۔،۔شہادت امام حسین علیہ السلام جگر گوشہ رسول نور دیدہ زہرہ بتول ،نذر  حسین۔،۔

huss

نذر  حسین

نذر حسین شان پاکستان جرمنی فرانکفرٹ۔ شہادتِ جگر گوشہ رسول نور دیدہ زہرہ بتول راحت جانِ علی و مرتضی سردار جوانانِ اہل جنت حضرت عالی مقام امام حسین ؑ ، حُسین ؑ ابن علی ، جا نشین علی ، سید ا لشہادہ ، ذین ا لعابدین ، لختِ جگر فا طمہ بنتِ محمدﷺ ولادت با سعادت ہجرت کے چھوتھے سال تیسری شعبان کے دن آپ کی ولادت ہوئی( اُس دن چاند زمین پر اُترا)اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالتِما آب ﷺ تشریف لائے، جنت کے سردار کو گود میں لیا، داہنے کان میں آذان دی ، بائیں میں اقامت کہی ، ’’ ا للہ ا للہ ‘‘ وہ لمحہ کیسا ہو گا، وہ منظر کیسا ہو گا ، آپ ﷺخاتم ا لنبین کی چشمِ مبارک کے سامنے میدانِ کربلا ہو گا اہل بیت کی قربانی ، فاطمہ کا لختِ جگر ،نانا کے دین کا رکھوالا ، دین محمدؐ کے لئے سر کٹانے والا،حُسین، آپ نے اپنی زبان مبارک نواسے کے منہ میں دے دی پیغمبر کا مقدس لُعابِ دہن حُسین علیہ سلام کی غذا بنا۔کسی نے کیا خوب فرمایا۔
نہ پوچھ کینویں شاہ مَشرقین بنا -بشر کا حسن عقیدت کا ذیبُ و ذین بنا
علی کا خون لُعاب رسول شیر بتول- ملے جب یہ عناصر تو پھر حُسین بنا
ساتویں دن حقیقہ کیا گیا، آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی مگر آنے والے حالات کا علم صرف پیغمبر کی آنکھوں کے سامنے تھا ،بظاہر تو آپ گہرے سمندرکی طرح پرسکون تھے ، گہرے سمندر اپنے اندر طوفانوں کو بھی پناہ دیئے ہوتے ہیں ،آپؐ کی آنکھیں نم ہو گئیں. پیغمبر کی گود تربیت کا گہوارہ تھا ،ایک حسن اور دوسرا حسین، ایک طرف پیغمبر دوسری طرف امیر ا لمومنین علی ابن طالب ، تیسری طرف فاطمہ بنت محمدؐ، اتنے نورانی ماحول میں پرورشِ حسن و حسین۔ آپ نے ابھی زندگی کی چھ بہاریں ہی دیکھیں تھیں کہ انتہائی محبت کرنے والے کا سایہ سر سے اُٹھ گیا،علی شیر خُدا کا سایہ آپکی زندگی کی پچیس بہاروں تک قائم رہا، جب آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا اس وقت آپکی عمر ا کتیس برس کی تھی.تین انتہائی اہم عناصر ہیں جو کہ امام حُسین کے اس عظیم کربلائی انقلاب میں و جود ر کھتے ہیں جس میں ایک(عقل و منطق) دوسرا جہادو عزت اور تیسرا عنصر عشق و محبت کا ہے.لبیک یا حُسین یعنی ایک ماں اپنے بیٹے کو ا سلام کے دفاع کی خاطر میدان جنگ میں بھیجے اور جب اس کا جوان لال شہیدہو جائے ،شہید کا کٹا ہوا سر اُس کی ماں کو دیا جائے اور وہ اپنے جوان بیٹے کے سر کو خیمے لے جا کر۔چہرے خاک و خون کو صاف کرے اور مخاطب ہو کر کہے بیٹا میں تجھ سے راضی ہوں خدا و ندکریم تیرے چہرے کو آخرت میں نورانی فرمائے تو نے مجھے روز قیامت سب کے سامنے سرخرو کر دیا.حضرت عبد ا للہ بن عباسؓ مرفوعاََ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺنے فرمایا۔میں درخت ہوں اور فاطمہ اس کے پھل کی ابتدائی حالت ہے اور علی اس کے پھول کو منتقل کرنے والا ہے ،حسن اور حسین اس درخت کا پھل ہیں اور اہل بیت سے محبت کرنے والے اس درخت کے اوراق ہیں وہ یقیناََ یقیناََ جنت میں (داخل ہونے والے)ہیں.’’ اس حدیث کو امام دیلمی نے روایت کیا ہے. وجہہ بقائے دین و شریعت حسین ہیں اسلام تیری عزت و حرمت حسین ہیں تاریخ نے وہ ظلم نہیں دیکھا اور نہ ہی تاریخ دیکھے گی،جب تم سے محبت کی ہم نے تب جا کہ کہیں یہ راز کھلا مرنے کا طریقہ آتا ہے جینے کا شعور آجاتا ہے،جب تم کو اپنا کہتے ہیں اپنے پہ غرور آ جاتا ہے،حسین سے بڑھ کر مصطفے کو کون محبوب ہو گا ا للہ ا للہ وہ کیسا منظر ہوتا ہو گا، کئی دفعہ ایسا ہوا کے اگر آپؐ حالت سجدہ میں ہوتے تو امام حسین آپ پر سوار ہو جاتے تو آپؐ اپنے سجدے کو طویل کر دیتے حضور فرماتے تھے یہ میرا پھول ہے ’’حیدر کی جس میں جان ہو خون رسول ہے‘‘ جس کا جنت سے جوڑا منگایا گیا،اُس کا حق کربلا میں ادا کر دیا ،اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا،گھر کا گھر سب سپردخُدا کر دیا اُس حسینؑ ابن حیدر کو لاکھوں سلام،حضور اپنی بیٹی سے فرماتے تھے حسین کو نہ رُلایا کرو.6ہجری بمطابق 3مئی 680ایسوی اپنے خاندان کو امام حسین نے اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا، یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ آپ مدینہ سے جا رہے ہوں اور نانا کے روضہ اطہر پر نہ جائیں ،آپکی والدہ نے بچپن سے ہی سکھایا تھا وہ ہمیشہ آپ کو ساتھ لے کر قبر پر حاضری دیا کرتی تھیں ، ذرا سوچیں وہ کیا عالم ہو گا جب حضرت امام حُسین علیہ السلام اپنے نانا کے روضہ اطہر پر الوداعی سلام پیش کرنے گئے ہوں گے ،اُن کو اور روضہ مبارک میں آپ ﷺ خاتم النبین جن کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر کہ میرا شہزادہ کربلا میں دین محمدﷺ کو بچانے اور شہید ہونے کے لئے روانہ ہو رہا ہے ۔کیا عالم ہو گا ،زمین تھر تھرا نا چاہتی ہو گی ،آسمان پھٹنا چاہتا ہو گا، پہاڑ زمین کو چیرنا چاہتے ہوں گے، سمندر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ چلنے کے لئے بیتاب ہو گا، دریا، ندیاد نالے دریا فرات کی طرف روانہ بہنے کے لئے تیار ہو رہے تھے، چرند و پرند اپنے چونچوں میں پانی بھر کر کربلا کی طرف کوچ کرنا چاہتے ہوں گے، ابابیل اہل بیت کی خدمت کے لئے بیتاب ہوئے ہوں گے، لیکن ان کو اللہ کریم کی طرف سے اجازت نہیں ملی ، نانا کا کیا عالم ہو گا جب امام نبی کے نواسے نے ، سلام اے جد امجدمیرا منہ چومنے والے۔ جوش محبت پر اُٹھا کر گھومنے والے۔ ذرا نظریں اُٹھا کر دیکھئے کس کا نور العین آیا، میرے نانا تیرے در پر تیرا اپنا حسین آیا، کسی نے کیا خوب فرمایا۔ح
تتی سیخ تے مکھن پکانڑا یارو ڈاڈا ہی اوکھا کم اے۔ نیزے دی توک چڑھ قرآن سنانا اے تے سخی حسین دا کم اے
گلاں نال تے ہر کوئی لائی پھردا۔ لا کے توڑ نبھانڑیاں اوکھیاں نے
اصغر اکھاں دے وچ کوہا دینڑا۔ نالے باہیں کٹانیاں اوکھیاں نے
چشم فلک کے سامنے وہ منظر بھی ہو گا جب حضرت حُسین گلی میں کھیل رہے تھے آپﷺ کا گزر ہوا آپ نے دیکھا کے دو جہان کے سردار بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں آپ بھی ان کے ساتھ جب آپ نے حسین کو پکڑا تو ان کا ماتھا چوما اور فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ،اللہ اس سے پیار کرے گا جو اس سے پیار کرے گا۔ اللہ اس سے بغض رکھے گا جو اس سے بغض رکھے گا۔ پھر چشم فلک نے اسی حسین کی گردن کو کٹتے دیکھا ، اس کے بچوں کو نانا کے دین کے لئے ذبح ہوتے ہوئے۔ بچوں کے آنسو ماں باپ کو جھوٹا بنا دیتے ہیں، دغا باز بنا دیتے ہیں، میدان کربلا میں آنسو نہیں بلکہ خون بہہ رہا تھا ، اس حسین قافلہ میں 17اہل بیت شہید ہوئے بعض جگہ انیس اور بائیس کا عدد بھی آتا ہے ،جن میں سے ایک ایک پوری کائنات سے بھی زیادہ حیثیت رکھنے والا تھا ، ترازو کے ایک پلڑے میں ایک کو رکھو دوسری طرف پوری کائنات کو رکھ دو تو ان کا وزن زیادہ تھا ، 72تو جان نثار تھے ،قافلہ میں سب سے خوبصورت حضرت حسن کے بیٹے قاسم تھے۔جب جان نثار ایک ایک کر کے شہید ہو گئے پھر اہل بیت کی باری آئی۔ آپ کے بیٹے علی اکبر نے کہا ابا میری آنکھ آپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی پہلے مجھے مرنا ہو گا پھر آپ کی باری آئے گی، اہل بیت کے پہلے شہید علی اکبر تھے ۔