۔،۔ تیارپاکستان۔1122کا آگاہی پروگرام ( پہلو۔۔ صابر مغل) ۔،۔

sab

پہلو۔۔ صابر مغل
ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک انفارمیشن اوکاڑہ خورشید جیلانی نہ صرف بہترین ،مخلص ترین دوستوں بلکہ ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن میں میرے استاد ہونے پر مزید قابل احترام رتبہ اختیار کر گئے ان کی محبت ،شفقت اور خلوص ناقابل بیان ہے گذشتہ روز میں اوکاڑہ شہر پہنچا تو شرف ملاقات کے لئے ان کے آفس کا رخ کیا وہ ابھی تشریف نہیں لائے تھے ان کے تمام سٹاف نے انتہائی عزت بخشی جیسے ہی خورشید جیلانی آئے ملے اور انتہائی عجلت میں مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ لے گئے انہوں نے بتایا کہ کالج میں پنجاب ایمر جنسی سروس (PES)،1122،کی جانب سے ایک تقریب میں شرکت کرنا ہے ہم پرنسپل ظفر علی ٹیپو کے پاس پہنچے وہ ایک انتہائی ملنسار اور اپنے کام کے حوالے سے ایک عظیم شخصیت ہیں ، اس کالج میں ظفر علی ٹیپو کی بطور پرنسپل تعیناتی کے بعد کالج کے حالات ہی یکسر تبدیل ہو گئے نظم و ضبط ،تعلیمی معیار ،خوبصورتی اور غریب طلبا کی مدد ان کی شخصیت کے عظیم پہلو ہیں کبھی لاہور اور ملتان کے درمیان صرف گورنمنٹ کالج ساہیوال ہی وہ واحد کالج تھا جسے کالج کہا جا سکتا تھا مگر اب یہ اعزاز اوکاڑہ کالج حاصل کر چکا ہے بلا شبہ پرنسپل ظفر علی ٹیپو ضلع اوکاڑہ میں تعلیمی لحاظ سے عوام مسیحا سے کم نہیں ہیں، ان کے آفس میں ریسکیو1122کے ضلعی آفیسر اور جواں جذبہ کے حامل چوہدری ظفر اقبال اور سینئر صحافی شہباز ساجدبھی موجود تھے، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اوکاڑہ اقبال ڈھلوں بھی وہاں پہنچ گئے اقبال ڈھلوں سے بھی پرانی یاد اللہ ہے ان سے بھی مل کر بہت خوشی ہوئی ،کالج کے لائیبریری ہال میں 1122 کی جانب سے حکومت پنجاب کی ہدایت پر ہفتہ آگاہی کے سلسلہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جا رہا تھا صوبہ بھر میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی تقاریب کو تیار پاکستان کا نام دیا گیا ہے ،ملکی سطح پر تمام تر مشکلات ،مصائب ،لوٹ مار،بدعنوانی اور کرپشن کے باوجود فی زمانہ اگر پنجاب میں کوئی پوری طرح فعال اور ہمہ اقسام کی کرپشن سے پاک ، انسانی ہمدردی سے سرشار تنظیم جس کے صوبہ بھر میں اہلکار دن رات عوام کی خدمت اور مدد کے لئے ہر وقت تیار نظر آتے ہیں تو وہ قابل فخر محکمہ پنجاب ایمر جنسی سروس(PES) 1122 ہی ہے،جذبے جوان ہوں،انسانیت کی اصل اساس پر کوئی کاربند ہو تو ساتھ خدائی مدد بھی شامل ہو جاتی ہے 8اکتوبر2005کو پاکستان کے علاقوں آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں آنے والے المناک ،بد ترین اور وحشت ناک زلزلے نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہو گیا اسی زلزلے میں ہونے میں ہونے والے شہدا ء اور متاثرین کی یاد میں ہی پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ 1122کے زیر اہتمام صوبہ بھر میں قدرتی آفات زلزلوں ،سیلاب اور دیگر تمام نوعیت کی ایمرجنسی سے نبٹنے کے لئے شعورو آگاہی اجاگر کرنے کے لئے تیار پاکستان کے نام سے ہفتہ منانے کا فیصلہ کیا گیا جو بہت خوش آئند بات ہے ،کیونکہ شعور و آگاہی و بیداری اور ادراک ہونے کا عمل انسانی زندگی کو محفوظ بنانے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں ،ہال اساتذہ اور طلبا سے بھر ا ہوا تھا پرنسپل کالج پروفیسر ظفر علی ٹیپو ،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشن اوکاڑہ خورشید جیلانی ،ڈائریکٹر کالجز اقبال ڈھلوں اور پروفیسر ریاض احمد خان تقریب کے مہمان خصوصی تھے جبکہ سینئر صحافی شہباز ساجد اور مظہر رشید چوہدری ،عرفان رشید چوہدری بھی موجود تھے،پروفیسر ریاض احمد خان جو بطور نیوز کاسٹر،اینکر پرسن بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں نے بچوں کو اپنے خطاب میں طلباء کو یوں مسحور کیا کہ جیسے ان پر سحر طاری ہو گیا ہو، انتہائی معنی خیز اور مشعل راہ خطاب پر انہوں نے خوب داد وصول کی،ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک انفارمیشن خورشید جیلانی نے نے بتایا کہ یہی کالج ان کا مادر علمی ادارہ ہے انہوں نے شرکاء سیمینارمیں اپنے بہترین تجربات کی بنا پر شعور و آگاہی کو بیدار کرنے کی بھرپور کوشش کی ان کی تقریر مزاح کے ساتھ ساتھ بہت پر اثر ہوتی ہے،پرنسپل پرو فیسر ظفر علی ٹیپو ایک مثالی کالج کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی زوق رکھنے کے علاوہ عشق رسولﷺ میں بھی ڈوبے ہوئے ہیں وہ اپنی ہر تقریر کا آغاز اپنے ہی نعتیہ کلام کے چند اشعار سے کرتے ہیں،ظفر علی ٹیپو نے قوم میں شعور و آگاہی کے اس پروگرام کے اقدام پر حکومت پنجاب کو سراہا اور توقع ظاہر کی کہ اس سے نئی نسل کو بھی حفاظتی تدابیر کے لئے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا،تمام مقررین نے ضلعی ریسیکو انچارج کی محنت اور لگن اور خراج تحسین پیش کیا،ڈی ای او چوہدری ظفر اقبال نے کہا پاکستان کا ہر شخص ہر طالب علم پنجاب حکومت کے ڈیزاسٹرمینجمنٹ آگاہی کے نعرہ ،تیار پاکستان،کی عملی تعبیر ہونا چاہئے تاکہ ہم کسی بھی قدرتی آفات اورحادثات میں نہ صرف اپنی جان بچا سکیں بلکہ اپنے اہل خانہ ،اہل محلہ اور شہر کے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے بھی ایک مؤثر کردار اد اکر سکیں ،یہ مہم 12سال قبل آنے والے المناک ،وحشت ناک اور ہلاکت خیز زلزلے کی یاد میں شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے اور مستقبل میں پاکستان قوم کو اس قدر آگاہی و بیداری سے روشناس کرانا ہے تا کہ خدا نخواستہ آئندہہ کسی بھی نوعیت کی آفت یا حادثہ میں اپنا اور دوسروں کا بچاؤ کرنے کے قابل ہو سکے ،ایسے سیمینارز کا انعقاداوکاڑہ شہر کے تمام اہم تعلیمی اداروں میں کیا جا چکا ہے اوریہ دائرہ کار یونین کونسل لیول تک پربھی تربیتی پروگرام کئے جائیں گے،آخرمیں شرکاء نے آگاہی کے لئے تصویری نمائش بھی دیکھی ،اس سروس کو ابتدائی طور پر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر اکتوبر2004کو لاہور میں لانچ کیا گیاتھا جس کے پہلے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر لاہور ڈاکٹر احمد رضوان تھے،ایک سال بعد آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے کئی علاقے المناک زلزلے نے تباہی و بربادی پھیلائی تو اس سروس کی ضرورت کو مزید ضروری سمجھا کیا ،14مئی2013کو صرف14ایمبولینس کے ساتھ راولپنڈی میں اس سروس کا آغاز ہوا ،آج یہ سروس پنجاب کے کونے کونے میں ہے تمام سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینس بمعہ ڈرائیور اس محکمہ سے منسلک کر دئے گئے ہیں جس سے صوبہ بھر میں پھیلی ایمبولینسز کا غلط استعمال مکمل طور پر رک چکا ہے اب صرف یہ ایمبولینسز فوری امداد کے لئے صرف ایک کال کے فاصلہ پر ہے ،کال ریسیو ہونے کے بعد ریسکیو ٹیم کے موقع پر پہنچنے کا اوسطاً ٹائم7منٹ ہے ،دیکھتے ہی دیکھتے ہی سروس دنیا بھر میں رول ماڈل کی شکل اختیار کر گئی ، پاکستان اس خطہ کا واحد ملک ہے جو کم وسائل اور مشکلات کے باوجود عوام کو دنیا کی بہترین سہولیات مہیا کر رہا ہے ،بھارت،بنگلہ دیش،سری لنکا اور عرب ممالک میں بھی ایسی کوئی سروس نہیں ،امریکہ میں اس سروس کا نمبر911جبکہ برطانیہ میں 999نمبر مخصوص ہے مگر ان دو ترقی یافتہ ممالک میں دی جانے والی تمام ریسیکیو سروس کا سروس لینے کے لئے مکمل معاضہ ادا کرنا ہوتا ہے ،پاکستان میں اس ریسکیو سروس کے لئے برطانیہ سے ماہرین نے عملہ کو ٹریننگ دی بلکہ تمام عملہ کو میڈیکل کی تربیت بھی لازم ہے، ،1122کی ایمرجنسی کے تین اہم مقاصد ہیں ،کیمیونٹی سیفٹی پروگرام،ریسکیو اینڈ فائر سروسز اور ایمرجنسی ایمبولینس سروس، ضلعی ایمرجنسی آفیسر ہر وقت ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہ کر کام کرتا ہے اب یہ سروس حادثات،سیلاب ، کمیونٹی سیفٹی،جانوروں کو ریسکیو کرنا وغیرہ شال ہیں جو عوام کو ایک ہی چھت تلے میسر ہیں جبکہ اس سروس کی مزید بہتری کے لئے ٹریننگ سسٹم ،ریسرچ ،مانیٹرنگ کے نظام کو بنا کر اس میں مزید نکھار پیدا کیا جا رہا ہے،۔