۔،۔امامت ۔ عارف محمود کسانہ-،-

rr

عارف محمود کسانہ
حضرت ابراہیم خلیل اللہ گو ایک فرد تھے لیکن اپنی شخصیت کی جامعیت کے اعتبار سے ایسے تھے کہ ایک پوری کی پوری امت ان کے اندر سموئی ہوئی تھی اسی لئے سورہ النحل میں ہے اِنَّ اِبراھیم کَانَ اْمَّۃً قَانِتًایعنی وہ ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جن میں تمام خوبیاں موجود تھیں۔ قرآن حکیم نے اسی لئے صراحت کے ساتھ رسول اکرم ﷺکے علاوہ اگر کسی اور نبی کی حیات طیبہ کو قابل تقلید نمونہ قرار دیا ہے تو وہ صرف حضرت ابراھیم ؑ ہیں۔ اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت کے عظیم ترین منصب پر فائیز کیا اور آپ نے انسانوں کی امامت کی۔ امام کسے کہتے ہیں، یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ امام لفظ ام سے نکلا ہے جس کے معنی بنیاد اور اصل، مرجع، جماعت اور دین کے ہیں۔ یہ قیادت، رہنمائی اور منزل مقصود کی جانب لے جانے والے رہبر کے بھی استعمال ہوتاہے۔ الامامہ بھی اسی سے نکلا ہے جس کا مطلب آگے ہونا ہوتا ہے۔ یہ دراصل اس دھاگے کو کہتے ہیں جس سے معمار دیکھتے ہیں کہ دیوار کی تمام اینٹیں ایک سیدھ میں درست طور پر آ رہی ہیں یا نہیں۔ اس تشریح سے بھی امام کا مفہوم بہتر طور پر سمجھ میں آسکتا ہے۔ علامہ اقبال نے جو خصوصیات امامت کے لئے لازم ہیں انہی کی طرف اپنے اس شعر میں یوں اشارہ کیاہے کہ
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہ امامت کوئی عام منصب نہیں اور ہمارے ذہنوں میں جو فی زمانہ پیش امام کا تصور ہے یہ اس سے کہیں بلند اور عظیم تر ہے۔ تحریک پاکستان کے ابتدائی دور میں جب نیشلسٹ علماء نے وطن کو قومیت کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ قوم کی تشکیل میں دین نہیں بلکہ وطن معیار ہوتا ہے تو حکیم لامت نے ان کے بارے میں کیا خوب کہا کہ
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!
امی ایک ایسا لفظ ہے جس کا مادہ بھی ام ہے اور اس کا درست مفہوم سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ امی کے بنیادی معنی ایسے شخص کے ہیں جو اپنی پیدائشی حالت پر ہو اور لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔نبی اکرم ﷺکو اسی اعتبار سے اْمِّی کہا جاتا ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ لیکن یہ قبل از نبوت کی بات تھی جبکہ اعلا ن نبوت کے بعد آپؐ لکھنا پڑھنا جانتے تھے جس کی واضح شہادت خود قرآن کریم میں موجود ہے۔ سورہ عنکبوت میں ہے ’’اوراس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی آپ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ورنہ اہلِ باطل اسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتے‘‘ [48:29]۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نزول قرآن سے پہلے آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن نزول قرآن کے بعد یہ کیفیت نہیں رہی تھی۔ قرآن کریم میں خود عربوں کو بھی اُمی کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ لوگ جنہیں قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہیں دی گئی تھی۔نبوت و رسالت کی صورت میں انسانیت کی رہنمائی کے لئے رشد و ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم ؑ سے شروع ہوتا ہوا حضرت ابراھیم ؑ کے توسط سے رسول اکرم ﷺ پر جا کر انتہا کو پہنچا ۔ یہ انقلاب آفرین پیام آگے بڑھتا رہا جس کی علامہ نے یوں وضاحت کی ہے
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
علامہ اقبال نے حضرت امام حسین ؓ کوایک طویل نظم درمعنی حریت اسلامیہ و سِرِ حادثہ کربلا میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں شہادت امام عالی مقام پر اس سے بہتر خراج عقیدت شائد ہی کسی اور نے پیش کیا ہو۔ علامہ نے امام حسین ؑ اور یزید کو حق اور باطل کی قوتوں کے نمائندوں کی حیثیت سے لیتے ہوئے دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے حق کی خاطر خاک و خون میں لتھڑ گئے اس لیے وہ لاالہ کی بنیادبن گئے ہیں
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
بس بنای لا الہ گردیدہ است
اردو کلام میں بھی علامہ نے جابجا جناب امام علی مقام ؑ کی عظیم جدوجہد کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ معرکہ آرائی ہر دور میں جاری رہی اور مستقبل میں جاری رہے گی۔حکیم الامت نے اسی حق و باطل کی کشمکش اور دین کی تاریخ کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا کہ حضرت اسماعیل ؑ کی بارگاہ الہی میں قربان ہونے کی رضا کو نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے شہادت امام حسین ؑ پر اس کا اختتام کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل