۔،۔ ختم نبوت ؐ پر ترمیم ،زاہد حامد اور حکومتی اعتراف ( پہلو۔صابر مغل)۔،۔

sab

صابر مغل
یوم عاشورہ کے دو روز بعد ہی حکومتی سطع پر کئی گئی انتخابی اصلاحات کے بعد گھنٹوں میں صدر مملکت کے دستخط،مسلم لیگ(ن) کے آئین کے تبدیلی اور پھرکنونشن سنٹر اسلام آباد میں حکومتی پارٹی نے میاں نواز شریف کو آئندہ چار سال کے لئے پارٹی صدر بھی منتخب کر لیا،پاکستانی عوام ،مذہبی اورسیاسی رہنماؤں کو اس ترمیم کا جب بخوبی پتا چلا کہ نئی انتخابی اصلاحات میں ختم نبوت سے متعلقہ ترمیم میں فارم Aمیں لفظ حلف (قسم) کو اقرار(اعلان) میں بدل دیا گیا ہے تو ملک بھر میں تشویش ناک لہر دوڑ گئی ،ہر کوئی حیران ،ہر کوئی پریشان کہ کیا ہو گیا ،کس کے کہنے پر ہوا ،کس کی خوشنودی کے لئے ہوا؟مگر حکومت ڈٹی رہی کہ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا،عام شہریوں،تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ ،تحریک حرمت رسول ؐ ،پاکستان علماء کونسل ،جماعت الدعوۃ اور الحمد سمیت دیگر پارٹیوں نے شدید رد عمل کا اظہا کیا،سیاسی لیڈران نے نیوز چینلز پر آ کر سخت احتجاج کیا،نیوز چینلز پر اینکرز پرسن اور مہمان برسے ، پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرے میں امیر علامہ خادم حسین رضوی ،پیر افضل قادری،پیر اعجاز اشرفی،مولانا وحید نور نے شرکت کی جنہوں نے اس ترمیم پر 6اکتوبر کو یوم تحفظ نبوت منانے کا اعلان کیا ، پاکستان علماء کونسل کے چیرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ اس آئینی ترمیم سے پوری قوم اضطراب کا شکار ہے،تحریک تحفظ حرمین الشرفین کے قائد علامہ زبیر احمد ظہیر،ریاض الرحمٰن یزدانی نے کہا ،قادیانیوں کو یہ رعایت دینے پر1974سے بھی بڑی تحریک چلا کر ذمہ دار کو نشان عبرت بنا دیں گے،تحریک حرمت رسولﷺ کے چیر مین مولانا امیر حمزہ ،عبدالرحمان مکی،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ،حافظ عاکف سعید ،سیف اللہ خالد،یعقوب شیخ،محمد خان لغاری،علامہ ابتسام الہٰی ظہیر،عبدالرؤف فاروقی،اعجاز چوہدری،عبدالغفار روپڑی،سید کفیل شاہ بخاری اور راشد علی نے کہا اراکین اسمبلی کے حلف نامے میں ترمیم حرمت رسول ﷺ اور ختم نبوت کے خلاف بہت بڑا جرم ہے،چیر مین سنی اتحاد کونسل حامد رضا کی زیر صدارت جامعہ رضویہ لاہور میں منعقدہ 30اہل سنت جماعتوں نے شرکت کی جن کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کیاجائے گا،پاکستان علماء کے مرکزی چیر مین او ر ممبر اسلامی نظریاتی کونسل صاحبزادہ زاہدمحمود قاسمی،مولانا عبیدالرحمان،پیر جی خالد محمود قاسمی ،مولانا شاہ نواز فاروقی،حافظ سیف الرحمان قاسمی،مولانا یونس حسن، علامہ شبیر احمد عثمانی اور مولانا خالد محمود سرفرازنے کہااقتدار کے تحفظ کے لئے ختم نبوت کے قانون کے ساتھ کسی کو بھی نہیں کھیلنے دیں گے،علامہ ڈاکٹرطاہر القادری نے اس ترمیم کو طاغوتی ایجنڈا قرا ردیا،قارئین کرام جب یہ سب ہو چکا تب پاکستان کی قسمت کے والی وارثوں کے خوشامدی وفاقی وزیر قانون زاہدحامد نے انوشہ رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی وہ کاغذوں کا پلندہ تھامے صحافیوں کو دکھا رہے تھے کہ یہ دیکھو اس میں ہم نے کیا ترمیم کی ہے ؟سب وہی ہے ہم تو ختم نبوت کے حوالے سے کچھ ترمیم کا تصور بھی نہیں کر سکتے،انہوں نے ملک بھر میں ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا اور کہا یہ سب جمہوری قوتوں سے مل کر کیا گیا اس بل کی منظوری جمہوری نظام کا استحکام ہے، سیاسی مخالفین صرف ذاتی مفادات کے لئے شور شرابا کر رہے ہیں آئین سے ختم نبوت سے متعلق شق نہیں نکالی توبہ استغفار میں تو ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،ان کی حمایت میں صرف ایک مذہبی رہنماء کی بات سن کر سر شرم سے جھک گیا کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟ نواز شریف کے قریبی ساتھی علامہ ساجد میر نے نمک خواری کا حق ادا کرتے ہوئے کہاجو لوگ اصلاحات بل پر تنقید کر رہے ہیں وہ انگریزی سیکھیں،نئے نویلے وزیر طلال چوہدری نے کہا ختم نبوت کی شق ختم کرنے کا الزام گھٹیا لوگوں نے لگایا،قصہ مختصر زاہد حامد نے ملک بھر میں ہونے والی تمام تنقید کو یکسر مسترد کر دیا،دوسرے دن لاہور اور سندھ ہائی کورٹس میں درخواستیں جمع کروانے کے بعد قانون دان ذوالفقار بھٹہ نے آئین کے آرٹیکل184/3کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ان کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل63/Aکے تحت پارٹی صدر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول کرتا ہے ،آئین کا آرٹیکل3استحصالی سے روکتا ہے لیکن اس ترمیم کے تحت نا اہل شخص کسی اہل شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ووٹ دینے سے منع کر سکتا ہے اور موجودہ قانون سازی آئین کے بنیادی انفراسٹرکچرسے متصادم ہے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی بیرسٹر فروغ نسیم کے ذریعے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ان کے مطابق کسی ایک شخص کے لئے قانون کو ہی بدل ینا ملک کے ساتھ بھیانک مذاق ہے اور مذکورہ ترمیم کے ذریعے ختم نبوت کے قانون کو تبدیل کرنا مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل کرنا ہے تا کہ اقتدار کے لئے ان کی پشت پناہی حاصل رہے ،اس تمام تر صورتحال پر قوم کی طرف سے شدید رد عمل آنے پرحکومت پریشان ہوئی تو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق میدان میں اتار گیا جنہوں نے اپنے چیمبر میں سیاسی رہنماؤں کو بلا کر انہیں یقین دلایا کہ ختم نبوت سے متعلق ترمیم واپس لے لی جائے گی،وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور وہ فوج سے بریگیڈئیر کے عہدے سے ریٹائر شدہ ہیں بعدمیں فارن سرس جوائن کی ،نواز شریف نے ان کے بھائی شاہد حامد کو گورنر پنجاب تعینات کیا تھا،ملازمت چھوڑ کر شعبہ وکالت اور سیاست سے وابستہ ہوئے،1997میں نواز شریف نے انہیں ڈائریکٹر جنرل انوائر مینٹل پروٹیکش مقرر کیا،پرویز مشرف کی آمد اور نواز شریف کے سعودی عرب جانے کے بعد وہ پرویز مشرف سے مل گئے ان کے دور حکومت میں موصوف وزیر قانون تھے جس نے ان کے لیڈر کو ملک بد ر کیا،2008میں دوبارہ پارٹی جوائن کی اور حلقہ این اے114سے تیسری بار منتخب ہو کر پھر وزیر قانون بن گئے اور اب تو وزیر ترمیم بھی وہی ہیں،غیر ملکی تعلیم یافتہ دو مرتبہ وزیر قانون رہنے والا کس کے کہنے پر کس کے اشارے پر یہ بھول گیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(ترجمہ)محمد ؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے(الاحزاب۴۰)،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ۔میں محمدؐ ہوں ،میں احمدؐہوں،میں ماہی ؐہوں جس نے کفر ختم کیا،میں عاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کئے جائیں گے (یعنی میرے بعد اب بس قیامت ہی آنی ہے) اور میں عاقب ہوں( اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو)(ترمذی،التاریخ)،زاہد حامد کا کاغذلہرا لہرا کر کس کو بیوقف بنا رہے تھے؟اتنا جھوٹ اتنی ڈھٹائی سمجھ سے بالا تر ہے ان کی بات ٹھیک تھی تو سپیکر ایاز صادق نے اس شق میں ترمیم کرنے کا وعدہ کیوں کیا؟وہ مان گئے کہ غلطی ہوئی ہے زاہد حامد کے دعوے کہاں گئے ؟ ضروری ہے کہ ایسے لوگوں ے نہ صرف وزارت لی جائے بلکہ پارٹی سے بھی نکالا جائے مگر ایسا ہو گا نہیں ،یہ سب کچھ ایسے نہیں ہو اایسے کاموں کے تانے بانے بہت دور سے منسلک ہوتے ہیں ،یہ لوگ اتنے بھی ان پڑھ ،جاہل یا پاگل نہیں تھے کہ انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ وہ کر کیا رہے ہیں؟لوگوں کے احتجاج پر کہتے ہیں یہ کتابت کی غلطی تھی سبحان اللہ ایسی تاویلوں،دلیلوں پر،طلال چوہدری بھی وضاحت کر دیں کہ اس تبدیلی پر شور مچانے والے گھٹیا لوگ تھے یا کوئی اور گھٹیااگر کچھ ملی جذبہ ہے توجو کوئی گھٹیا تھا یا ہے اس کا نام بتائیں گے کیا؟امیر سراج الحق جماعت اسلامی کہتے ہیں حکومت کی جانب سے ترمیم لینے پر خوشی ہوئی کیا بات ہے جماعت اسلامی کی ناکامی کی وجہ ہی ایسی سوچ اور سیاست ہے وہ ترمیم واپس لینے پر خوش ہو رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کہ ایسا ہوا ہی کیوں؟ اس کے تانے بانے کہاں ملتے ہیں ؟اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور شیری رحمان نواز شریف کو ایک بار پھر پارٹی صدر منتخب ہونے پر مبارک دیتے ہیں،رات کو چوہدری شجاعت حسین کا بیان سامنے آیا کہ ایسے اقدام کسی صورت قابل قبول نہیں اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہرقانونی چارہ جوئی کریں گے،مجھے کیوں نکالا کا جواب پی ٹی آئی کے جہانگیر نا اہلی کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس نے دیا، پانامہ فیصلہ حقائق پر کیا گیا کیونکہ عدالت سے بہت کچھ چھپایا گیا تھا۔ترمیم میں ختم نبوت سے متعلق جس کسی نے بھی بے غیرتی کی اصل ذمہ دار کون ہے؟ یہ بے نقاب کئے جانے تک عاشق رسولﷺ کسی بھی مصلحت سے دور رہیں ،بلا شبہ ترمیم کی کوشش کرنے والے اسلام کے دشمن ہیں ۔