۔،۔پاکستانیوں کے پاس صلاحیت نہیں سرمایہ کی کمی ہے۔ پروفیسر زاہدہ ملک۔،۔
پاکستان اوورسیز کی ممتازسیاسی وسماجی ،کاروباری شخصیت اورکالم نگار پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ ملک نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے پاس صلاحیت نہیں سرمایہ اورسہولت کی کمی ہے۔اگرانہیں روزگاراور کاروبار کیلئے درکار سرمایہ فراہم کردیاجائے تووہ اپنے خاندان سمیت پاکستان کی کایا پلٹ سکتے ہیں ۔ کم آمدنی کی پریشانی سے دوچار افراد کاہاتھ تھامنا ہوگا،ان کی آبرومندانہ مدد سے انہیں معاشرے کامفیدشہری بنایاجاسکتا ہے۔ قومی خودداری کی حفاظت کیلئے عوامی سطح پرخودانحصاری کوفروغ دیناہوگا ۔پاکستان کے غیوراورانتھک لوگ محنت سے نہیں گھبراتے مگر ریاست ان کی خداداد صلاحیتوں سے مستفید نہیں ہوتی ۔ پاکستانیوں کے پاس قابلیت اورہنر ہے مگر ضروری وسائل نہیں ہیں۔وسائل کی کمی کے سبب عام آدمی پر مختلف مسائل کابوجھ بڑھتا جارہا ہے۔اگربڑے کاروباری خاندان مائیکروفنانس کوفروغ دیں تواس احسن اقدام سے یقیناًکروڑوں پاکستانیوں کواحساس محرومی سے نجات مل سکتی ہے ۔ اپنے اعزازمیں ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ ملک نے کہا کہ ریاست رعایاکو باعزت روزگار،تعلیم ،صحت، ان کے بنیادی حقوق اورجدیدشہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے ،تاہم ریاست کے ساتھ ساتھ معاشرے کا کامیاب کاروباری طبقہ بھی ہنرمندوں کوآسان شرطوں پرقرض دے ۔پاکستان میں گھریلوانڈسٹری کے فروغ سے قومی معیشت کوتقویت ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بدامنی کے ڈانڈے بیروزگاری ،بے یقینی اوربے چینی سے جاملتے ہیں۔دنیا کے متعدد متمدن اورمہذب ملکوں کی معیشت کو مائیکروفنانس سے تقویت ملی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کیلئے ماحول سازگارہے ،ہنرمند وں کاہاتھ تھام کرانہیں اٹھاناہوگا۔