-،-قاری اورکتاب کاتعلق بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ نازبٹ -،-
ورلڈکالمسٹ کلب ویمن ونگ کی مرکزی صدر،سنڈے وائس کی مدیر ،منفردلہجے کی معروف شاعرہ ،مصورہ اورکالم نگارنازبٹ نے کہا ہے کہ کتاب بیزارمعاشرے مردہ کہلواتے ہیں۔قاری اورکتاب کاتعلق بحال کرنے کی ضرورت ہے۔قلم اورقرطاس سے وابستہ لوگ مہذب معاشروں کاسرمایہ افتخار ہیں ۔پاکستان میں مجموعی طورپرمعیاری ادب تخلیق ہورہا ہے۔ جہاں صادق جذبوں کے اظہارکاراستہ روکاجاتا ہے وہ معاشرے متعفن ہوجاتے ہیں۔ جس قلم کار کواپنے قلم کی توقیراوراس کے تقدس کاپاس نہیں تاریخ اسے فراموش کردے گی ۔علمی وادبی سرگرمیوں کے فروغ سے معاشرے میں انفرادی واجتماعی رویوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نازبٹ نے مزید کہا کہ قلم کار بنیادی طورپر اصلاح کارہوتا ہے ،کالم نگار مثبت تنقید کرتے ہوئے ملک وقوم کی تعمیر کیلئے اپناکرداراداکریں۔قلم کو معاشرے میں شعور بیدارکرنے کیلئے استعمال کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ شور سے شعورکودبایا نہیں جاسکتا،شرکوشکست دینے کیلئے معاشرے میں ہرسطح پر شعور کی بیداری ناگزیر ہے ۔ کالم نگاراپنے قلم سے جھوٹ پرچوٹ لگائیں ۔انہوں نے کہا کہ کالم نگاروں کو معاشرتی برا ئیوں اورمقتدرطبقات کی زیادتیوں کیخلاف اپناقلم اٹھاناہوگا۔اگرقلم انصاف کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طورپر اٹھایاجائے توظلم کاباب بندکیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ظالم کوظلم وستم کرنے سے نہ روکنا اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ انصاف کی فراوانی اورقانون کی حکمرانی کیلئے سچائی تک رسائی یقینی بنا ئی جائے ۔انہوں نے کہا کہ قلم سے سماجی برائیوں پرکاری ضرب لگاناہوگی ۔قلم کارباطل کاوجودمٹانے کیلئے ڈٹ کر حق کاساتھ دیں۔ ا نہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے گلی کوچوں میں بربریت کابازارگرم ہے ۔بھارتی اہلکاروں نے ہزاروں معصوم کشمیریوں کوشہید کردیا جبکہ سینکڑوں کی دنیا اندھیرکردی ۔ عالمی ضمیر جموں وکشمیر میں انسانیت سوزکاروائیاں روکنے کیلئے اپناکلیدی کرداراداکرے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں انسانیت اوراقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کامذاق اڑایاجارہا ہے ۔بھارت کی بدمست حکومت کاجموں وکشمیر میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنا برداشت نہیں کیاجاسکتا ۔