دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
۔کیا اقوام متحدہ زندہ ہے؟

برما، مقبوضہ کشمیراور فلسطین میں مسلمانوں پر ریاستی دہشت گردی سے ظلم و سفاکی اور بربریت کی ایسی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں جسے دیکھ کر ہلاکو اور چنگیز خان کی روحیں بھی تڑپ گئی ہونگی مگر افسوس دنیا بھر کی وہ تنظیمیں جو کسی جانور پر بھی ظُلم ہوتا دیکھ کر شور و غل کا ایسا طوفان برپا کر دیا کرتی تھیں کہ اقوام عالم مُثبت اقدام کرنے پر مجبور ہو جاتیں۔مگر نہ جانے کیوں مسلمانوں پر وحشیانہ سلوک کے خلاف اُنکی رگِ ضمیر کیوں بیدار نہیں ہوتی میرے خیال میں۔۔ روہنگیا ۔۔میں مسلمانوں اور حصوصاََ خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچوں پر ہونے والے وحیشیانہ ظُلم وتشدد کو دیکھ کر تویقیناًموت کا فرشتہ بھی تڑپ جاتا ہو گا،مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ۔بنیادی حقوق کی عالمی تنظیموں کی اس موقع پر مجرمانہ خاموشی اُنکی جانبداری اور اُنکے کردار پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے اسی طرح انٹرنیشنل میڈیا کا کردار بھی اس موقع پر نہ صرف انتہائی پست رہا بلکہ بے حسی کی مُنہ بولتی تصویر ہے اگر یہی ظلم و درندگی کا مظاہرہ امریکہ یا کسی یورپی ممالک میں ہوا ہوتا تو یہی انٹرنیشنل میڈیا زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہوتا مگر یہ کیونکہ غریب اور مظلوم مسلمانوں کا مسلہ ہے اس لئے اُنکا منافقانہ رویہ اور دوہرا معیار صاف دکھائی دے رہا ہے بلکہ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ وہ صحافتی اصولوں کا جنازہ نکال کر سامراجی قوتوں کا آلہ کار بن چکا ہے اور ایک کٹھپتلی کے روپ میں سامنے آیا ہے۔یہ تو بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس نے ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ممالک کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا اور پھر۔۔ا قوام متحدہ۔۔کا کردار۔۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کم و بیش ہر ذی شعور اور جس میں ذرا بھر بھی انسانیت کی رمق باقی ہے وہ یہ سوچتا ضرور ہے کہ ایک ایسا ادارہ جس کا وجودہی اقوام عالم کے سنجیدہ اورسلگتے مسائل کے فوری اور ختمی حل کے لئے لایا گیا تھاکیا وہ ادارہ اقوام متحدہ زندہ ہے؟۔۔۔یا وہ دفن ہو چکا ہے یا پھر الیکشن مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کیمطابق ۔اقوام متحدہ ایک کرپٹ اور نکارہ ادارہ بن چکا ہے اگر غیر جانبداری سے اس ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حققت عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ ادارہ صرف اور صرف سامراجی قوتوں کے مفادات کے تحفظ اور اُنکی خوشنودی کے لئے ہی وجود میں آیا تھااور اُنہیں کے اشارے پر کام کرتا ہے اور مظلوم اور کمزور قوموں کے مسائل کو حل کرنا شاید اس ادارہ کے منشور میں شامل نہیں اور حصوصاََ مسلمانوں کے ساتھ جہاں کہیں بھی ظُلم و بربریت اور نسل کشی کی کاروائیاں ہو رہی ہیں اس ادارے کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور اس طرح یہ ادارہ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے جیسے وہ انسان نہیں جانور ہیں دوسری جانب ہم نے دیکھا کہ جب امریکہ میں۱۱۔۹کا سانحہ پیش آیا تو۔اقوام متحدہ کی پھرتیاں قابل دید تھیں مگر جب کشمیر اور فلسطین یاروہنگیا جیسے سلگتے مسائل کے حل کی بات آتی ہے تو اس نام نہاد ادارے کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اب اقوام عالم دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کس طرح وحشیانہ اندازسے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے ایک اندازے کیمطابق اب تک ایک لاکھ سے زاید کشمیری بھارتی افواج کے ظلم وتشدد کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں اور اس سے دوگنی تعداد خواتین ،معصوم بچوں اور نوجوانوں کی ہے جو بھارتی افواج کی درندگی اور ظلم وستم اور بربریت سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپاہج ہو چکے ہیں اور یہی حالت فلسطین کی ہے جہاں نت نئے نئے طریقوں سے اسرائیلی افواج بیچارے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے اور جب کبھی بھی اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف کاروائی کا ارادہ کرتی ہے تو امریکہ فوراََ ویٹو کر کے کاروائی روک دیتا ہے اور اسرائیل کو فلسطینیوں پر مذید ظلم وستم جاری رکھنے کی کھلی چھٹی دے دیتا ہے دوسری جانب ۔مقبوضہ کشمیر۔میں بھارتی جارحیت سے حالات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے جا رہے ہیںیہ ایک انتہائی سنجیدہ اورحساس مسئلہ ہے جوبھارت اور پاکستان کے مابین اب ایک ایسے۔لاوا۔کی حثییت اختیارکر چکاہے جو کسی وقت بھی پھٹ کر برصغیر کوتباہ و برباد کر سکتا ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اور بھارتی وزیراعظم سری نریندر مودی ویسے بھی مسلمانوں کے سخت ترین دشمن ہونے کے علاوہ جنگی جنون میں بھی مبتلا ہیں اور اُنہوں نے پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کئی محاذ کھول رکھے ہیں اور لائین آف کنٹرول پر بھی بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ روز روز کا معمول بن چکی ہے۔پھر برما میں مسلم نسل کشی کی مہم ایک عرصہ سے جاری ہے اور اُس پہ ستم ظریفی یہ کہ برمی افواج نے اپنی درندگی اور سفاکی کا ثبوت مٹانے کیلئے مسلمانوں کی اجتماعی قبروں کا صفایا کر کے لاشیں نا معلوم مقامات پرمنتقل کرنا شروع کر دی ہیں۔اقوام متحدہ۔کے اس منافقانہ رویے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ۔ شمالی کوریا۔کے۔ ہائیڈروجن۔بم کے دھماکے پر تو۔اقوام متحدہ۔نے ۔سلامتی کونسل۔کا ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے کیونکہ اُس میں امریکی سامراج کے مفادات کا دفاع مقصود ہے مگر۔مقبوضہ کشمیر۔جسکی حقِ خود ارادیت کی قرارداد ایک عرصے سے منظور ہو چکی ہے اُس پر عمل درآمد کیلئے۔اقوام متحدہ۔کے پاس وقت نہیں اس لئے ہم یہ پوچھنے کا حق کھتے ہیں کہ۔کیا اقوام متحدہ زندہ ہے؟۔