۔،۔ 8اکتوبر 2005پاکستان میں قیامت صغریٰ کا دن ۔ ( پہلو ۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
آٹھ اکتوبر2005 ہفتہ کے روز صبع8/51پر چند دوستوں کے ساتھ ایک کھلی جگہ بیٹھا تھا کہ ایک دم پاؤں سے زمین سرکتی محسوس ہوئی پاس درخت کو دیکھا تو لگا ابھی گر جائے گا اسی کے نیچے چار موٹر سائیکلز کھڑی تھیں مگر ہمت نہیں ہوئی کہ انہیں ہی وہاں سے سائیڈ پر کر لیا جائے سامنے ساہیوال سے آنے والے بجلی سپلائی کی مین لائن گذر رہی تھی اس کی تاریں یوں ہل رہی تھیں جیسے انہیں جھلایا جا رہا ہو یہ سب کچھ زندگی میں پہلی مرتبہ محسوس کیا کچھ دیر بعد زمین ساکت ہوئی تو ذہن میں آیا کہ آج پتا نہیں پاکستان میں کیا قیامت گذری ہو گی ،گھر پہنچ کر ٹی وی آن کیا تو اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10میں رہائشی بلڈنگ مارگلہ ٹاورز کی تباہی کا علم ہوا ،وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تباہی کے سارے دھارے کھلتے چلے گئے کیونکہ ابتدائی طور پر میڈیا اور حکومت کا سب فوکس اسی بلڈنگ پر ہی تھا اس ہولناک زلزلہ کے نتیجہ میں آزادکشمیر کا زمینی راستہ پاکستان سے مکمل طور پر کٹ چکا تھا اس قیامت خیز زلزلہ نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے ہزارہ ڈویژ ن میں تباہی و بربادی کی تاریخ رقم کر دی زلزلے کے جھٹکے اس قدر شدید تھے کہ لوگ دیوانہ وار خوفزدگی کے عالم میں گھروں،دفاتر اور کاروباری مراکزسے باہر نکل آئے ، سڑکوں میں بڑی دراڑیں پڑ گئیں یا پہاڑی تودوں سے سڑکیں بند ہو چکی تھیں مواصلات کا نظا م مکمل طور پر تباہ ہوگیا،ستم یہ کہ حکومتی سطع پر زلزلے کے نقصانات کا اندازہ لگانے میں 48گھنٹے سے زائد کا عرصہ صرف ہوگیا،تب صدر مملکت کے احکامات پر گوجرانوالا اور سیالکوٹ سے فوجی دویژنوں کو زلزلہ زدہ علاقہ کی طرف روانہ کیا گیا،زلزلے نے سکولوں،سرکاری و پرائیویٹ عمارتوں،دفاتر گھروں اور فیکٹریوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل کے رکھ دیا سڑکوں میں اس قدر شگاف کہ جیسے راستے کوئی ندی ہو،یہ زلزلہ تمام ادوار میں ہونے والے زلزلوں کے المیے کے لحاظ سے 14بڑا زلزلہ تصور کیاجاتا ہے،اس زلزلے کے نتیجہ میں رپورٹس کے مطابق 86ہزار سے زائد ہلاکتیں ،ایک لاکھ سے زائد شہری زخمی اور3.3ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے مالی نقصان الگ،تمام سکول کھلے ہوئے تھے اسی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں بچوں کی ہی تھیں زیادہ تر بچے منہدم ہونے والی سکولوں کی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ،کئی آبادیاں،کئی گاؤں کئی قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گئے دکھ اور درد کے سیلاب نے سب کچھ گھیر لیا،تاریخ میں پہلی بار اس آفت کے بعد لائن آف کنٹرول کو 5مقامات سے کھول دیا گیاتا کہ لوگوں کو بآسانی صحت اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے اس تناظر میں دنیا بھر سے امدادی ادارے پاکستان پہنچے،اس شدید زلزلے میں زیادہ ہلاکتیں مظفر آباد،باغ،نیلم ویلی،راولا کوٹ،چکوٹھی،مانسہرہ،بکریال،بالا کوٹ،بٹ گرام،گڑھی حبیب اللہ اور ڈاڑدوکے علاقوں میں نوٹ کی گئیں،اس تباہی و بربادی پر دنیا کے کئی ممالک سعودی عرب،اٹلی،سپین ،قطر،سنگا پور،نیوزی لینڈ،سوئٹرزلینڈ،سویڈن،فن لینڈ،چین ،لکسمبرگ،برطانیہ،ماریشس،قبرس،میکسیکو اور امریکہ وغیرہ کے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیوں ،ورلڈ بینک،ورلڈ فوڈ پروگرام اور ایشیائی بینک نے پاکستان کو اس آفت سے نبٹنے کے لئے جس رقم کا اعلان کیا وہ6.8بلین ڈالر تھی مگر ایک سال بعد تک صرف1.6ارب ڈالر ہی مل سکے( حیرت یہ کہ ایک انتہائی قریبی برادر اسلامی ملک نے بھی اعلان کردہ امداد نہ دی)، جب کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کا تخمینہ1261ارب روپے تک کا تھا،حکومت نے متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کر دیا جن کی مکمل آباد کاری ایک سال بعد بھی مکمل نہیں ہوئی جبکہ اس مقصد کے لئے بنایا جانے والا ادارہ ایر امیں بھی بدعنوانیوں کے چرچے زبان زد عام ہو گئے،دنیا کی تاریخ حادثات اور قدرتی آفات سے بھری پڑی ہے ،حادثات اور تمام قدرتی آفات میں زلزلے سے بڑھ کر کوئی اور آفت وحشت ناک نہیں کیونکہ یہ بغیر پیشگی اطلاع کے ایک دم رونما ہوتا ہے یوں ذہنی طور پر اس کا سامنا کرنے کی تیاری کا کسی کو بھی وقت نہیں ملتا،دنیا میں زلزلوں کی ہلاکت خیزی جنگوں ،وبائی امراض ،سیلاب،طوفان اور بیماری وغیرہ سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے لاکھوں انسانی آبادیاں زمین بوس اور اس کے بڑے بڑے حصے صفحہ ہستی سے مٹ گئے،ایک رپورٹ کے مطابق اب تک8کروڑ سے زائد انسان صرف زلزلوں سے ہلاک ہو چکے ہیں مالی نقصانات کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا،زلزلوں کو وجوہات کو سائنس نے بہت بیان کیا ہے مگر روایت ہے کہ جب بھی تیز ہوا چلتی تب نبی اکرم حضورﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا ،عجب کیفیت طاری ہو جاتی تو پوچھنے پر فرمایا ۔ماضی میں ایسے ہی قوموں پر عذاب آئے اسی وجہ سے مجھے خوف آتا ہے کہیں میری امت پر یوں عذاب نہ آ جائے، قیامت کے بارے میں بھی اللہ کریم جل جلالہ فرماتے ہیں۔کھڑ کھڑانے والا شدید جھٹکا اور کڑک(پر شئے )کو ،کھڑ کھڑا دینے والاشدید جھٹکا اور کڑک کیا ہے؟اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ (ہر شئے کو) کھڑکھڑادینے والے شدید جھٹکے سے مراد کیا ہے؟(اس سے مراد)وہ یوم قیامت ہے جس دن (سارے)لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہو جائیں گے اور پہاڑ رنگ برنگی دھنکی ہوئی اون کی طرح ہو جائیں گے ( سورہ القاریہ)، کسی نے آپﷺ سے پہاڑوں کے بارے عرض کیا تو فرمایا میرا رب تو ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا،اس موقع پر اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے،استغفار کا ورد کرنا چاہئے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ہے،حضرت امام شافع ؒ نے فرمایا۔زلزلے کو کوئی اس کے اپنے گناہوں اور اللہ کی ناراضگی کے حوالے سے نہیں سوچتا،سائنس کے مطابق زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں قدرتی طور پر آنے والے زلزلوں کو ٹیکٹونک جبکہ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے جو زلزلے آتے ہیں انہیں نان ٹیکٹونک کہتے ہیں،زلزلے کی لہریں پانی میں پتھر پھینکنے سے گولائی میں پیدا ہونے والی لہروں کی طرح چاروں طرف25ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھیلتی ہیں نرم مٹی اور ریت کے علاقے میں یہ نہایت تبا ہ کن ثابت ہوتے ہیں،بحری زلزلوں یعنی سونامی سے سمندر سے وسیع لہریں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے بعض تو ایک سے دو سو میل تک پھیل جاتی ہیں جبکہ لہروں کی اونچائی40فٹ تک ہوتی ہے،زمین کی بالائی پرت اندرونی طور پر تین مختلف پلیٹوں میں منقسم ہیں جب زمین کے اندرونی کرے میں موجود پگھلے ہوئے مادے جسے جیولوجی کی زبان میں میگما کہتے ہیں میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے تو یہ پلیٹیں بھی اس کے جھٹکے سے یوں متحرک ہو جاتی ہیں جیسے کنوئیر بیلٹ پر رکھی ہوتی ہیں میگما ان پلیٹوں کو کھسکانے کا کام کرتا ہے یہ پلیٹیں ایک دوسرے کی جانب سرکتی ہیں اوپر نیچے ،پہلو میں یا ان کا درمیانی فاصلہ بڑھ جاتا ہے زلزلہ یا آتش فشانی عمل زیادہ تر ان علاقوں میں رونما ہوتا ہے جو ان پلیٹوں کے Jointپرواقع ہیں،زلزلے سے تباہی کا تعلق جھٹکوں کی ریکٹر سکیل پر شدت ،فالٹ یا دراڑوں کی نوعیت ،زمین کی ساخت اورتعمیرات کے معیار پر ہوتا ہے ،دنیا کے وہ خطے جہاں زیادہ زلزلے پیدا ہوتے ہیں کل تین پٹیوں تقسیم ہیں،پہلی پٹی جو مشرق کی جانب ہمالیہ کے پہاڑوں سے ہوتی ہوئی انڈیا،پاکستان کے شمالی علاقوں ،افغانستان اور ترکی سے گذرتی ہوئی بر اعظم یورپ اور یوگوسلاویہ سے فرانس کے کوہ ایلمپسس تک ہے،دوسری پٹی بر اعظم شمالی امریکہ کے مغربی کنارے پر واقع الاسکاکے پہاڑی سلسلے سے شروع ہو کر جنوب کی طرف راکیز ماؤنٹین کو شامل کر کے میکسیکو سے گذر کر بر اعظم جنوبی امریکہ کے مغربی حصے میں واقع کولمبیا،ایکواڈوراور پیرو تک چلی جاتی ہے جبکہ تیسری پٹی بر اعظم ایشیا کے مشرق پر جاپان سے شروع ہر کر تائیوان سے گذرتی ہوئی جنوب میں جزائر فلپائن ،برونائی،ملائیشیا اور انڈونیشیا تک پہنچ جاتی ہے،دنیا میں50فیصد زلزلے کوہ ہمالیہ ،روکیز ماؤنٹین اور کوہ سینڈیز جو تینوں پٹیوں میں واقع ہیں پیدا ہوتے ہیں،40 زلزلے ساحلی علاقوں کے قریب و جوار میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ باقی10فیصد زلزلے دنیا کے ایسے پہاڑی علاقوں میں جو نہ تو مکمل پہاڑی اور نہ ہی ساحلی ہیں وہاں آتے ہیں،جب زمین کی پلیٹ جو تہہ در تہہ ،مٹی ،پتھر اور چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے کسی ارضیاتی دباؤ کاشکار ہو کر ٹوٹی یا اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو سطح زمین پر زلزلے کی لہریں پیدا ہو کر چاروں طرف پھیل جاتی ہی ں جہاں پلیٹ کا مرکز ہوتا ہے وہHypo Centreکہلاتا ہے اس کے عین اوپر سطح زمین پر زلزلے کا مرکزEpi Centreکہلاتا ہے یہ لہریں نظر نہیں آتیں مگر ان کی وجہ سے سطح زمین پر موجود ہر شئے ڈولنے لگتی ہے اور تباہی و بربادی کا سلسلہ شروع،پاکستان میں اب تک ریکٹر اسکیل 6سے زائد شدت کے22 زلزلے آ چکے ہیں جن میں اس زلزلہ کے علاوہ دنیا کے دس بڑے زلزلوں میں سے دو جن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ان میں13اگست1868 کو پیرو میں اڑھائی لاکھ سے زائداور 26دسمبر2004کو سماٹرا میں بھی پونے تین لاکھ کے قریب افراد کی ہلاکت ہوئی شامل ہیں،پاکستان میں چمن کے قریب بہت بڑا جیالوجیکل فالٹ ہے جو پاکستان اور افغانستان میں 850کلومیٹر سے پٹی بنتی ہے،پاکستان میں وہ علاقے جو اکثر زلزلوں کی زد میں ان میں گلگت،کوہستان،لداخ اور سکردو شاک زون،مین قراقرم ٹھرسٹ(زور کا دھکا)،ریزی تھرسٹ،سالٹ رینج ٹھرسٹ،بنوں فالٹ،مین باؤنڈری تھرسٹ،مکران کوسٹل تھرسٹ،ہمالین فرنٹل تھرسٹ،جہلم فالٹ،کالا باغ فالٹ،کرم فالٹ،آرسینک فالٹ،کتھار فالٹ،کچھ مین لینڈ فالٹ،ریکوٹ فالٹ،پنجال خیر آباد تھرسٹ،پب فالٹ اور کھیر تھر فالٹ شامل ہیں،8اکتوبر کا دن ہر سال پوری قوم کو سوگوار کر دیتا ہے مگر جن کے اپنے گئے،دیکھتے ہی دیکھتے ملبے کے ڈھیروں میں دب کر جہان فانی سے کوچ کر گئے ،کئی کنبے کے کنبے ہلاک ہوئے،کسی کا باپ گیاکسی کی ماں گئی،کسی کے معصوم لخت جگر گئے ، ہزاروں بچے بے یارو مدد گار ہو گئے،وہ کیسی گھڑی تھی جب سب کچھ دیکھے ہی دیکھتے ملیا میٹ ہوگیا،ان کا کیا حال ہوا ہوگا ؟اوپر سے کئی عالمی اداروں اور دوست ممالک نے کہہ کر بھی ہمیں امداد نہ دی ،اللہ رب العزت ہم پر رحمت اور اس المناک آفت کے نتیجہ میں جان آفرین کے حوالے کرنیوالوں کی مغفرت فرمائے یہ میری نہیں ساری پاکستانی قوم کی دعا ہے۔