۔،۔ ختم نبوت کی شق کا خاتمہ اور نواز شریف کی پارٹی صدارت ( پہلو ۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
اقتدار ،اختیار کا نشہ انسانی زندگی میں یوں سرایت کر چکا ہے کہ وہ موقع ملنے پر آئین اور قانون کو بھی اپنا تابع کر لیتے ہیں اس نشہ سے انسان اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ ختم نبوت جیسی شق کو بھی روائی کے گالوں کی طرح اڑا پھینکتا ہے، کچھ ایسا ہی گذشتہ روز مقدس پارلیمنٹ میں شام سے قبل مشرف اور نواز شریف کے دور کے وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابی اصطلاحات سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا جسے آئینی ماہرین اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے کالا اور آئین سے متصادم قانون قرار دے دیا،(زاہد حامد وہی شخصیت ہیں جنہوں نے این آر او جیسا گھٹیا قانون بھی تیار کیا تھاجیسے دانیال عزیز نے مقامی حکومتوں کا مسودہ تیار کر کے مشرف کے حضور پیش کیا تھا)،گذشتہ کئی سال سے انتخابی اصلاحات پر بات چیت جاری تھی کہ اسی دوران جولائی کے آخر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بینچ نے پانامہ کیس کی طویل سماعت کے بعد آئین کے آرٹیکل1۔ 62(الف) کے تحت وزارت اعظمیٰ سے میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دئے دیا،اس فیصلہ کے لحاظ سے میاں نواز شریف نہ صرف وزارت اعظمیٰ سے فارغ ہوئے بلکہ آئینی طور پراپنی سیاسی پارٹی مسلم لیگ(ن) کے سربراہ بھی نہیں بن سکتے تھے،حکومت نے بہت پہلے قومی اسمبلی میں ایک بل پاس کرایاجس پر دیگر سیاسی جماعتوں کو شدید تحفظات تھے ،عہدے سے نا اہلی کے بعد23ستمبر کو سینٹ میں پی پی پی کے سینئر سینیٹر اعتزاز احسن نے اس بل میں ترمیم پیش کی کہ کوئی شخص اسمبلی کا رکن بننے کا اہل نہ ہو وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا،اس تر میم پر ووٹنگ ہوئی تو حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق203میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کر لی ،اس کامیابی کے بعد نواز شریف کے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموارکر دی گئی ،اس بل کی منظور میں اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر ایم کیوایم ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے بھرپور کردار ادا کیا،قومی اسمبلی سے ترمیم کی گئی انتخابی اصطلاحات2107 کے نکات کے مطابق 1۔ہر وہ شہری جو سرکاری ملازمت کا عہدہ نہیں رکھتا وہ ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ سکے گا، دوسری صورت ایک سیاسی جماعت سے منسلک ہو سکے گا،سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اور ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار منتخب ہو سکتاہے،2۔جب ہر شہری ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرے گا تو اس کا نام بطور سیاسی جماعت کے ریکارڈ میں درج کیا جائے گا اسے رکنیت کا کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی جاری کی جائیں گی جس سے سیاسی جماعت کی رکنیت ظاہر ہوتی ہے،3۔کوئی بھی شہری ایک وقت میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعت کا رکن نہیں بن سکتا،4۔سیاسی جمات خواتین کو رکن بننے کی حوصلہ افزائی کرے گی اور 5۔سیاسی جماعت کا رکن پارٹی کے ریکارڈ تک رسائی کا حق رکھتا ہے،ماسوائے دیگر اراکین کے ریکارڈ کے۔پولیٹیکل پارٹیز(پی پی او)2002میں درج ہے کہ ایسا کوئی شخص سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا جو رکن قومی اسمبلی بن سکتا یا اسے آئین کے آرٹیکل 62/63کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہو،پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ریاست ہے جس میں ایک شخصیت جو کہ آئین کے آرٹیکل62/63پر پورا نہیں اترتی اور اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سامنے آ جائے تب اسی شخصیت کے انفرادی مفاد کے لئے ایک ایسی شق شامل کر دی جائے جو ہر لحاظ سے آئین کے منافی اور متصادم ہواس بل میں انتخابی اصطلاحات کی241شقیں15ابواب اور8مختلف قوانین کو یکجا کیا گیا ہے بل کے متن کے مطابق آئندہ انتخابات اسی قانون کے تحت ہوں گیاس ترمیم کے تحت انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اس حلف نامہ کو بھی ختم کر دیا گیا جو ختم نبوت سے متعلق ہے اب کوئی بھی نا اہل یا سزا یافتہ شخص کسی بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ یا عہدیدار بن سکتا ہے اور کسی بھی رکن اسمبلی کی نا اہلی کی مدت پانچ سال کر دی گئی ہے، اپوزیشن لیڈر نے اس کی مخالفت کی ،جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے قومی اسمبلی میں الیکشن بل ترامیم پر کہا بل میں ترامیم پیش کیں مگر ہم سے شق 203کے حوالے سے حقائق چھپائے گئے اور اس شق سے حقائق چھپانا حکومت کی بد دیانتی ہے، اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی تقریر تاریخ کا حصہ رہے گی انہوں نے کہامسلم لیگ کو بارٹی سربراہی پر بھائی پر بھی اعتماد نہیں ایک آدمی کے لئے قانون ہی بدل دیا گیا جو جمہوریت کے نقصان دہ ہے یہ لوگ انتخابات کی حرمت سے کھیلنے جا رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے ترازو پر راکٹ مار دیا گیا ہے آج جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جا رہی ہے یہیں سے حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے بل میں سے ختم نبوت کے قانون کو نکال گیا کہاں ہیں مذہبی رہنماء مولانا فضل الرحمان ؟مولانا فضل الرحمان کے والد اور جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی نے 1953میں قادیانی مسئلہ کے نام پر ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی تھی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا انہیں سزائے موت کی سزا سنائی گئی جسے انٹرنیشنل علماء کرام کے پاکستانی حکومت سے روابط اور دنیا کے کئی مسلم ممالک میں مظاہروں کے بعد ان کی سزائے موت ختم کی گئی اور دو سال بعد ان کی رہائی حاصل ہوئی اسی تحریک کے نتیجہ میں ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیدیا آئین اور قانون میں اس حوالے سے شقیں شامل کی گئیں جو نواز شریف کی نا اہلی کے بعد حذف کر دی گئیں ہیںیہ ایجنڈا کیسے بنا کس نے بنوایا ،کس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسا کیا گیاکچھ علم نہیں بہرحال ایک اسلامی ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنا ہر لحاظ سے شرمناک عمل ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کوئی بھی مسلمان ایسا ہونا یا کرنا تصور ہی نہیں کر سکتا بہرحال ہمارے عوامی نمائندوں جو مسلمان بھی ہیں نے اس قانون کو منظور کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ سیاسی رہنماء جو مذہبی جماعتوں کے سربراہ یا ان سے تعلق رکھتے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ ،قومی اسمبلی سے اس نئی اور انوکھی ترمیم کے بعد وزارت پارلیمانی امور نے بل وزیر اعظم ہاؤس اور وہاں سے آگے بل کی منظور کے لئے صدر مملکت کو بھیجا گیا جو کراچی میں تھے راتوں رات منظور کردہ مسودہ وہاں بھیج کر دستخط کروائے گئے ،دوسری جانب مسلم لیگ(ن) نے ابھی اپنے آئین کی دفعہ 120کو ختم کر دیا یہ وہ ترمیم تھی کہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص پارٹی کا صدر بن سکتا ہے ،میاں نواز شریف کو قومی اسمبلی سے ترمیمی بل کے تقریباً20گھنٹے بعد چوتھی بار مسلم لیگ (ن)کا صدر مملکت منتخب کر لیا گیا شیر کا نشان دوبارہ مل گیا،نواز شریف پاکستان میں وہ پہلے شخص ہیں جو نا اہلی کے بعد بھی سیاسی جماعت کے سر براہ بن چکے ہیں ، سپریم کورٹ سے نا اہل شخص جو خود ممبر قومی اسمبلی تو نہیں بن سکتا البتہ وہ ممبران بننے والوں کے لئے ٹکٹیں تقسیم کرے گا وزیر اعظم بھی اسی کا نامزد کیا گیا شخص بنے گا،پاکستان میں جمہوریت زندہ باد،اس ترمیم اور نواز شریف کی پارٹی کی سربراہی سے جمہوریت دشمن قوتوں کو منہ کی کھانی پڑی ،قوم کو بھی مبارک ہو حال میں کی گئی منگائی جیسے بجلی کے نرخوں، پٹرول بم اور دیگر ضروری چیزوں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اب یقینی طور پر ختم ہونے کو ہے یہ خوشخبری بہت جلد پارلیمنٹ کے مقدس ایوان سے ہی ترمیم کی شکل میں عوام کے سامنے آئے گی یہ عوامی نمائندے ہیں کس کے لئے۔؟ ہمیں کیوں نکالا ؟مجھے کیوں روکا؟اور روک سکتے ہو تو روک لو ۔بھائی کسی میں ہمت نہیں کوئی آ پ سے ایسی جرات کرے جنہوں نے کی ہے پتا نہیں ان کا کیا حشر ہو گا؟ آپ کو ختم نبوت جیسی ترمیم ختم کرنے بھی مبارک ہو ،
مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے قدم اٹھالیا ہے اب رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کرنے والا شخص بھی پاکستان کا صدر بن سکتا ہے۔