۔،۔شاہین اور کیوی آمنے سامنے ( پہلو ۔ صابر مغل ) ۔،۔

sab

صابر مغل
قومی ٹیم نیوزی لینڈ میں پانچ ون ڈے انٹرنیشل اور تین T20 میچوں کے لئے سیریز کا آغاز نیوزی لینڈ کے دارلحکومت ولنگٹن میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق تین بجے آغاز کرے گی نیوزی لینڈ مین کھیلی جانے والی کوئی بھی سیریز مہمان ملک کے لئے بہت کم بہتر ثابت ہوئی ہے اسی وجہ سے شاہینوں کا بھی کڑا امتحان شروع ہو گا کیویز کو ڈھیر کرنا بہت مشکل ہو گا تاہم گذشتہ سال 2017سے قومی ٹیم میں بہت دم خم دیکھنے میں آیااور کارکردگی کے لحاظ سے اسے پاکستانی کرکٹ کے لئے بہترین سال کہا جاسکتا ہے پاکستانی ٹیم نے اس دوران6ٹیموں کے ساتھ18میچ کھیلے جن میں سے12میں اسے کامیابی ملی ،،بابر اعظم نے چار سینچریاں بنائیں حسن علی سب سے کامیاب باؤلر ثابت ہوئے جنہوں نے ان میچوں میں 45وکٹ حاصل کرکے مخالف بیٹسمینوں پر دہشت طاری کر دی ،نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر محمد عامر ،حسن علی اور فہیم اشرف کا جہاں کڑا امتحان ہو گا وہیں بیٹسمینوں پر ان سے بھی بڑھ کر ذمہ داری عائد ہو گی جو وہاں کی کنڈیشن میں خود کوایڈجسٹ کر پائیں گے مگر حقیقت یہی ہے کہ نیوزی لینڈ کے سرد موسم میں کھیلنا ایشیائی ٹیموں کے لئے ہمیشہ امتحان رہا ہییڈ کوچ مکی آرتھر کے مطابق ان وکٹوں پر بلے بازوں کو کارکردگی کا بہت خیال رکھنا ہو گااور بلے باز ہی کامیابی کی اصل کنجی ثابت ہوں گے اس لئے بیٹسمینوں کا وہاں خود کو ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہو گا،کپتان سرفراز احمد نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اس بار نیوزی لینڈ کو اس کی سر زمین پر ضرور شکست دیں گے یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی ٹیم مجموعی طور پر اس وقت شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان میں لابنگ ہو یا وہ Defnciveکھیلیں ڈر کر ھکیلنا ہمیشہ ہماری ٹیم کا مہنگا پڑا ہے موجودہ سکواڈ اس حوالے سے بہترین ہے لابنگ بھی نہیں ہے شعیب ملک اور محمد حفیظ جیسے جہاں تجربہ کار سٹارز ہیں وہیں نوجوان اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا میں نام پیدا کرنے والے کھلاڑی بھی شامل ہیں،پاکستانی ٹیم روزانہ تربیتی سیشن کے علاوہ پریکٹس میچ میں بھی نیوزی لینڈ الیون کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی جس سے ٹیم کا مورال یقیناً بلند ہوا گا اس پریکٹس میچ میں شاہینوں نے کیویز کو 120رنز سے شکست دی جن میں اوپنر بیٹسمینوں اظہر علی اور فخر زمان نے سینچریاں بنائیں دونوں کھلاڑیوں نے بہترین شراکت قائم کی اور ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے ،دوسری جانب نیوزی لینڈ نے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو سیریز سے آؤٹ کر دیا اور آخری ٹی ٹونٹی میں بھی کامیابی حاصل کر کے پاکستان سے T20کی عالمی رینکنگ کی پہلی پوزیشن چھین لی اس میچ میں کولن منرو 53گیندوں پر 10چھکوں کی مدد سے 104رنز بنا کر عالمی ریکارڈ بنا ڈالا وہ ٹی ٹونٹی میں تین سینچریاں بنانے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں انہوں نے تیز ترین سینچری کا ریکارڈ جو کہ نیوزی لینڈر برینڈن میک کولم کے پاس گذشتہ آٹھ سال سے تھا وہ بھی چھین لیا،، قومی کرکٹ ٹیم تربیتی کیمپ کے بعد چند روز قبل نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور سے نیوزی لینڈ روانہ ہو گئی تھی ،پاکستان کا 14رکنی اسکواڈ جن میں کپتان سرفراز احمد ،اظہر علی ،فخر زمان ،امام الحق ،بابر اعظم ،شعیب ملک ،محمد حفیظ،حارث سہیل ،فہیم اشرف،محمد نواز ،محمد عامر ،حسن علی،عامر یامین اور رومان رئیس پاکستان سے روانہ ہونے والے کھلاڑیوں میں تھے جبکہ شاداب خان بیرون ملک ہونے پر نیوزی لینڈ میں ٹیم کو جوائن کریں گے جبکہ ابھی تک نیوزی لینڈ نے پہلے دو میچوں کے لئے سکواڈ کا اعلان کیا ہے جن میں کپتان کین ولیمسبن،ڈک بریسویل،ٹوڈا یسٹل،ٹرنٹ بولٹ،لوکی فرگیوسن ،مارٹن گپتل،میٹ ہنری،کولن منرو نکولس ،مچل سینٹنر،ٹم ساؤدھی اور رواس ٹیلر شامل ہیں ،جبکہ ان کے ون دے سکواڈ میں روس ٹیلر اورٹم لاتھن بھی ہیں نیوزی لینڈ کے مایہ ناز اوپنر بیٹسمین مارٹن کیٹل بھی انجری کے بعد صحت یاب ہو کر ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں،قومی ٹیم کے ساتھ 9رکنی آفیشل ٹیم بھی نوزی لینڈ پہنچی ہے جن میں مینجر طلعت علی،ہیڈ کوچ مکی آرتھر ،فیلڈنگ کوچ اسٹیورکسن،فٹنس کوچ گرانٹ لوڈن،باؤلنگ کوچ اظہر محمود ،بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور،ٹیم اینالسٹ طلحہ اعجاز بٹ،میڈیا مینجر عون زیدی اور سیکیورٹی مینجر کرنل (ر)اعظم شامل ہیں ٹیم فزیو تھراپسٹ کا انتظام نیوزی لینڈ سے ہی کیاجائے جائے گا،پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ 9جنوری کو نیلسن،تیسرا13کو ڈوینڈن ،چوتھا 16کو ہملٹن اور آخری 19جنوری کو ولنگٹن میں ہی کھیلا جائے گا یوں ون ڈے سیریز کا پہلا اور آخری میچ ایک ہی شہر (ولنگٹن) میں کھیلے جائیں گے،T20کے تین میچوں میں پہلا 22کو ولنگٹن میں ہی ،دوسرا25کو آکلینڈ اور تیسرا 28جنوری کو ماؤنٹ ایگنوئی میں کھیلا جائے گا یوں دورہ نیوزی لینڈ کا اختتام ہو جائے گا ،پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آج تک ھکیلے جانے والے میچوں میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مجموعی طور پر بہتر رہی ہے تاہم نیوزی لینڈ کی سر زمین پر کیویز کو برتری رہی،نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کو نیوزی لینڈ میں سات بار شکست جبکہ 2بار کامیابی ملی ہے پاکستان کیویز کو پانچ بار شکست ہوئی ایک سیریز ڈرا ہونے کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں دو سیریز کیویز کے نام رہیں،T20کی چار سیریزمیں دو نیوزی لینڈکے نام رہیں ایک پاکستان اور ایک ڈرا رہی،دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 98ون ڈے میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں پاکستان کا پلہ بھاری رہا 53پاکستان اور42نیوزی لینڈ کے نام رہے ایک ڈرا اور دو بغیر نتیجہ ختم ہوئے،ون ڈے میں نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا ٹوٹل 369/5اور پاکستان کا 364/7ہے،T20میں میزبان ٹیم کا رنز کا بڑا مجموعہ196/5اور مہمان ٹیم کا 183/6ہے ون ڈے میں شاہینوں نے 15اپریل1988کو شارجہ میں نیوزی لینڈ کو 35.5اوورز میں محض64سکور پر ڈھیر کر دیا تھا ،پاکستان کا کم ٹوٹل 118رنز ہے،T20میں نیوزی لینڈ کا کم سکور 80اور پاکستان کا101ہے،اوپنر بیٹسمین مارٹن گپتل انتہائی تجربہ کار بیٹسمین ہیں 149نیومیچوں میں شرکت کر کے 12سینچریاں اور32نصف سینچریاں جوڑ چکے ہیں ان کا کسی بھی میچ میں انفرادی سکور 237ہے،روس ٹیلر بیٹنگ اور ٹم سودھی باؤلنگ میں پاکستان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،نیوزی لینڈ کے 27 سالہ کپتان کین ولیمسبن اب تک118میچوں میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں ان کی ون ڈے میں9سینچریاں اور32نصف سینچریاں ہیں اس کے علاوہ33وکٹیں بھی ان کے ریکارڈ میں شامل ہیں،44ٹی ٹونٹیز میں ان کی سات ففٹیاں ہیں،