۔،۔ ایسے بدلے گا پاکستان ۔ عارف محمود کسانہ۔،۔

rr

عارف محمود کسانہ
سب ہمہ تن گوش ان کی باتیں سن رہے تھے اور انہیں اس سوال کا جواب مل رہا تھا جو ہر محفل میں موضوع بحث ہوتا ہے۔ جہاں بھی دو پاکستانی ملتے ہیں ان کی گفتگو گھوم پھر کرپاکستان پر آ کر رک جاتی ہے۔ملک سے باہر مقیم پاکستانی زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ان کی کوئی بھی محفل یا اجتماع ، پاکستان کے حالات پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان غربت و افلاس اور جہالت کے اندھیروں سے نکل کر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن سکے گا۔ لمبی بحثوں میں الجھنے کے باوجود انہیں ڈور کا سرا نہیں ملتا لیکن آج انہیں امید کی واضح کرن دیکھائی دے رہی تھی۔ فکر و دانش کی گفتگو اور مختصر عرصہ میں کیے جانے والے سماجی بہبود کے کاموں کی تفصیل جب بتانا شروع کی تو بے اختیاریہ مصرعہ زبان پر آگیا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ نرم لہجے میں دل مو لینے والی یہ باتیں ڈاکٹر امجد ثاقب اپنے سویڈن کے دورہ میں ایک محفل میں کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا ہم سب باہمی کوشش سے پاکستان کے حالات بہتر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی مثال پیش کی کہ وہاں کی سماجی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار وہاں کے فلا حی اداروں نے ادا کیا ہے۔ ڈاکٹرمحمد یونس کی قیادت میں گرامین بینک کی کارکردگی سے کون آگاہ نہیں۔ اس بینک نے چھوٹے قرضے دے کر وہاں کے انتہائی غریب عوام کی حالت بدل کر رکھ دی ہے۔ڈاکٹر یونس کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 2006 میں نوبل انعام بھی دیا گیا۔ اسی طرح 1978 میں شفیق الحق چوہدری کی قیادت میں این جی او ASA نے چھوٹے قرضے دینے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت عامہ اور دیگر شعبوں میں قابل قدر کام سرانجام دے رہی ہے۔ اب اس کے تحت ایک یونیوسٹی بھی کام کررہی ہے۔بنگلہ دیش کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی ترقی میں سب سے اہم کردار جس نے دا کیا ہے وہ BRAC ہے ۔ دنیا کی یہ سب سے بڑی اس این جی او1972 میں سر فضل حسین عابد کی سربراہی میں قائم ہوئی جس نے بنگلہ دیش کی حالت بدل کر رکھ دی ہے ۔ اس وقت BRAC کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زائد ہے۔ لاکھوں لوگوں کو چھوٹے قرضے دینے کے علاوہ اس کے تحت تیس ہزار سے زائد سکول قائم ہیں جہاں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس تنظیم نے 2001میں عالمی معیار کی ایک یونیورسٹی بھی قائم کی ہے جہاں سے طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے ملکی ترقی میں اپنا کرادر ادا کررہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے علاوہ BRACتیرہ دیگر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل فلاحی اور سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ متحدہ پاکستان کے دور میں مغربی پاکستان کے سیاسی اور معاشی پنڈت مشرقی پاکستان کو ایک بوجھ قرار دیتے تھے لیکن آج بنگلہ دیش کا جی ڈی پی پاکستان سے زیادہ ہے اور سماجی شعبہ میں بھی بہتری ہے۔ مشرقی بازو جسے بوجھ کہتے تھے آج وہیں کی این جی او پاکستان میں غربت کم کرنے اور سماجی بہود کے لئے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی قیادت میں اخوت تحریک بھی پاکستان کو ترقی کی طرف لے جانے کے لئے کوشاں ہے۔ وہ غربت اور جہالت کے اندھیرے دور کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ اب تک ایک کروڑ سے زائد لوگ ان کے بلاسود قرضوں سے مستفید ہوچکے ہیں۔ خواجہ سراوں کو باعزت کام دیا ہے، مستحق لوگوں کو پہننے کے لئے مفت کپڑے دیئے جاتے ہیں۔ بے گھر لوگوں کو چھوٹے گھر بنا کر دیئے ہیں تاکہ انہیں سر چھپانے کی جگہ مل سکے۔ چترال اور دیگر علاقوں میں کم آمدنی والے لوگوں کو ٹورسٹ ہٹس بنانے کے لئے بلا سودی قرضے دیئے ہیں تاکہ ان کی آمدنی کا ایک معقول ذریعہ پیدا ہو۔ ملک کو سرسبز بنانے لئے اب جسے بھی قرض دیتے ہیں ساتھ تاکید کرتے ہیں وہ کم از ایک پودہ لگائے۔ گلگت ، ہنزا اور دیگر علاقوں میں شجر کاری مہم ے تحت لاکھوں پودے لگائے جارہے ہیں۔اخوت یونیورسٹی کے قیام سے مستحق طلبہ پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے ۔ ذہنی مریضوں کو در بدر کی ٹھوکروں سے بچانے اور ان کی بحالی کے لئے ان کے ماموں ڈاکٹر رشید چوہدری مرحوم نے فاؤنٹین ہاوس لاہور اور فاروق آباد قائم کیئے تھے،ڈاکٹر امجد ثاقب نے نہ صرف اس سلسلہ کو جاری رکھا بلکہ سرگودھا میں ایک اور فاؤنٹین ہاوس قائم کیا۔ اس کار خیر میں ان کے بڑے بھائی عالمی شہرت یافتہ ماہر دماغی امراض ڈاکٹر افضل جاوید کا تعاون بھی انہیں حاصل ہے۔ ایسے ہی اور کئی کام ہیں جن کی تفصیل اس کالم میں دینا ممکن نہیں لیکن قارئین ان کی کتاب اخوت کا سفر پڑھ کر ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی ایک ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ خوشحال اور فلاحی معاشرہ ریاست کی سطح ہر ہی تشکیل پاتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ خیراتی ادارے کوئی مستقل حل نہیں لیکن جہاں ریاست کی باگ دوڑ ایسے ہاتھوں میں جنہیں صرف ذاتی مفادات سے غرض ہو وہاں کیا توقع رکھی جاسکتی ہے اس لئے وہاں صرف ایسے فلاحی اداروں سے ہی توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔تصویر دوسرا رخ یہ بھی ہے کیا ہمارا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ ہر وقت حکومتوں کا رونا رویا جائے اور خود کچھ نہ کیا جائے۔ مانا کہ یہ حکومت کی ہی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی تو ہر وقت اسے کوسنے سے کیا حاصل ہوجائیگا۔ شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر ہے کہ ہر کوئی اپنے حصہ کی شمع جلاتا جائے۔ دنیا کے کئی اور ممالک کو پاکستان جیسی صورت حال کا سامنا تھا اور وہاں بھی سیاسی ابتری تھی لیکن وہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کا آغاز کیا اور آج بہت بہتر حالات میں رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں اخوت جیسی تحریک آمد بہار ہے جس نے واقعی تبدیلی لا کر دکھائی ہے ۔قرآنی تعلیم کا خلاصہ ہے کہ بقا صرف خدمت خلق کے کاموں میں ہے نہ کہ بڑی بڑی یادگاریں تعمیر کرنے میں۔جو خدا کی مخلوق کی خدمت کرتے ہیں وہ اللہ کے پیارے بندے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کے محبوب لوگوں کو نجانے کہاں تلاش کرتے پھرتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے درمیان ڈاکٹر امجد ثاقب کی صورت میں موجود ہیں اور جب اللہ کے ایسے عظیم انسان ہمارے درمیان ہیں جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کوشاں ہیں تو تو پھر پاکستان بھی ضرور بدلے گا۔