-،-سری لنکن نے شاہینوں کاریکارڈ توڑ دیا، سرفراز احمدکی نئی کپتانی کا پہلا جھٹکا -( پہلو ۔۔ صابر مغل ) -،-

sab

صابر مغل
پاکستان کی سری لنکا کے ساتھ ہوم سیریز جو دو ٹیسٹ میچوں پانچ ون ڈے اور تین ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل ہے ،متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی اس سیریز کے دونوں ٹیسٹ میچ انتہائی ڈرامائی صورتحال کے بعد سری لنکا کی جھولی میں جا گرے یوں سری لنکا نے پہلی بار یو ای اے میں پاکستان کے خلاف کامیابی حاصل جبکہ مجموعی طور پر دوسری مرتبہ اسے وائٹ واش سے ہمکنار کر دیا،دونوں میچوں میں ذلت آمیز ناکامی کے بعد پاکستان عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی سے ساتویں پوزیشن پر پہنچ گیا،متحدہ مارات کے میدانوں میں پاکستان کو 15سال بعدٹیسٹ سیریز میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس سے قبل 2002میں آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا تھا،پہلا ٹیسٹ میچ جو ابوظہبی کھیلا گیا کے اخری روز پاکستان کو جیت کے لئے صرف 113رنز کا تارگٹ ملا مگر ہمارے شاہین بے بسی کے عالم میں میدان کی بجائے پویلین واپسی کو ہی ترجیح دیتے رہے اس پر بہت کچھ پہلے ہی کہا جا چکا ہے،دوسرا اور سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ جو سری لنکا کا پہلا اور پاکستان کا دوسرا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ تھا میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دی وہ جانتے تھے کہ ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کا ریکارڈ بد تر ہے، سری لنکا نے پہلی اننگز میں پاکستانی باؤلرز کی خوب درگت بنائی جو سارا دن باؤلنگ کرا کرا کر صرف تین وکٹ ہی حاصل کر سکے اور کرو نارتنے کی 194رنز کی بدولت(جو ان کے کیرئیر کی پہلی سینچری تھی) 484 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا،پاکستان کی طرف سے یاسر شاہ نے6،محمد عباس نے 2،محمد عامر اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ،پاکستانی اوپنرز نے پہلی اننگز میں اچھا آغاز فراہم کیا مگر سری لنکاکی ٹیم نے تیسرے پاکستانی ٹیم کو 260رنز تک محدو کردیا،فاسٹ باؤلر لہرو گھبیح نے سمیع اسلم کو16،اسد شفیق کو 12پرآؤٹ کر کے خطرے گھنٹی بجا دی ،بابر اعظم محض 8،سرفرا ز احمد14،محمد عامر 7،یاسر شاہ25،وہاب ریاض16،اظہر علی اور حارث سہیل نے 59جبکہ حارث سہیل نے 56کی اننگز کھیلی یوں پاکستانی ٹیم تیسرے روز اپنی پہلی اننگز میں 260پر آؤٹ کر دیا،سری لنکا نے پاکستانی ٹیم کو فالو آن نہ کرانیکا فیصلہ کرتے ہوئے بیٹنگ کا آغاز کر دیا،دوسری اننگز میں محمد عباس نے سلوا کو3رنز پر آؤٹ کر دیا 22کے مجموعی سکور پر پہلی اننگز میں ریکارڈ سکور کرنے والے کروناتنے کو وہاب ریاض نے بے بس کر دیا،26کے سکور پر ہی سمارا وکرا بھی پویلین ،33کے سکورپر یاسر شاہ نے لکمل اوربعد میں وہاب ریاض نے دنیش چندی مل کو بھی آؤٹ کر دیا،تیسر روز کے اختتام پر سری لنکن ٹیم نے پانچ وکٹ پر صرف34رنز بنا پائی،میچ کے چوتھے روز میزبان ٹیم صرف26ویں اوور میں باقی سات وکٹوں پر 95سکور کئے پاکستانی باؤلرز کی اس شاندار کارکردگی پر ایک بار پھر پاکستانی قوم میں جیت کی امید پھر سے بندھ گئی ،اس اننگز کی خاص بات 24سالہ آل راؤنڈر سپنر حارث سہیل نے اپنے پہلے اوور کی پہلی ہی گیند پر رنگیا ہیراتھ ،پھر چوتھی اور آخری گیند پر مینڈس اور نووان پرادیپ کو کو بھی آؤٹ کر دیا تھا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی اننگز میں ایک اورر کا یہ بہترین سپیل ہے ایسی کوئی اور مثال نہیں،اس سے قبل یہ ریکارڈ سابق ویسٹ انڈین کھلاڑی رام نریش سروان کے پاس تھا جنہوں نے2002میں بھارت کے خلاف برج ٹاؤن میں ایک اوور کے اسپیل میں دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا،سری لنکا کی دوسری اننگر میں اس کے 7کھلاڑی ڈبل فگرز میں داخل نہ ہو سکے تھے،محمد عامر جو انجری کے باعث میدان سے باہر چلے گئے تھے ان کی غیر موجودگی میں وہاب ریاض نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 4،حارث سہیل نے3اور یاسر شاہ نے 2شکار کئے،پاکستان کو جیت کے لئے317رنز کا ہدف ملا مگر اننگز کے آغاز پر ہی سمیع اسلم صرف ایک رن بنا کر وکٹ دے بیٹھے،ابتداء میں ہی وکٹ گرنے پر ٹیم دباؤ میں آ گئی اظہر علی اور شان مسعود کی باڈی لینگوئج سے لگ رہا تھاکہ وہ دباؤ میں ہیں ان کی حد سے زیادہ محتاط انداز میں بیٹنگ کی اور2 2اوورز میں صرف31رنز تک محدود رہی،اظہر علی ایک دفاعی شارٹ کھیلنے کی کوشش میں اپنی وکٹ سے ہاتھ دھو بیٹھے،پہلی اننگز میں عمدی کارکردگی کے ھامل حارث سہیل بھی سری لنکن کھلاڑیوں کا دباؤ برداشت کرنے میں بری طرح ناکام رہے صرف10رنز پر پویلین کی راہ لی،شان مسعود نے100سے زائد گیندیں کھیل کر سست ترین اننگز کھیلتے ہوئے 21سکور تک پہنچ کر ہمت ہار دی ،قوم کی امیدوں کے مرکز بابر اعظم جیسے آئے ویسے ہی لوٹ گئے،52رنز پر پانچ وکٹ کے کھو جانے پر ٹیم کو بدترین مشکلات سے نکالنے کے لئے کپتان سرفراز احمد اور اسد شفیق ڈٹ گئے سری لنکن باؤلر ان کے سامنے بے بس نظر آنے لگے انہوں نے کھیل ختم ہونے تک چھٹی وکٹ کی شراکت میں سکور کے ٹوٹل کو 146تک پہنچ دیا جن میں اسد شفیق کے 86اور سرفرازاحمد کے 57انفرادی سکور شامل تھے اب آخری دن پانچ وکٹ پر 119رنز کے ساتھ کامیابی مل سکتی تھی مگر ایک بڑی مزاحمت کے بعد جیسے ہی سرفرا احمد کی وکٹ گئی تو شکست کے بادل منڈالانے لگے محمد عامر آئے جو جلد ہی آؤٹ ہوئے تو شکست سامنے نظر آنے لگی،آخری روز گرنے والی 5وکٹ کے دوران 50سکور بنے ،اسد شفیق کی سینچری بھی ہمیں شکست سے نہ بچا سکی،عمدہ کارکردگی پر سری لنکن بیٹسمین کرونارتے 196سکور کرنے پر مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز کے حق دار ٹھہرے، اس میچ میں سری لنکا نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کرتے ہوئے دو کھلاڑیوں کو ڈیبیو کراتے ہوئے بلے باز سدیرا سمارا وکرمااور باؤلر لہیرو کما کو ٹیسٹ کیپ دی ،پاکستان نے انجری کے شکار احسن علی کے جگہ وہاب ریاض کو شامل کیا گیا،پاکستانی اسپنر یاسر شاہ نے دوبئی کے اس میچ کی پہلی اننگز میں 6وکٹیں حاصل کر کے13ویں مرتبہ ٹیسٹ اننگز میں 5یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کر کے ثقلین مشتاق اور فضل محود کا ریکارڈ برابر کر دیافضل محمود نے34اور ثقلین مشتاق نے49میچوں میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا،وسیم اکرم25مرتبہ یہ کارنامہ سر انجام دے کر سر فہرست ہیں ،عمران خاں نے24،وقاریونس    22،عبدلقادر اور دانش کنیریا نے 15۔15مرتبہ ایک اننگز میں5۔5وکٹ حاصل کئے،یاسر شاہ نے اس میچ میں عمر گل کی جانب سے163وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا اس طرح وہ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے12ویں کھلاڑی بن چکے ہیں،سر فہرست وسیم اکرم 414،وقار یونس373،عمران خان362،دانش کنیریا261اور عبدالقادر236وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں،یاسر شاہ نے گذشتہ سال ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنے117ابتدائی میچوں میں 100وکٹیں حاصل کر کیایشیا کے پہلے اور دنیا کے مشترکہ طور پر دوسرے باؤلر بن گئے،یاسر شاہ کے عظیم ریکارڈز اور بھی بہت سے ہیں،پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلی ٹیسٹ سیریز1981/82میں کھیلی گئی جو پاکستان نے جیت لی،اب تک ان دونوں ٹیموں کے درمیان 19ٹیسٹ سیریز میں 8میں پاکستان،6سری لنکا نے جیتیں جبکہ 5ڈرا رہیں،کسی بھی اننگز میں پاکستان کا سب سے بڑا ٹوٹل 765/6تھا جبکہ سری لنکا کا 483ہے،اب دونوں ٹیموں کے درمیان 5ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز ہونے جارہی ہے، پاکستانی سکواڈ میں کپتان سرفراز احمد،احمد شہزاد،فخر زمان،محمد حفیظ،شعیب ملک،امام الحق ،عماد وسیم،شاداب خان،فہیم اشرف،حسن علی،محمد عامر،رومان رئیس،جنید خان ،حارچ شہیل اور عثمان شنواری شال ہیں،سری لنکا ٹیم میں اینجلو میتھیو فٹنس مسائل کے سبب ون ڈے ٹیم کا حصہ نہیں ،دھنکا گناتھلا نظر انداز ،لاستھ ملنگا کو موجودہ ناقص کارکردگی کی بنا پر ریسٹ،ان کے ون ڈے سکواڈ میں ایل تھرنگا(کپتان)،دنیش چندی مل،نروش ڈکو یلا،لہیرو تھریمانے،کشال مینڈس،ملیندا سریوردنانہ،چمارا کاپو گیدرا،تھسارا پریا،سکوگے پرسنا،نوان پردیپ،سورنگا لکمل،دشمانتھا چمیرا،وشوا فرنیڈو،اکیلادھننجانا اور فیفری واندرسے شامل ہیں،ٹیسٹ سیریز کے لئے منتخب کی گئی ٹیم پر ماہرین کرکٹ نے کئی سوالات اٹھائے تھے مگر یہ شکست پاکستانی ٹیم کے مقدر میں تھی البتہ ون ڈے ٹیم کے لئے سکواڈ میں تجربہ کار کھلاڑی بھی شامل ہیں امید ہے وہ ون ڈے سیریز میں قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے البتہ سکواڈ میں فواد عالم کو شریک نہ کیا جانا بھی حیران کن ہے