۔،۔ میزانِ عدل ۔،۔طارق حسین بٹ شانؔ (چیرمین) مجلسِ قلندرانِ اقبال-،-

tariq

طارق حسین بٹ شانؔ
وہ سماجی نظام جو ربِ کائنات کی وساطت سے انسانوں کو ودیعت ہوا ہے اسے ایسے ہی چلتے رہنا ہے۔شداد، نمرود،فرعون،ہلاکو اورہٹلر جیسے انسان بھی کائنات کی اس روانی کو نہ پلٹ سکے اور نہ ہی اسے اس کی ڈگر سے ہٹا نہ سکے۔شائد اسی لئے اقبال کو کہنا پڑا تھا کہ (یہ دنیا یوں ہی رہے گی اور ہزاروں بلبلیں۔،۔ اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی) ۔پاکستان اس وقت عجیب صورتِ حال سے دوچار ہے جس میں اقتدار کی جنگ اپنے عروج پر ہے ۔الزام در الزام کی سیاست اپنی بو قلمونیوں سے حالات کی سنگینی میں مزید اضافہ کر رہی ہے ۔ مخالفین کو غدار اور اور لٹیرے کہنے کے نعرے گلشن کی تناؤ زدہ فضا میں نفرتوں کے انگارے بھررہے ہیں ۔سیاسی دشمنیاں اور عداوتیں بھی انا رنگ جماتی جا رہی رہی ہیں لہذا ایسے میں اگر کسی طالع آزما نے شدید دباؤ کے تحت جمہوریت کی بساط لپیٹ دینے کی جرات کی تو پھر ملک کے استحکام اور اس کے اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔اس وقت پاکستان میں آئین وجمہوریت کی جنگ انتہائی اہم موڑ میں داخل ہو چکی ہے لہذا اس کا حتمی فیصلہ ہو جانا ضروری ہے کہ اس ملک کے حقیقی حکمران کون ہیں اور حقِ حکمرانی کسے حاصل ہے ؟میاں محمد نواز شریف کا جمہوری معاشرے کے قیام کا عزم اور ایک نئے عمرانی معاہدے کا احیاء عوام کی نگاہ میں اپنی جگہ بنا چکا ہے لہذا وہ اس سے کسی بھی صورت میں دامن کش ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔عوام ان کی اس ادا پر ان کی کئی سیاسی غلطیوں اورآمریت کا ساتھ دینے کے جرم کو معاف کرنے کیلئے تیار ہیں کیونکہ پاکستانی عوام کی نظر میں جمہوریت کا استحکام ہی پاکستان کا استحکام ہے ۔جنرل ضیاالحق جیسے سفاک آمر کا ساتھ دینا بہت بڑا جرم تھا لیکن میاں محمد نواز شریف جس ڈگر کے مسافر بن چکے ہیں وہ غیر معمولی ہے لہذا سفاک آمر کا ساتھ دینے جیسا فعل بھی ان کی آئینی جنگ اور عوامی حاکمیت کی راہ میں روک نہیں بن سکتا ۔وہ وووٹ کی توقیر کی جس راہ کا انتخاب کر چکے ہیں اسے ساحلِ مراد سے ہمکنار کرناسب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ سوال اس وقت یہ نہیں ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو نا اہلی کی تلوار سے عمر بھر کیلئے نا اہل قرار دینے والی سوچ کی حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ ا ن کے عوامی حاکمیت کے فلسفے کوتقویت عطا کی جائے تا کہ جمہوری معاشرے کا قیام حقیقت کا روپ دھار سکے۔،۔ میاں محمد نواز شریف کے ساتھ اس وقت جس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے کسی زمانے میں اسی طرح کا رویہ مشرقی پاکستان کی لیڈر شپ کے ساتھ روا رکھا جاتا تھا جس کا نتیجہ ساری دنیا نے دیکھاتھا۔یہ سچ ہے کہ عسکری حلقوں کے پاس طاقت ہے ،یہ بھی سچ ہے کہ عدلیہ کے پاس بے پناہ آئینی قوت ہے لیکن کیا اس کے معنی یہ لئے جائیں کہ انھیں حقِ حکمرانی تفویض ہو گیا ہے؟وہ جسے چاہیں دیوار کے ساتھ لگاتے دیں اور جسے چا ہیں تخت کا حقدار قرار دے دیں حالانکہ اس کا انھیں قطعا کوئی اختیار نہیں ہے ۔پارلیمنٹ پاکستان کا سب سے سپریم ادارہ ہے اور وزیرِ اعظم پارلیمنٹ کی طاقت کا نمائندہے جس کی اطاعت ہر ادارے پر لازم ہے ۔پارلیمنٹ نے آئین سازی کے تحت سارے اداروں کی حدودو قیود کو واضح انداز میں رقم کر رکھا ہے لیکن اس کے باوجود کچھ ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے رہتے ہیں۔کچھ نظریہ ضروت کا سہارا لیتے ہیں اور کچھ کرپشن کو بنیاد بنا کر طالع آزمائی کرتے ہیں۔جس آئین کے تحفظ کی قسم اعلی عدلیہ نے اٹھا رکھی ہے بدقسمتی سے وہ اسی پارلیمنٹ کو پاؤں تلے روندنے والوں کو نظریہ ضروت کا تحفہ پیش کرتی جس سے غاصب حکمران قرار پاتے ہیں اور آئینی حکمران جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئے جاتے ہیں ۔اگر کوئی سیاستدان اس طرح کی طالع آزمائی کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے تو پھانسی کا پھندہ اس کا مقدر بنتا ہے۔کیا ایسا ہمیشہ ہوتا رہیگا کہ جو سرنگوں نہ ہو اسے کرپشن کے نام پر پوری دنیا میں بدنام کردیا جائے اور پھر بوقتِ ضرورت اسے اقتدار کی مسند سے بھی الگ کردیاجائے ۔ منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اسے دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ہماری ستر سالہ تاریخ میں کوئی تو ایسا لمحہ ہونا چائیے جس پر ہم فخر کر سکیں اوراپنی گردن فخر سے بلند کر کے اقوامِ عالم کے سامنے سرخروئی کا اعلان کر سکیں۔یہاں تو تاریخ کے ایک ایک ورق پر طالع آزمائی اور شب خونوں کے داغ ہیں۔یہ داغ بھیانک ہوتے جا رہے ہیں لہذا انھیں دھونا ضروری ہے وگرنہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔،۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی مقتدر حلقوں کی زور آزمائی کی ایک ایسی داستان ہے جس سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔جو قوم آئین و قانون کی حفاطت نہیں کر سکتی کیا وہ عظیم قوم کہلانے کی حقدار ہو سکتی ہے ؟ مہذب قومیں آئین کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں۔برطانیہ میں شہنشاہِ وقت کو جمہوری روایات کو کچلنے کی پاداش میں تخت سے محرومی کی سزا سنائی گئی تھی جو موت کی سزا پر منتج ہو ئی تھی لیکن پاکستان میں طالع آزماؤں کو پلکوں پر بٹھا یا جاتاہے اور ان کے شب خونوں کو عدل و انصاف کے ایوانوں سے آئینی چھتری عطا کی جاتی ہے ۔وہ قلم جس کی ایک ایک جنبش آئین و قانون کی پاسداری کی علامت ہوتی ہے وہ طالع آزماؤں کی مدح سرائی کا زینہ بن جاتی ہے۔وہ قلم جس کا مقصدِ اولین طالع آزماؤں کو غاصب ٹھہرانا ہوتا ہے اسی قلم سے انھیں ملک کا نجات دہندہ لکھ دیا جاتا ہے ۔بیوو کریسی اور مفاد پرست ٹولہ ایسا کرے تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی لیکن اگر عدلیہ بھی مصلحت اندیش ہو جائے تو پھر قانون کا علم کون بلند کرے گا ؟ کون آئین کا محافظ بنے گا؟کون طاقت کے سامنے کھڑا ہو گا؟ کون جبروتی حلقوں کو للکارے گا؟ کون جھوٹ کو جھوٹ کہے گا؟کون طالع آزمائی کو طالع آزمائی کہے گا؟ کون عوامی رائے کی خاطر ڈٹ جائے گا؟ کون عوامی تو قیر کی لاج رکھے گا؟ کون عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا ترجمان بنے گا؟ کون آئین میں درج ایک ایک لفظ کو حرزِ جاں بنائے گا؟ کون کہے گا کہ آئین مقدس ہے ؟کون اعلان کریگا کہ آئین چند صفوں کی کتاب نہیں جسے جس کا جی چاہے پھاڑ ڈالے؟ کون اعلان کرے گا کہ آئین ہماری روح ہے جس سے کوئی کھلواڑ نہیں کر سکتا ؟کون کہے گا کہ آئین کا ایک ایک لفظ قوم کی امانت ہے اور اس امانت کو کوئی طالع آزما کوئی ڈکٹیٹر ،کوئی آمر روندھ نہیں سکتا؟کون ہے جو آئینی جنگ کو ناگزیر کہے گا؟ اقبال نے اس سارے منظر کو اپنے ہی دلنشیں انداز میں بیان کیا تھا جب اس نے کہا تھا (خرد کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں میں ۔یا رب مجھے صاحبِ جنوں کر)۔ اور پھر اسی بات کو ایک اور اچھوتے انداز میں بیان کیا کہ (عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی )لیکن پاکستان کی ستر سالہ عدالتی تاریخ میں کوئی صاحبِ جنون ایسا نہیں آیا جو طالع آزما ؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انھیں للکارے اور علان کرے کہ آئینِ پاکستان مقدس دستاویز ہے اور اسے کوئی اپنے قدموں تلے روندھ نہیں سکتا جو ایسا کرے گا وہ ہمیں اپنی راہ میں مزاحم پائیگا۔ان کی اس للکار پر پورا پاکستان ان کی پشت کر کھڑاہو جاتالیکن کوئی تو ہوتا جو ایسا کر کے دکھاتا۔بلکہ ستم ظریفی کی انتہا تو دیکھئے کہ ہر وہ آواز جو آئینِ پاکستان کے تقدس کی خاطر اٹھی آئینِ پاکستان کے محافظوں نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا اور اپنے قلم سے اس کیلئے پھانسی کی سزارقم کی۔ اگر طالع آزماؤں کے خلاف جدوجہد سیاسی جماعتوں کا دیباچہ ہے تو پھر انصاف کے مندر میں محوِ تسبیح رہنے والوں کا دیباچہ کیا ہے؟کیا ان کا کام سیاستدانوں کو پھانسیاں اور کوڑوں کی سزائیں سنانارہ گیا ہے یا وہ صاحبِ جنون بن کر نئی تاریخ رقم کریں گے ؟ من مندر میں طالع آزماؤں کا خوف جاگزین ہوجائے تو پھر انسان سچ کو سچ کہنے کے وصف سے عاری ہو جاتا ہے۔انصاف کی میزان ڈول جائے تو پورا معاشرہ کرپشن اور لا قانونیت کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔جھنیں کھڑا ہوناتھا وہی جھک جائیں تو پھر ؟دیکھئے اقبال کی تشبیہ اور استعارہ کس طرح اشارہ کر رہا ہے؟یہ کس شوخ نے لکھ دیا محرابِ مسجد پہ۔،۔کہ ناداں سجدے میں گرگئے جب وقتِ قیام آیا۔،۔