۔،۔ جنگ آزادی کا عظیم ہیرو احمد خان کھرل شہید۔ صابر مغل ۔،۔

sab

صابر مغل
پاکستان کا قیام رب عظیم کا خاص تحفہ اور عنایت ہے ،اسی لئے رب کریم نے اس خطہ ارض کو بعض عظیم ترین انسانوں سے نوازاجن کے انمٹ اور تا قیامت ناقابل فراموش کردار نے وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال ملنا مشکل ہے،گذشتہ روز گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ میں رائے احمد شہید کھرل کی برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے حوالے سے ایک منفرد ،باوقار اور شاندار تقریب کا اہتمام اوکاڑہ کی ممتاز ادبی تنظیم ۔روش ۔اور سٹی پریس کلب اوکاڑہ کے اشتراک سے کیا گیا،اس تقریب میں مہمانان خصوصی میں ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشن اوکاڑہ خورشید جیلانی،پرنسپل کالج ظفر علی ٹیپو،سابق صدر بار اوکاڑہ رائے محمد شفیع کھرل ،صدر بار سید زاہد محمود گیلانی،ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی رہنماء عابدحسین مغل ، جنرل سیکرٹری بار رائے اقرار،رائے ظفر علی ،رائے خالد سرور ایڈووکیٹ کے علاوہ الراقم بھی شامل تھا،انتظامیہ میں غلام مصطفےٰ مغلجی ، احتشام جمیل شامی ،مظہر رشید چوہدری ،عرفان رشید چوہدری ،عباس جٹ شامل تھے،اس موقع پر مقررین خورشید جیلانی ،ظفر علی ٹیپو ،رائے محمد شفیع ،رائے خالد سرور،زاہد گیلانی اور عابد حسین مغل نے رائے احمد خان کھرل کو بے حد خراج تحسین پیش کیا،مقررین نے جہاں اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش گیا وہیں یہ بھی کہا کہ رائے احمد خان کھرل پورے پنجاب میں جنگ آزادی کے حوالے سے ایک انتہائی قد آور شخصیت تھے مگر اسی علاقہ میں رہنے والی سب سے بڑی قوم جو کھرل ہی ہے نے صرف ان کے نام پر اپنی سیاست چمکائی مگر ان کی ان مجاہدانہ خدمات جن کے سبب پاکستان بننے کی راہ بھی ہموار ہوئی پر کچھ کرنے سے ہمیشہ اجتناب برتتے رہے،بلاشبہ ایسے کردار وں کو کسی بھی تحسین کی ضرورت نہیں ہوتی اللہ کریم نے انہیں وہ مقام عطا فرما رکھاہوتا ہے جہاں ہماری پہنچ ممکن ہی نہیں ،وہ عظیم تھے عظیم رہیں گے ، تا قیامت ان کا نام لیا جاتا رہے گا مگر پھر بھی زندہ قومیں ہمیشہ اپنے اسلاف کو یاد رکھتی ہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں ،یہ ان دنوں کی بات ہے جب بر صغیر پر مغلیہ دور کے بعد انگریز نے اپنے قدم یہاں مکمل طور پر جما لئے تھے ،اس کی رعیت میں ایک ایسا وسیع و عریض علاقہ آ گیا ،بہادر شاہ ظفر اور اس کی اولاد نے رہی سہی کسر نکال دی تو پنجاب میں سکھ کی حکمرانی کا آغاز ہو گیا،1849میں انگریزوں نے سکھ حکمرانوں سے اقتدار چھین کر پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا تو راوی کے علاقے میں اس نے کھرل ،فتیانہ کاٹھیہ و دیگر خود دار قوموں پر قابو پانے کے لئے پاکپتن ،اوکاڑہ ،منٹگمری ،گوگیرہ اور ہڑپہ کے علاقوں پر مشتمل ایک ضلع بنا دیا جس کا صد مقام پہلے پاکپتن پھر گوگیرہ بنا یہاں انگریز نے جیل ،بخشی خانہ اور عدالتیں بھی قائم کیں، معروف تاریخ دان محمد حسین کے مطابق انگریز افسر لارڈ برکلے نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا گوگیرہ کے عین دوسری جانب راوی پارجھامرہ سے تعلق رکھنے والے رائے احمد خان کھرل اور سارنگ خان بھی برکلے سے ملے اس موقع پر انگریز افسر نے بغاوت سے نبٹنے کے لئے گھوڑے اور جوان مانگے تورائے احمد خان کھرل نے بے خوف و خطر آنکھ میں آنکھ ڈال کر اسے جواب دیا کہ صاحب اس علاقہ میں کوئی بھی اپنا گھوڑا،عورت اور زمین نہیں چھوڑتا، یہ کہہ کر جواب سنے بغیر احمد خان انگریز افسر کو سکتہ میں چھوڑ کر باہر نکل گیا ،یہ وہ دور تھا جب ہر جانب انگریز غالب ہو گیا،انیسویں صدی کے نصف آخر میں بر صغیر میں برطانوی استعمار کے خلاف نفرت و تشدد کا جو زبردست طوفان اٹھا اسے مؤرخین اپنے اپنے نقطہ نظر کے لحاظ سے ایک طرف سورش،ہنگامہ ،سرکشی ،غدر اور بغاوت کہا تو دوسری طرف اسے تحریک آزادی ،جدوجہد آزادی ،انقلاب 1857اور جنگ آزادی جیسے معزز ناموں سے بھی یاد کیا،انگریز کو یہاں بہت بڑی برتری حاصل ہو چکی تھی ،سب سے پہلے میرٹھ میں فوج کے ہندوستانی دستوں نے بغاوت کا علم بلند کیا تو انگریز تسلط کے خلاف نفرت اور تشدد کا زبردست طوفان اٹھا جس کی صدائے بازگشت موجودہ پاکستان کے کونے کونے میں سنائی دی ، احمد خان کھرل موجودہ ضلع فیصل آباد کے علاقہ ساندل بار میں ساندل بار کے علاقہ جھامرہ میں1776میں کھرل اگنی کلا راجپوت رائے نتھو خان کے ہاں پیدا ہونے ہوئے جس نے انگریز سامراج کی پالیسیوں کاللکارا اور ماننے سے انکار کر دیا،سونکئی سردار گیان سنگھ ،خزان سنگھ اور بھگوان سنگھ ان کے چچا رائے صالح خان کھرل کو اپنا بھائی مانتے تھے ،رائے صالح کا آخری وقت آیا تو اس نے سرداری کی پگڑی اپنے بیٹے کی بجائے بھتیجے رائے احمد خان کے سر پہ رکھ کر کھرل برادری کی سرداری اسے سونپ دی، رائے احمد خان کھرل نے نا مساعد حالات اور کم ترین وسائل کے باوجود 81سال کی عمر میں انگریز کے خلاف بغاوت کی،اسی دوران انگریز نے یہاں سے مجاہدین کی کثیر تعداد کو گرفتار کر کے بنگلہ گوگیرہ جیل میں نہ صرف بند کیا بلکہ کئی ایک کو پھانسی پر بھی لٹکا دیا،مئی ،جون اور جولائی کے مہینوں میں یہاں گھمسان کی جنگ جاری رہی ،26جولائی 1857کو رائے احمد خان کھرل نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ جیل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا ، تاریخ دانوں کے مطابق راوی کی روایت کو اگر کسی پر فخر ہے تو وہ احمد خان کھرل ہے جس نے بر صغیر پر قابض انگریز سامراج کی بالادستی کو کبھی تسلیم نہ گیا اور بالآخر ان کے خلاف لڑتے ہوئے جان دے دی،رائے احمد خان کا غیرت مندانہ کردار بلاشبہ ایک انمٹ علامت ہے،انگریز ان سے اتنا خوفزدہ اور اپنی کامیابی کے درمیان انہیں اتنی بڑی رکاوٹ تصور کرتا تھا کہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لئے دس فوجی دستے کرنل پیٹن،لیفٹیننٹ چینٹر،کیپٹن چیمبرلین،کیپٹن سنو،کیپٹن میک اینڈریو،لیفٹیننٹ رینوائل اور اسسٹنٹ کمشنر لارڈ برکلے کی کمان میں یہاں موجود تھے،اس سے پہلے لارڈ برکلے نے سائیوال کے ماؤٹن اور اس نے ملتان کے میجر ہملٹن کو ان کے بارے خط لکھا ،اس دوران دیکھتے ہی دیکھتے رائے احمد خان کھرل کے چرچے چھاؤنیوں ،کچہریوں اور گھر گھر تک پہنچ گئے ،16ستمبر1857کو کمالیہ میں زمینداروں کا ایک اجلاس ہوا جس کی مخبری ہوئی تو اگلے دن اسسٹنٹ کمشنر کی انگریزی فوج نے جھامرے کا محاصرہ کر لیا،عورتیں اور بچے قید ،تمام مال مویشی قبضے میں کرنے کے بعد گاؤں کو آگ لگا دی ،20ستمبر کو احمد خان کھرل نے بنگلہ گوگیرہ سے چند میل دور گشکوریاں میں ایک اجلاس بلایا تو رات کو کمالیہ اور کھرل برادری سے تعلق رکھنے والے سردار سرفراز کھرل نے اسی رات لارڈ برکلے سے ملاقات کر کے مخبری کی تو اگلی صبح کیپٹن بلیک کی کمپنی رسالہ لے کر روانہ ہوئی بعد میں اے سی برکلے بھی گشکوری جنگل میں پہنچ گئے اس وقت اس علاقے کا بہادر ترین مجاہد نماز پڑھ رہا تھا جب درختوں میں چھپی انگریز فوج نے حملے کا حکم دیا تو دھارے سنگھ یا گلاب رائے بیدی نے گولی چلائی جس سے اس دھرتی کا عظیم سپوت شہادت کا رتبہ حاصل کر گیا،وہ ماہ محرم کا دسواں دن تھا اس معرکہ میں ان کے بھتیجے مراد کھرل اور سارنگ کھرل شہید ہوئے،اس معرکے میں 20 انگریز جہنم واصل ہوئے ،انگریز نے رائے احمد خان کھرل کا سر تن ست جدا کر کے بنگلہ جیل میں کڑے پہرے میں نیزے پر لٹکا دیا جسے اسی جیل میں تعینات جھامرہ کے ہی ایک سپاہی نے گھڑے میں ڈال کر جھامرہ لے جا کر دفن کر دیا،ایک سو دس سال بعد کھدائی کے دوران جب وہ گھڑا ملا تو رائے احمد خان کا چہر ہ،آنکھیں سلامت،داڑھی کے بال ویسے ہی،رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے دوسرے روز اے سی لارڈ برکلے کا سامنا دریائے راوی کے کنارے مراد فتیانہ اور سوجا بھدرو سے ہو گیا جنہوں نے اسے بھی جہنم کا راستہ دکھادیا،انگریز حکومت نے مراد فتیانہ اور سوجا بھدرو کو گرفتار کر کے کالے پانی بھیج دیا تھا،راے احمد خان کھرل شہید کی قیادت میں اور بہت سے ایسے نام ہیں جو اس وقت اپنی مثال آپ تھے اور کئی گم نام کردار جن کا نام بار گاہ الہٰی میں تو زندہ ہے،حکومت رائے احمد شہید یسے سپوت کے نام پر اپنا کردار ادا کرے ،ابھی حال ہی کسی کی کوششوں سے فیصل آباد میں گیٹ والا چوک کو ان کا نام دیا گیا ہے ،ان کا مرتبہ ،رتبہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا،ساہیوال کی تنظیم لوک سجاگ بھی شفیق بٹ کی سربراہی میں اس حوالے سے بہت متحرک ہے،بہرحال ادبی تنظیم روش اور سٹی پریس کلب اوکاڑہ اس حوالے سے دادکے مستحق ہیں جنہوں نے ایک مجاہد کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا۔