-،-مُردہ ضمیراب تو جاگیں-اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی-،-
arash

اے آر اشرف
امریکی صدر کے فیصلے کو جس طرح اقوام عالم نے مسترد کیا ہے اور پھر امریکہ کی تمام تر سفارتی کوششوں اور سری ڈونلڈ ٹرنپ کی دھمکیوں کے باوجود اقوام متحدہ نے بھاری اکثریت سے امریکی فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی ہے اُس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کے دائمی اقتدار صرف اورصرف اللہ کا ہے اور جو بھی دنیا میں خدائی کا دعویدار ہوتا ہے۔نمرود۔فرعون اور ہمان کی طرح ذلیل و رسوا ہوکرغرق ہو جایاکرتا ہے اس میں شک نہیں کے ساری دنیا سے زیادہ جدید ترین اسلحے کے انبار جمع کرنے کے علاوہ غریب اور کمزور اقوام سے چھینی ہوئی دولت کی بنا پر۔امریکہ ۔دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے اور اسی طاقت و گھمنڈ نے اُسے بد مست ہاتھی بنا رکھا ہے اور شاید یہی بد گمانی اور نشے نے ہی صدر ڈونلڈٹرنپ کو احمکانہ فیصلے کرنے پر مجبورکردیاہے یا پھر اس کے دماغ میں بھی۔نمرود۔کی طرح مچھر گھس گیا ہے جس نے اس کے دل و دماغ پر بے چینی طاری کر رکھی ہے۔نمرود۔نے تو اپنے دماغ کو سکون دلانے کا حل اپنے دماغ پر جوتوں کی بارش برسانے میں ڈھونڈ نکالا تھا اور پھر اُسے کچھ ساعت کیلئے سکون بھی مل جایا کرتاتھا ۔اب دیکھنایہ ہے کہ سری ڈونلڈ ٹرنپ اپنے دماغ کے سکون کیلئے کونسا طریقہ علاج اختیار کرتے ہیں۔بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدرکے دماغ میں۔مسلم۔دشمنی والا ۔مچھر۔گھس گیا ہے اور اسیلئے وہ بہکی بہکی باتیں کرنے کے علاوہ کبھی۔ شمالی کوریا پر۔حملہ کرکے اُسے نیست ونابود کرنیکا ارادہ ظاہر کرتا ہے اورکبھی ایران اورکبھی پاکستان کو ۔ڈو مور۔کی دھمکیاں دے کر اپنی ۔مسلم دشمنی۔کا اظہار کر کے اپنے دل کی بھراس نکالتے ہیں مگر اُس کے۔مسلمانوں کے ۔قبلہ آ ول یعنی بیت المقدس۔میں اسرائیل کا دارالخلافہ منتقل کرنے کے اعلان نے اُس کی منافقانہ روش کا پردہ فاش کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ کبھی مسلم اُمہ کا دوست تھا اور نہ کبھی مستقبل میں دوست ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر یہ بھول گئے ہیں کے بعض و اوقات ایک چھوٹی سی چیونٹی بھی ۔ہاتھی۔کی موت کا باعث بن جاتی ہے کیا خبرامریکہ،بھارت اوراسرائیل جن مظلوم اورنہ ہتھے فلسطینیوں اور کشمیریوں پرظلم وبربر یت سے اُن کے حقوق پے ڈاکہ ڈال رہے ہیں اُنکی آہیں یقیناًایک روز خدا کی بے آواز لاٹھی بن کر ان ظالموں کو نیست و نابود کر دیں گی۔ پنجابی کی کہاوت ہے کہ۔۔مرغی اپنی بہڑی جو بیگانے گھر انڈا دیتی ہے۔۔یعنی مرغی تو اپنی ہی خراب ہے جو اپنا گھر چھوڑکر انڈا دینے کے لئے بیگانے گھر چلی جاتی ہے،کچھ یہی حال ہمارے عرب حکمرانوں کا ہے جہنوں نے اپنے کردار اور اعمال سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہو اُنکی مرغی انڈا دینے کے لئے امریکہ ہی جائے گی اور جو کسر رہ جاتی ہے وہ ہماری نام نہاد تنظیم۔او۔آئی۔سی۔امریکہ اور اسرائیل کا بغل بچہ بن کر پوری کردیتی ہے اور اگر مسلمانوں کی تاریخ کاتحقیقی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اغیار کی سازشوں میں شریک ایک اچھی حاصی تعداد میر جعفروں اور میر صادقوں کی اُس سازش میں شامل رہتی تھی ۔ایک زمانہ تھاکہ سرزمین۔حجاز۔سمیت آدھے سے زیادہ یورپ پر خلافت عثمانیہ یعنی۔ترکوں۔ کی حکمرانی تھی اور تُرک جس علاقے کو بھی فتح کرنا چاہتے تھے آسانی سے اپنا ہدف حاصل کر لیتے تھے اس صورت حال کو دیکھ کر۔مغربی تھنک ٹینکوں۔نے خلافت عثمانیہ کے طوفان کو روکنے کے لئے مسلمانوں میں۔عرب و عجم۔ مسلکی اور لسانی اختلافات کو ہوا دیکر آپس میں لڑانے کی سازشیں تیار کیں ہماری یہ سب سے بڑی بد بختی تھی کہ ہم اپنے دشمن کی سازشو ں کو سمجھ نہ سکے ورنہ ۔آقا روح اللہ خمینی ؒ ۔ نے ٹھیک کہا تھا کہ اگرمسلم اُمہ متحد ہو کر ایک ایک لوٹا پانی کا ۔اسرائیل پر برسا دے تو۔اسرائیل۔اس میں بہہ جائے۔ پھر سب سے پہلے اُنہوں نے مسلمانوں کے مرکز یعنی۔خلافت۔کو توڑنے اور اس کے خاتمے کا منصوبہ تیار کیاجس میں وہ سو فیصد کامیاب رہے جب وہ اپنا ہدف حاصل کر چکے تو اب دشمن نے سوچا کہ کیوں نہ مشرق وسطیٰ کو چھوٹی چھوٹی راج دہانیوں میں تقسیم کردیا جائے اورا ن پر اپنی پسند کے نااہل حکمران مسلط کر دئیے جائیں جو انکی منشا کیمطابق حکومتی کاروبار چلائیں اور اُن کیلئے سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں بنے ر ہیں اور اب ان سب راجدہانیوں کی مرغیوں کو جب بھی انڈا دینا ہوتا ہے وہ اپنے تمام اسلامی ممالک کو چھوڑ کر ناگ دیوتا۔امریکہ ہی کی گود میں جا بیٹھتی ہیں امریکہ نے بھی مرغیوں پر کچھ ایسا جادو کر رکھا ہے کہ اُنہیں اُس کے علاوہ کوئی دوسری جائے پناہ اچھی ہی نہیں لگتی دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب جس کا اصلی نام حجاز تھاتیل کے قدرتی ذخائر کے علاوہ بہت سے دوسرے قدرتی وسائل کی دولت سے بھی مالا مال ہے اور سب سے بڑھکر۔خانہ کعبہ ۔ اورہادیِ کائنات حضرت محمدﷺ۔ کے روضہ مبارک کی بنا پرمسلم اُمہ کا مرکز تصور کیا جاتا ہے اسی طرح ۔بیت المقدس یعنی۔ مسجد اقصیٰ۔ مسلمانوں کا ۔ قبلہ آول ہے اس لئے تمام مسلم اُمہ اسکی آزادی کو اپنے ایمان کا جُز قرار دیتی ہے امریکی صدر رونلڈٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا اعلان کر کے جس طرح دنیا بھر کے ایک ارب ستر کڑوڑ مسلمانوں اور بلحصوص عربوں کی غیرت ایمانی پر خود کش حملہ کیا ہے اب کم ازکم اُن عرب حکمرانوں اورایسے ضمیر فروشوں کو جو ناگ دیوتا امریکہ۔کو اپنا نجات دہندہ اور مسیحامانتے اور سمجھتے ہیں اُن مردہ ضمیروں کو اب توجاگ جاناچاہیے ۔اللہ تعالیٰ بھی اُسوقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خوو اپنی حالت بدلنے کیلئے جدوجہد نہیں کرتی۔ہماری دعا ہے کہ تمام مسلم اُمہ کو اپنے فروعی اورمسلکی اختلافات بُھلا کر متحد ہو کراپنے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔۔۔کیونکہ۔افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر،۔۔۔ہرفرد ہے ملت کے مقدرکا ستارہ،۔