-،-استاد کا مقام عظیم ترین ۔۔ تحریر ۔صابر مغل -،-

sab

صابر مغل

فاتح عالم سکندر اعظم ایک مرتبہ اپنے استاد ارسطو کے ساتھ ایک گھنے جنگل میں سے گذر رہے تھے کہ اچانک راستے میں ایک بہت بڑا برساتی نالہ آ گیا،بارش کی وجہ سے نالہ میں شدید طغیانی تھی تیز لہریں خوفناک منظر مگر دوسری جانب جانا بھی ضروری تھی ،استاد شاگرد کے درمیان بحث ہونے لگی کہ اس خطرناک نالہ کو پہلے کون پار کرے گا،سکندر اعظم بضد تھا کہ پہلے وہ اس نالہ کو عبور کرے گا جبکہ شاگرد اس بات پر راضی نہیں ہو رہا تھا آخر کار ارسطو کو سکندر اعظم کی بات ماننا پڑی ،پہلے سکندر نے نالہ پار کیا پھر ارسطو نے نالہ عبور کر کے سکندر سے پوچھا ،کیا تم نے پہلے نالہ پار کر کے میری بے عزتی نہیں کی ؟نہیں استاد مکرم میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے ،ارسطو رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہو سکتے ہیں لیکن سکندر ایک بھی ارسطو تیار نہیں کر سکتا،جنہیں استاد کی قدر و منزلت کا علم ہوتا ہے وہ سکندر اعظم جیسے ہی ہوتے ہیں جس نے پوری دنیا فتح کر لی مگر استاد کا احترام اس میں مزید بڑھتا چلا گیا،جس شخص میں تھوڑا سا بھی شعور ہے وہ زندگی بھر استاد کی عزت و تکریم میں اضافہ کرے گا ،انسان دنیا میں کبھی بھی تنہا وقت نہیں گذارا سکتا وہ کئی رشتوں ،ناتوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے ان میں سے کچھ رشتے اور تعلق خونی جبکہ بہت سے رشتے اور تعلق روحانی ،اخلاقی اور معاشرتی طور پر بنتے ہیں ان ہی میں سے ایک رشتہ استاد کا بھی ہے استاد کو معاشرے میں روحانی استاد کا درجہ حاصل ہے ،اسلام میں استاد کا رتبہ والدین کے رتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے دنیا میں والدین کے بعد اگر کسی پر بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ استاد ہی ہے ،معلم یعنی استاد کو معلم کی طرح اتالیق بھی کہتے ہیں جو ترکی زبان کے دو الفاظ ،اتا،جس کے معنی سردار یا بزرگ کے ہیں اور لیق جو صفت کا لاحقہ ہے کے ملنے سے بنے ہیں،استاد ہی والدین کے بعد وہ واحد شخصیت ہے جو ہمیں دنیا میں جینا ،رہنا ،ہنر ،مہارتیں،مذہبی ،معاشرتی اخلاقیات سمیت طالب علم کی صلاحیتوں کو ابھارتا سکھاتا اور نکھارتا ہے، اس کا تمام کام دوسروں کے لئے ،ٹیکنالوجی اور معلو مات اور معاشرے کے لئے ہوتا ہے ، استاد یا معلم طالب علم کی مدد سے ہر طرح کی معاونت کرتا ہے معاشرے کی تعمیر و ترقی اور علم کی ترویج میں استاد ہی وہ کردار ہے جسے مرکزی حیثیت حاصل ہے،استاد وہ عظیم رہنما ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی میں تفریق کرنا سکھاتا ہے ،اس کی تربیت کرتا ہے ،اسے ایک ایسی زندگی عطا کرتا ہے جو اسے مرنے کے بعد بھی جاوید رکھتی ہے ،کسی بھی معاشرے میں استاد کا کردار طرز معاشرت پر ہوتا ہے استاداپنی نوعیت کے اعتبار سے بہت زیادہ مقدس اور قابل احترام سمجھا جاتا ہے کیونکہ معلم ہی بچوں کی اچھی تربیت اور تعلیم دے کر اپنی قوم کے مستقبل کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے، استاد ہی نونہالان چمن کی تعلیم وتربیت کا اصل ضامن ہے ،تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے لوگوں کے کسی گروہ کی عادات اور اہداف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں،تعلیمی عمل کا مرکز و محور صرف اور صرف استاد ہی ہے،دنیا میں ماں کے بعد انسان کے لئے سب سے بڑی پناہ گاہ علم ہے اگر اس حوالے سے دیکھاجائے تو علم تو ایک استاد ہی سکھاتا ہے پناہ علم میں ہے تو پھر علم دینے والے استاد کا کیا رتبہ و مرتبہ ہو گا؟استاد صرف علم ہی نہیں سکھاتا بلکہ اس کی بہترین تربیت کر کے اسے معاشر ے کا ایک ذمہ دار شہری بنانے میں روزانہ کی بنیاد پر احسن کردار ادا کرتا ہے،آج دنیا ترقی کی معراج پر ہے یہ سب ترقی استاد کی ہی مرہون منت ہے،ذمہ دار ،مہذب اور ترقی کے راز کو سمجھنے والی قوموں نے ہمیشہ استاد کے احترام کے اصول کو اولیت دی ،آغاز اسلام میں دنیا کے تمام نامور دانشور ،فلسفی اور سائنسدانوں کا تعلق اسلام سے ہی تھامگر بعد میں مسلم قوم کے نزدیک یہ شعبہ زوالی کی جانب رواں ہوتا چلا گیا جس کی بنیادی وجہ استاد کے احترام میں کمی تھی،آج بھی تمام ترقی یافتہ ممالک خواہ وہ غیر مسلم ہیں یا مسلم وہاں استاد کے احترام کو حد درجہ دیگر تمام عہدوں پر ترجیح دی جاتی ہے،پاکستان کے ممتاز دانشور اشفاق احمد مرحوم لکھتے ہیں ،روم (اٹلی)میں میرا ٹریفک چالان ہوا،مصروفیت کے باعث چالان کے جرمانہ کی فیس بر وقت ادا نہ کرسکا،مجبوراً وہاں عدالت جانا پڑا ،جج کے سامنے پیش ہوا تو اس نے فیس ٹائم پرادا نہ کرنے کی وجہ پوچھی ،میں نے کہا کہ پروفیسر ہوں مصروف ایسا رہا کہ وقت ہی نہیں ملا،اس سے پہلے کہ میں اپنی بات مکمل کر پاتا جج نے کہا۔ A Teacher is in the court۔اور سب لوگ جج کا یہ جملہ سن کراٹھ کھڑے ہوئے ،جج نے التا مجھ سے معافی مانگ کر چالان کینسل کر دیا، اس روز میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا،پاکستان کا ایک وقعہ جو مجھے ایک استاد نے بتایا کہ وہ ساتھی ٹیچرزکے ہمراہ موٹر سائیکل پر امتحانی مرکز ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکار نے ہمیں روک لیا،وہ ٹریفک پولیس جس کو بھی روکتی نذرانہ لے کر جانے دیتی میں یہ سب دیکھ رہا تھا میں نے ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی کو بتایا کہ بھائی ہمیں جلدی ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہو رہے ہیں ہمیں اجازت دیں اس نے پوچھا کس ڈیوٹی پر جا رہے ہیں بتایا کہ ہم تینوں استاد ہیں امتحانی ڈیوٹی پرجا رہے ہیں ،یہ سن کر وہ ہنس پڑا اور بولا اچھا استاد جی کوئی بات نہیں یہ پکڑیں چالان چٹ اور بینک میں پیسے جمع کرا کر رجسٹریشن کاپی واپس لے لینا، یہاں استاد کا احترام یوں کیا جاتا ہے،دنیا بھر میں استاد کا احترام انتہائی بلندی پر ہے بلکہ پاکستان میں یہ گراف نیچے نہیں بلکہ پست ترین اور شرمناک سطع پر ہے،ضلعی،صوبائی اور مرکزی لیول پر کوئی بھی سرکاری کام ہو اس میں استاد کو نہ صرف جھونک دیا جاتا ہے بلکہ اسے کوئی اچھوت سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ افسران کا رویہ بھی انتہائی ہتک آمیز ہوتا ہے،حالانکہ کوئی چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عہدیدار سیاسی ،عسکری و سول سب استاد کی ہی اچھی تربیت اور محنت کے بل بوتے ہیں اس مقام پر ہیں ان میں شعور اور ادراک کا پہناوا صرف استاد کا ہی پہنایا ہوا ہے،شاعرمشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایک کمیٹی میں شمس العلما کے خطاب کے لئے اپنے استاد میر حسن کا نام پیش کیاتو کمیٹی کے تمام اراکین نے پوچھا کیا کہ ان کی کوئی تنصیف ؟علامہ اقبال نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا،میں ہوں ان کی تنصیف،یہ جواب سن کر اراکین حیرت میں پڑ گئے اور علامہ کی بصیرت کی داد دی، وہ استاد ہی انسان کے بکھرے ہوئے خیالات کو ایک تخیل عطا کرتی ہے جو علامہ اقبال کی صورت میں انقلاب برپا کر دیتی ہے،وقت میں تغیر و تبدیلی قدرتی عمل ہے مگر استاد کا احترام ہر جگہ موجود رہا مگر اس بدلتے وقت نے انسانی معاشرے میں کچھ ایسی بیہودہ برائیوں کو بھی جنم دے دیا جو کہ معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں انہی برائیوں میں سے ایک برائی استاد کا احترام نہ کرنا شامل ہے،استاد کے احترام کا حق ادا کیا ہی نہیں جا سکتا ،جتنی کسی کے دل میں علم کی لگن ہو گی قدرتی طور پر وہ اتنا ہی اپنے استاد کا احترام کرے گا ،اس کی بات دھیان سے سنے گا،علم اور علم کی وجہ سے کتاب سے بھی محبت کرے گا اور پڑھانے والے کو بھی سر آنکھوں پر بٹھائے گا،ہمارے مذہب میں استاد کے ادب کو بہت بڑی بلندی پر رکھا گیا ہے اور استاد کی قدر اسلامی تربیت کا اہم حصہ ہوتی ہے ،حضرت علیؓ کو قول مبارک ہے۔جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اس کا غلام ہوں وہ چاہے مجھے بیچے یا آزاد کر دے یا غلام بنائے رکھے،ابو داؤدمیں مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا۔بوڑھے مسلمان،عالم و حافظ،عادل بادشاہ اور استاد کی عزت کرنا تعظیم خداوند میں داخل ہے ،دنیاکے کم و بیش ہر قدیم معاشرے میں بھی استاد کا احترام اپنی جگہ ایک حقیقت رکھتا ہے،خدا کی قدر کیجئے زمانہ ا آپ کا قدر دان ہو گا بلاشبہ ۔