جھلک رہا ہے لیکن خدا کی قسم تمہیں ایک قطرہ بھی نہیں مل سکتاتم اسی طرح پیاسے مرو گے،جب لشکر اہل بیت پر پیاس کا غلبہ ہوا تو عباس ابن علیؓ 20سواروں کے ہمراہ گئے اور 5سو شامیوں کامقابلہ کرتے ہوئے پانی کی مشکیں بھر لائے،رات کو ابن سعد اور امام حسینؓ کے درمیان گفتگو ہوتی رہی تو آپؓ نے تین تجویز پیش کیں،1یہ کہ یزید کے پاس بھیج دیا جائے،2 واپس جانے کی اجازت دے دی جائے،3کسی سرحدی مقام پر پہنچنے دیا جائے،مگر ابن سعد نے کسی تجویز کو منظور نہ کیا،اسی دوران ابن سعد کو حکم ملا کہ تم حسین کے سفارشی بنتے ہو انہیں ڈھیل دیتے ہو اگر حسینؓ میرا حکم نہیں ماتے تو حملہ کر کے میدان صاف کر دو اور اگر تم اس کے لئے تیار نہیں تو فوج کی کمان ذی الجوش کے حوالے کر دو،9محرم کو عصر کے وقت اس نے فوج کوتیاری کا حکم دیا تو حضرت حسین نے فرمایا کہ مجھے نماز و دعا کیلئے ایک رات کی مہلت دیں ،رات کے وقت حضرت حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو ایک درد ناک خطبہ دیا ،فرمایا الہٰی تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمارے گھر کو نبوت سے سرفراز کیادین کی سمجھ دی اور قرآن کا فہم عطا فرمایا،لوگوں میں نہیں جانتا کہ آج روئے زمین پر میرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ بھی موجود ہیں یا میرے اہل بیت سے زیادہ ہمدرد و غمگسار کسی کے اہل بیت موجود ہیں ،اے لوگو تمہیں خدا جزائے خیر دے کل میرا اور ان کا فیصلہ ہو جائے گا میری رائے ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں خاموشی سے نکل جاؤ اور میرے اہل بیت کو بھی ساتھ لے جاؤ میں تمہیں خوشی سے رخصت کرتا ہوں جس پر اہل بیت بے قراری سے تڑپ اٹھے اور سب نے آپؓ سے وفاداریاور جانثاری کا عہد کیا،پھر نماز کے لئے صفیں آراستہ کی گئیں سیدنا حسینؓ اور ان کے رفقاء ساری رات نماز،استغفار،تلاوت قرآن و دعا مں مشغول رہے جبکہ دشمن رات بھر لشکر حسین کے گرد چکر لگاتا رہا،10محرم 9یا10اکتوبر680ء کو فجر کے وقت ہی عمرو ابن سعد 4ہزار سور لے کر نکلا ،حضرت حسینؓ نے بھی اپنے اصحاب کی صفیں قائم کیں آپؓ کے لشکر میں صرف72افراد جن میں کچھ غلام ،26اہل بیت کے نوجوان اورخاندان نبوی ؐ کی کچھ خواتین اور بچے شامل تھے،جب دشمن کی فوج نے پیش قدمی کی تو مجسمہ ایثار و قربانی اور صبر استقامت کے پیکر نے ان کے سامنے بلند آواز میں تاریخی خطبہ ارشاد فرمایاِ۔اے لوگو،میرا حسب ونسب یاد کرو،سوچو میں کون ہوں پھر اپنے گریبانوں میں نظر ڈالو اور اپنے ضمیر کا محاسبہ کرو،کیا تمہارے لئے مجھے قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا جائز ہے؟کیا میں تمہارے نبی ؐ کی لڑکی کا بیٹا ان کے چچیرے بھائی علیؓ کا فرزند نہیں؟کیا سیدشہید حمزہ میرے چچا نہیں تھے؟کیا ذولجناحین جعفر طیار میرے چچا نہیں؟کیا تم نے رسول اللہﷺ کو میرے اور میرے بھائی کے حق میں یہ فرماتے نہیں سنا (ترجمہ)یہ جوانان جنت کے سردار ہیں،اگر میرا بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے کیونکہ واللہ میں نے اب تک جھوٹ نہیں بولا،تو بتاؤ کیا برہنہ تلراروں سے میرا مقابلہ کرنا چاہئے ؟یہ بات بھی تمہیں میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی ،واللہ اس وقت روئے زمین پر بجز میرے ،میرے نبی کی لڑکی کا بیٹاموجود نہیں ،میں تمہارے نبی ﷺ کا بلا واسطہ نواسہ ہوں ،کیا تم مجھے اس لئے ہلاک کرنا چاہتے ہو کہ کسی کا خون بہایا ہے ،کسی کا مال چھینا ہے ،کہو کیا بات ہے آخرمیرا قصور کیا ہے ؟آپؓ نے بار بار پوچھا مگر کسی نے جواب نہ دیا تو پھر آپ نے بڑے بڑے کوفیوں کا نام لے کر پکارنا شروع کیا اے شیث بن ربیع،اے حجار بن بجر،اے قیس بن اشعث،اے یزید بن حارث کیا تم نے مجھے نہیں لکھا کہ پھل پک چکیہیں زمین سر سبز ہوگئی ہے،نہریں ابل پڑیں،اگر آپ آئیں تو اپنی جرار فوج کے پاس آئیں گے سو جلد آ جائیں،اس پر ان لوگوں نے انکار کیا تو آپ نے چلا کر کہا واللہ تم نے ہی لکھا تھا آخر میں آپؓ نے کہا اگر مجھے پسند نہیں کرتے تو چھوڑ دو میں یہاں سے واپس چلا جاتا ہوں،قیس بن اشعث نے کہا آپ اپنے آپ کو اپنے عم زادوں کے حوالے کر دیں ،آپؓ نے جواب دیا واللہ میں ذلت کے ساتھ کبھی اپنے آپ کو ان کے حوالے نہیں کروں گا،جس وقت ابن سعد نے فوج کو حرکت دی تو ۔حر۔ان سے کٹ کر علیحدہ ہونے لگاتو مہاجر بن اوس نے کہا حر مجھے تمہاری حالت مشتبہ معلوم ہوتی ہے تب حر نے  سنجیدگی سے کہا خدا کی قسم میں جنت یا دوزخ کا انتخاب کر رہا ہوں بخدا میں نے جنت منتخب کر لی ہے یہ کہا اور گھوڑے کو ایڑی لگاکر لشکر سیدنا حسینؓ میں پہنچ گیا اور نہایت عاجزی و انکساری سے معافی کا خواستگار ہوا آپؓ نے است معاف فرما دیا،اس واقعہ کے بعد عمرو بن سعد نے کمان اٹھائی اور لشکر حسینؓ کی طرف یہ کہہ کر تیر پھینکا کہ گواہ رہنا سب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے،اس کے بعد عمرو کی فوج لشکر حسین پر ٹوٹ پڑی جنگ کا بازار گرم ہو گیا اور خون کے فوارے ابلنے لگے،سیدنا امام حسینؓ کے شیر دل سپاہی جس طرف رخ کرتے صفوں کو الٹ دیتے مگر کثیر تعداد دشمن ذرا سی ہی دیر میں پھرہجوم بن کر آتا،چند گھنٹوں میں لشکر حسینؓ کے بڑے بڑے نامور بہادر مجاہد حضرت امام حسنؓ کے صاحبزادے قاسمؓ ،ابوبکر،مسلم بن عوجسہ،حر ،حضرت علی اکبرؓ،عبداللہ بن مسلمہؓ ،جعفر طیارکے پوتے عدیؓ ،عقیل کے فرزند عبدالرحمانؓ ،حبیب بن مجاہد شہید ہو گئیدشمن جب سیدنا امام حسین تک پہنچا تو نماز کا وقت آن پہنچا تھا آپؓ نے ابو تمامہ سے فرمایا دشمنوں سے کہو ہمیں نماز کی مہلت دیں مگر دشمن نہ یہ درخواست منظور نہ کی اور لڑائی جاری رکھی ،کوفیوں نے آپؓ کو ہر طرف سے نرغہ میں لے لیا مگر شہید کرنے کی کسی کو بھی جرارت نہیں ہو رہی تھی کیونکہ کوئی نہیں چاہتا تھا کہ یہ گناہ اس کے سر پر ہو،بالآخر شمر کے اکسانے پر زرعہ بن شریک تمیمی نے بد بختی مول لی اس نے ہاتھ اور گردن پر وار کئے ،سنان بن انس نے تیر چلا یا اور آپؓ گر گئے گرنے پر شمر ذی الحوش آپؓ کی طرف بڑھا تو آپؓ نے اس کی برص زدہ شکل دیکھتے ہی فرمایا،میرے نانا ﷺ نے سچ فرمایا تھا کہ میں ایک دھبے دار کتے کو دیکھتا ہوں کہ وہ میرے اہل بیت کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے اے بد بخت شمر بلاشبہ تو وہی کتا ہے جس کی نسبت میرے نانا ﷺ نے خبر دی تھی اس کے بعد شمر سیدنا امام حسینؓ کا سر پیچھے کی طرف سے کاٹ کر تن سے جدا کر دیا،اس کے بعد ابن زیاد کے حکم پر آپؓ کا سربریدہ جسم گھوڑوں سے روندوایا گیا،پھر تمام شہدائے اہل بیت کے سر نیزوں کی نوک پر پہلے ابن زیاد کے دربار اور بعد میں دمشق میں یزید کے دربار لے گئے،حضرت امام حسین عالی مقامؓ کربلا کے مقام پر مدفون ہیں،