۔،۔کربلامیں حضرت امام حسینؓ کے روضہ پر لاکھوں زائرین نے حاضری دی۔،۔

huss

نذر حسین

نذر حسین شان پاکستان کربلا عراق۔اہل کوفہ کی دعوت ،مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی، بیعت پر اسرار، یزید کا ذاتی کردار ، مکہ روانگی ، امام حسین کا سفر کوفہ ، میدان کربلا میں آمد، غدار کوفیوں کا شرمناک کردار، رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی،المیہ کربلا اور شہادت عظمی پھر آخر کار سانئحہ کربلا یا واقعہ کربلا یا کربلا کی جنگ 10 محرم الحرام 61ھ*بمطابق 9یا10اکتوبر 680کو بغداد کے جنوب میں 80کلو میٹر پر کربلا کے مقام پر پیش آیا جس کی آبادی تقریباََ 700000لاکھ کے قریب ہو گی اس کا رقبہ تقریباََ 43,7 مربع کلو میٹر بتایا جاتا ہے ۔ جہاں پر حضرت امام حسینؓ ابن علی اپنے نانا کے دین کو بچاتے ہوئے شہید کر دیئے گئے ، حسین ابن علی کے ساتھ 72افراد تھے جن میں 22اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی خواتین و بچے بھی شامل تھے ،حسین قافلہ میں شریک اکثر مرد شہید کر دیئے گئے تھے جبکہ خواتین اور دیگر کو قید کر کے دربار یزید لے جایا گیا۔ اس یزید کا دربار جس کا ذاتی کردار ،ان تمام اوصاف سے عاری تھا جو امیر یا خلیفہ کے لئے شریعت اسلامیہ نے مقرر کئے ہیں۔ سیر وشکار، شراب و شباب اس کے پسندیدہ مشاغل تھے یزید ذاتی حیثیت سے فاسق و فاجر تھا ایسے حکمران کو امام حسین عالی مقام کو تسلیم کرنا کیسے ممکن تھا ۔آج 1337برس گزر جانے کے بعد بھی امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کی لازوال قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لاکھوں زائرین جلوس کی شکل میں شہید کربلا حضرت امام حسین کی روضہ میارک کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور ایک وہ یزید جس کی قبر کا بھی پتہ نہیں کون سے کوڑے کے ڈھیر کے نیچے ہے۔

kl ker ker1