دستک

atta_ur_rehman_ashraf
اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
سیاہ دن
یہ ایک مُسلمہ اور اٹل حقیقت ہے کہ جس معاملے کو ظلم وتشدد سے دُبانے کی کوشش کی جائے وہ معاملہ پہلے سے بھی زیادہ قوت اور جوش سے اُجاگر ہوتا اوراُبھرتا ہے کشمیریوں کی تحریک آزادی ایک نمایاں مثال ہے جسے کچلنے کیلئے بھارت نے اپنی تمام تر قوت کے ساتھ ظلم وبربریت کے ایسے ایسے حربے استعمال کئے جہنیں دیکھ کر۔ہلاکواور چنگیز خاں کی روحیں بھی کانپ گئی ہونگی مگر وہ کشمیریوں کے عزم اور جذبے میں رتی برابر کمی نہیں لا سکا اسے منافقت تصور کریں یا عدل و انصاف کا خون جن اصولوں اورباہمی گفت وشنید کی روشنی میں کانگرس اور مسلم لیگ کے درمیان تقسیم ہندکا جو فارمولہ طے پایاتھااُس کے تحت ہندو اکثریت کے علاقے بھارت کو اور مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہونے تھے مگر برطانوی راج کی جانبداری اور منافقانہ روش کے باعث بھارت اُن علاقوں پر بھی قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا جو متذکرہ اصول کے تحت پاکستان کے حصے میں آتے تھے پھر ستم ظریفی یہ کہ بھارت نے جب سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے مظلوم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو دبانے کیلئے وہ اپنی تمام تر قوت آزماچکا ہے مگر کشمیریوں کے عزم اور جذبہ کو دبانے میں بُری طرح ناکام رہا ۔ اُنسے جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا گیا مگر افسوس اس بات کا ہے کہ وہ عالمی تنظمیں بھی جو ایک مچھر کا خون بہے جانے پر شور وغل کا طوفان کھڑا کر دیا کرتی تھیں وہ کشمیریوں کے ناحق قتل عام پر کیوں بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف گزشتہ ستر سالوں سے اپنا اختجاج جاری ر کھے ہوئے ہیں مگر بدقسمتی سے اقوام عالم اس سلگتے مسئلے کے حل کی جانب توجہ نہیں دے رہی یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور۔مسئلہ کشمیر۔ایک ایسے۔ آتش فشاںْ۔ کی حثیت اختیار کر چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ کر برصغیر کا امن برباد کر سکتا ہے،دنیا جانتی ہے کہ جب کشمیری تحریک آزادی نے زور پکڑا تو اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم سری نہرو مرحوم خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحد ہ میں لیکر گئے اور جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیااور بھارت کو استصواب رائے کا انتظام کرنے کی ہدائت کی مگر بھارت نے جنرل اسمبلی کی قرار داد کا اخترام کرنے کی بجائے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہہ کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لگا۔ درراصل ۲۷ اکتوبر۱۹۴۷ وہ سیاہ دن ہے جس روز بھارت نے تمام تر عالمی قوانین کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے سفاکی اور جبر سے زبردستی جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اُتار کر مظوم و نہتھے کشمیریوں کے حقوق غصب کر نے کیلئے اُن کے گھر پر ڈاکہ ڈالا تھا مگر کشمیری مسلسل اُسی روز سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف سرپا اختجاج ہیں اور زبردست مزاخمت کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں ہر سال بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اختجاجی ریلیاں،جلوس اور جلسے منعقد کر کے ۔۔یوم سیاہ۔۔ مناتے ہیں۔جرمنی میں بھی ہمشہ کی طرح اس سال بھی کشمیر کمیٹی جرمنی کے فاروق مشتاق ،چوہدری اکرم ودیگرپاکستان جرمن پریس کلب کے صدر جناب سلیم پرویز بٹ ، آئیڈیا فورم جرمنی کے چیرمین سید محسن رضا کے زیر اہتمام ایک زبردست اختجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدرجناب افضل بٹ،آزاد کشمیر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما چوہدری یاسین، سید سجاد حسین نقوی،جناب حمید اللہ زائد، جناب طفیل بٹ، پنجاب اسمبلی کے رکن رانا لیاقت علی،پاکستان ایسوسی ایشن جرمنی کے صدر سید وجیہہ الحسن جعفری اور جناب عبدالرحمان نے کی۔اس موقع پر شرکا نے اقوام عالم کے دوہرے معیار اور اقوام متحدہ کے مجرمانہ کردار کی پُرزورر الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اسوقت بھی جموں و کشمیر میں بھارت کی ۸ لاکھ فوج ظلم و بربریت کا وہ کونسا حربہ ہے جو مظلوم و نہ ہتھے کشمیریوں کے حوصلے اور عزم کو کمزور کرنے کیلئے نہیں آزما چکی ۔ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد کشمیری ابتک تحریک آزادی کی جد و جہد میں جام شہادت پی چکے ہیں جبکہ معذور،بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور تقریباََ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے مگر جنگی جنوں میں مبتلا بھارت کے وزیراعظم سری نریندر مودی کی اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں کی بنا پر اسوقت ۲۶ سے زیادہ علیحدگی پسند تنظمیں بھارت سے علیحدہ ہونے کیلئے پرتول رہی ہیں