-،-اصغر خان ایک عہدساز شخصیت ( پہلو ۔ صابر مغل) -،-

sab

صابر مغل
پاکستان ائیر فورس کے سابق سربراہ ائیر مارشل(ر)اصغر خان طویل علالت کے بعد 97سال کی عمر سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے،وہ پاکستان کے ایک بہادر سپاہی اور ہر قسم کی کرپشن سے پاک،ثابت قدم اور اصول پسند سیاستدان تھے انہوں نے ساری زندگی پاکستان کی خدمت میں گذار دی جیل میں پابند سلاسل ہوئے گھر میں نظر بند رہے مگر اپنے اصولی موئقف سے ایک اینچ بھی پیچھے نی ہٹے انہوں نے تو انتخابات میں دھاندھلی پر اپنے اعزازات بھی واپس کر دئیے،انہیں زندگی کے آخری ایام میں اکثر اسلام آباد کے کوہسار کرکٹ گراؤنڈ میں چہل قدمی کرتے دیکھا جاتا وہ بغیر سہارے کے نہیں چل سکتے تھے اسی وجہ سے کبھی ان کے ساتھ بیگم یا ملازم ہوتا،اصغر خان نے پاکستان فضائی کو بہت ترقی دی ان کی سیاسی زندگی کا اہم ترین ستون ان کا سپریم کورٹ میں وہ مشہور کیس تھا جو ان کے نام سے جانا جاتا رہا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی خصوصی ہدایت پر سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ،ڈی جی آئی ایس آئی کے سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی سمیت کل پانچ سینئر فوجی اہلکاروں نے 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کی شکست کو یقینی بنانے کے لئے سیاستدانوں میں 14کروڑ روپے تقسیم کئے تھے،اس مشہور زمانہ کیس کا فیصلہ عدالت اعظمیٰ نے اکتوبر2012میں دیا جس میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کاروائی کا حکم دیا گیا تھا، پاک فضائیہ کے یہ مایہ ناز سربراہ اور کمانڈر انچیف 17جون1921کو جموں میں پیدا ہوئے ان کے والد سردار رحمت اللہ خان فوج میں بریگیڈئیر تھے ان کے خاندان کا تعلق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ کے آفریدیوں سے تھاان کی والدہ کا نام غلام فاطمہ تھا،انہوں نے ایچی سن کالج لاہور کے بعد پرنس آف ویلز اینڈ رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون سے تعلیم حاصل کی،1936میں انڈین ملٹری اکیڈمی سے فارغ ہونے کے بعد انڈین آرمی میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کیا، 1940میں گریجویشن مکمل کی تو نویں رائل فورس میں کمیشن آ فیسر مقرر ہوئے 1941میں اندین ائیر فورس میں چلے گئے اسی سال انبالہ اور سکندر آباد سے ہوابازی کی تربیت حاصل کی ،اگلے سال نمبر تین اسکوارڈن انڈین ائیر فورس میں تعینات ہوئے بعد میں پہلے کمانڈنگ آ فیسر نمبر 1اسٹرائیکر گروپ پشاور ائیر بیس کے سربراہ مقرر ہوئے،1944میں برما میں بطور فلائٹ کمانڈر خدمات انجام دیں اور جنگ برما میں حصہ لیااس کے ساتھ ساتھ دوسری جنگ عظیم میں انہیں جاپانی فوجی ٹھکانوں پر ہوائی حملوں پر مامور کیا گیا،1945میں سکواڈرن لیڈر بن گئے 1946میں برطانیہ سے جیٹ اڑانے کی تربیت حاصل کی ،1947کے اوائل میں فلائنگ ٹریننگ سکول انبالہ میں چیف فلائنگ انسٹرکٹر مقرر ہوئے ،قیام پاکستان کے بعد پاکستان ائیر فورس کالج رسالپور نوشہرہ کو منظم کرنے کا فریضہ انجام دیا رسالپور میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ کے خیر مقدم اصغرخان نے ہی کیا تھا،1949میں گروپ کیپٹن بن گئے اور اس حیثیت میں آپریشنل پاکستان ائیر فورس کی کمان سنبھالی اسی سال ان کو رائل ائیر فورس سٹاف کالج برطانیہ سے اعلیٰ کارکردگی کا ایوارڈملا،1957میں ائیر وائس مارشل آرتھر میک ڈونلڈ کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم حسین سہردوری نے انہیں ائیر وائس مارشل کے عہدے پر ترقی دی اس وقت ان کی عمر صرف36سال تھی ،1958کو پاکستان ائیر فورس کے فور سٹار آفیسر ہو کرپاک فضائیہ کے پہلے مسلمان ایر چیف مارشل مقرر ہوئے ان کی تعیناتی کے دوران پہلے سکندر مرزا او ربعد میں ایوب خان صدر مملکت تھے،اس سے قبل وہ پہلے ہیڈ ڈائریکٹوریٹ جنرل آپریشن(DGAO)بھی رہے،اصغر خان کے دونوں بھائی خالد خان سکوارڈن لیڈر اور آصف خان پائلٹ تھے دونوں دوران ملازمت ہی خالق حقیقی سے جا ملے،اصغر خان نے سمنگلی ائیر بیس کوئٹہ،سرگودھا اور پشاور ائیر فورس کو جدید خطوط پر بہتر بنایا ایرو ناٹیکل کمپلیکس کامرہ انہی کی سوچ اور کاوشوں کی وجہ سے آج پاکستان کا بہترین ادارہ ہے جہاں ایف17تھنڈر جیسے طیارے بن رہے ہیں،پائلٹوں کی تربیت کے لئے بھی بہت محنت کی انہوں نے بطور سربراہ پاک فوج کے لئے طیارے اور دیگر سازو سامان حاصل کرنے کے بھرپور کوشش میں کامیاب رہے اصغر خان نے امریکہ سے فائٹر جیٹ،F86سیپروز،F104سٹار فائٹر،B.57کین ہیرا، C.130ہرکولیس ، T.33اور T.37ائیر کرافٹ حاصل کئے،اصغر خان1965میں ریٹائرڈ ہوئے دوران ملازمت انہیں ہلال قائد اعظم اور ہلال پاکستان ایوارڈز سے نوازا گیا ،ایٹائرمنٹ کے بعد اصغر خان کو محکمہ ہوا بازی کے ناظم اعلیٰ اور PIAکے صدر نشین مقرر ہوئیاس دوران انہوں نے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن آف امریکہ سے کمرشل پائلٹ لائسنس بھی حاصل کیا،ان کے دور میں پی آئی اے کے کم ترین ائیر کرافٹ حادثے کا شکار ہوئے جبکہ یہ ادارہ High Net Profit پر جا پہنچاان کے اس دور کو PIAکا Glod Ageبھی کہا جاتا ہے ان کے دور میں ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کی یونیفارم نئی مقرر کی گئی ،پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ضرب عضب جیسے آپریشن ان کے لئے نئے نہیں تھے خود انہوں نے برطانوی راج میں بحیثیت سکوارڈن لیڈر میراں شاہ میں باغیوں کے خلاف فضائی حملوں میں حصہ لے چکے تھے،1969میں اصغر خان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور اپنی جماعت جسٹس پارٹی کے نام سے بنائی اسی سال صدر ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں بھرپور حصہ لیا ، 1972میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کا نام بدل کرپاکستان تحریک استقلال رکھ لیا،1971میں انتخابی دھاندلی اور پاکستان کے دولخت ہونے پر اصغر خان نے احتجاجاً ہلال پاکستان اور ہلال قائد اعظم ایوارڈز حکومت کو واپس کر دئیے،بھٹو دور میں پاکستان قومی اتحاد کے سرکردہ رہنماء بنے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا انتخابات میں کراچی اور ایبٹ آباد سے منتخب ہوئے مگر PNAکی جانب سے بھٹو حکومت کے انتخابی نتائج نہ ماننے پر دونوں نشستوں سے استعفیٰ دے دیا،ان کی بھر جدجو جہد پر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں مارچ تا جون 1977کوٹ لکھپت جیل لاہور اور سنٹرل جیل ساہیوال میں قید کئے رکھا،انہوں نے ا س پر ملٹری قیادت کو خط بھی لکھے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے حالات انتہائی برے ہیں لہٰذا ٹیک اوور کیا جائے ،بعد ازاں تحریک استقلال میں شامل ہونے والوں میں نواز شریف،خورشید قصوری،اعتزازاحسن،رشید احمد،جاوید ہاشمی،اکبر بگٹی،مشاہد حسین،راجہ نادر پرویز،گوہر ایوب خان،محمد اعلی شاہ،احمد رضا قصوری،شیر افگن نیازی،میاں منظور احمد وٹو،سیدہ عابدہ حسین اور سید فخر امام شامل ہیں جو بعد میں مسلم لیگ میں چلے گئے اصغر خان کی جماعت نے بڑے نامور سیاسدانوں کو جنم دیا مگر خود ان کا یہ سیاسی تجربہ دیگر عسکری پس منظر رکھنے والے رہنماؤں کی طرح انتخابات کی حد تک کامیاب نہ رہا،اصغر خان کو صدر ضیا الحق نے وزارت کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کر دیا بعد ازاں انہوں نے جنرل ضیا الحق کی پالیسیوں اور وعدوں پر عمل نہ کرنے پرسخت اختلاف کیا ایم آر ڈی میں شامل ہو گئے اسی حرکت پر ضیا الحق نے انہیں 16اکتوبر1979سے2اکتوبر1984تک گھر میں نظر بند کئے رکھا،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا،پرویز مشرف دور میں ان کے بیٹے عمر اصغرخان وفاقی وزیر ماحولیات رہے جو 25جون2001میں پر اسرار طور گھر میں مردہ پائے گئے اور آج تک نہیں پتا چلا، کہ انہیں قتل کیا گیا یا انہوں نے خود کشی کی، سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں واضح ہوا کہ سیاستدانوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستی روکنے کے لئے رقوم تقسیم کی گئیں اور لینے والوں میں میاں محد نواز شریف،میاں شہباز شریف ،الطاف حسین،جامصادق،جاوید ہاشمی ،جماعت اسلامی و دیگر اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتیں شامل تھیں ،پیپلز پارٹی سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے اس انکشاف پر اصغر خان نے اعلیٰ عدلیہ سے اس بابت رجوع کیا تھا،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے اس بات کی تصدیق کی انہوں نے مہران بینک کے صدر یونس حبیب کے ذریعے چھ اکاؤنٹس اور ملٹری انٹیلی جنس سندھ کے سربراہ برگیڈئیر حامد کے ہمراہ یہ رقم تقسیم کیں مگر مرزا اسلم بیگ نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی،اصغر خان گو انتخابی سیاست میں قابل ذکر کارنامہ انجام نہ دے سکے تاہم وہ ایک منفرد سیاستدان تھے ان جیسی شخصیات کی آج تو پاکستانی سیاست میں بہت ضروت ہے انہوں نے اپنی اپرٹی تحریک استقلال کو 2012میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، اصغر خان نے بہترین مْصنف تھے انہوں نے 13کتابیں لکھیں،اصغر خان کی نماز جنازہ نورخان ائیر بیس میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی ان کی آخری رسومات کے لئے ان کا جسد خاکی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر لایا گیا انہیں پاک فوج کے چاک کو چوبند دستے نے سلامی دی ان کی نماز جنازہ میں وزیر اعظم شہاد خاقان عباسی،پاک فضائی کے سربراہ سہیل امان ،پاک بحریہ سربراہ ایڈ مرل ظفر محمود عباسی ،پاک فضائیہ کے حاضر سورس و ریٹائرڈ افسران،وفاقی کابینہ کی کئی وزراء اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی ،اصغر خان کے انتقال پر ملک بھر کی تمام اہم سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا جنہیں جن کی نورخان ائیر بیس پر نماز جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ہوئی کے پانچ بچے ہیں جن میں نسرین ،شیرین ،سائرہ ،عمر اصغر خان اور علی اصغر خان شامل ہیں جبکہ بیگم آمنہ شمسی جن سے ان کی شادی 1946میں ہوئی تھی،

as1 as as1