۔،۔ ایک سنہرے خواب کی تعبیر۔ نیلم جہلم ہائیڈر و پاور پراجیکٹ کی تکمیل ۔ ( پہلو ۔ صابر مغل )

sab

صابر مغل
آزادکشمیر میں نوسری کے مقام پر ضلع نیلم میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ طویل عرصہ بعد مکمل کر لیا گیا قومی اہمیت کا یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا،اس منفرد اور جدیدیت کے شاہکار منصوبے کا 90فیصد حصہ بلند و بالا پہاڑوں کے نیچے زیر زمین ہے،اس کی 68کلومیٹر ٹنل ،سرنگیں،ٹرانسمیشن لائنز،پاور ہاؤس مکمل جن میں پانی چھوڑ دیا گیا ہے اور تجرباتی کام کا آغاز ہو چکا ہے،968میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے اس عظیم منصوبے سے قومی گرڈ میں چار ارب اسی کروڑ یونٹ سستی بجلی شامل ہو گی جس سے سالانہ 55ارب روپے کا فائدہ جبکہ 50ارب روپے ریوینوحاصل ہو گافیول کی مد میں ہونے والی بچت اس سے الگ بتائی جاتی ہے،آزاد کشمیر کے ہیڈ کوراٹر مظفر آباد سے محض 42کلومیٹر دور جنوب میں جنت نظیر وادی نیلم میں دریائے نیلم پر بنایا گیا ہے دریائے نیلم کشمیر میں دریائے جہلم کا ایک معاون دریا ہے بھارت میں اسے کشن گنگا کے نام سے پکارا جاتا ہے وشانسر جھیل سے بننے والا دریا245 کلومیٹر طویل جس کی سطح سمندر سے بلندی 12172فٹ تک بلند ہے یہ دریا اپنے شفاف نیلگوں پانی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے جبکہ دریائے جہلم کوہ ہمالیہ کے پیر پنجال کے دامن میں چشمہ ویری ناک سے سری نگر کی ڈل جھیل سے پانی لیتا ہوا آگے بڑھتا ہے پہاڑی علاقہ ہونیکی وجہ سے اس کی گذر گاہ انتہائی تنگ ہے دریائے جہلم کی کل لمبائی 725کلومیٹر طویل ہے منگلا ڈیم اور ہیڈ تریموں اور رسول بیراج اسی پر قائم ہیں جبکہ دریائے جہلم دریائے نیلم،کنہار اور پونچھ کو اپنے دامن میں لے کر دریائے چناب میں جا شامل ہوتا ہے،وادی نیلم جہاں نیلم جہلم ڈیم بنایا گیا ہے ایک جنت نظیر وادی ہے اور یہ وادی دریائے نیلم کے دونوں کنارے واقع ہے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا ضلع بھی نیلم ہی ہے جس کا صدر مقام اٹھمقام اور کل رقبہ 575مربع کلومیٹر ہے اسی مقام پر دریا نیلم دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے ،چندما ہ قبل اکتوبر میں پراجیکٹ میں ڈیم کا کام مکمل کر کے اس میں پانی کی بھرائی کا کام شروع کر دیا گیا تھا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش8207 ایکڑ فٹ ہے جس میں پانی کی بھرائی کا کام ایک ماہ میں مکمل ہوا ،اس منصوبے کا پیداواری یونٹ تجرباتی طور پر چالو کر دیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ اس کا آغاز چند روز تک ہو جائے گا اس کا دوسرایونٹ مارچ تیسرا اور چوتھا یونٹ اپریل تک کام شروع کر دے گا یوں گرمیوں کی آمد سے قبل نیلم جہلم کی تمام پیداواری صلاحیت قومی گرڈ کا حصہ بن جائے گی،سپیل سے میں پانی کو کنٹرول کرنے کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لئے تین گیٹ رکھے گئے ہیں ڈیم میں پانی کی بھرتی کے بعد صرف ایک گیٹ کھلا رکھا گیا جو ڈیم کے زیریں جانب واقع علاقوں میں آباد لوگوں کو پانی کی ضروریات پوری کرے گا آبی حیات اور ماحولیات کے تحفظ کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے،اس ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں انڈر گراؤنڈ ٹرفرانسیسی ساختہ چار ٹربائنز جن میں سے ہر ایک کی استعداد242میگا واٹ ہے ٹوٹل چار لگائی گئی ہیں ان ٹربائینز سے پانی لہروں کی شکل میں آگے بڑھ پر پاور ہاؤس میں لگے پیداواری جرنیٹرز کو طاقت فراہم کرے گا، اس ڈیم میں مزید کئی قسم کی ٹنلز ہیں بعض مقامات پر دو متوازی ہیں جو بعد میں ایک ہو جاتی ہے یہ ٹنل ڈیم کے جنوب مشرق جانب ہیں ،زیر زمین ٹنل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کامنصوبے دنیا بھر میں دوسری جنگ عظیم کے بعد جنگی حملوں کے پیش نظر شروع کئے گئے ،یہاں تنگ اور پہاڑی سلسلہ ہونے کی بنا پر دریاء نیلم کے پانی کو ٹنل کے ذریعے دریائے جہلم کی جانب کرتے ہوئے بجلی پیدا کی جائے گی،نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے ڈیزائن کی منظوری 1989میں دی گئی جس میں ٹنل کی لمبائی اور جنریشن کی مقدار وغیرہ سب شامل تھا،اس منصوبے کو2002میں شروع کر کے 2008تک مکمل کیا جانا تھالیکن حکومتی نااہلیوں اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر یا اخراجات نہ ہونے پر یہ منصوبہ طوالت کا شکار ہوتا چلا گیا،کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں 2005میں آنے والے ہولناک زلزلے کے باعث اس کے ڈیزائن میں تبدیلی ضروری سمجھی گئی تا کہ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے جس پر ماہرین نے اسے Redezigned کیایہاں سے اس منصوبہ کی لاگت میں مزید اضافہ ہوا،7جولائی2007میں چینی تعمیراتی کمپنیوںCGGC۔(Gezhouba Group)،اور چائنا نیشل مشینری امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن نے اس ڈیم کو تعمیر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تو یہ منصوبے کا بڑا حصہ ان کے سپرد کر دیا گیا جبکہ پاکستانی انجینئر بھی اس کی تکمیل میں شامل رہے،جنوری2008میں جب ان کمپنیوں کے ساتھ معاملات آگے بڑھے تو8فروری 2008کو صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نیاس منصوبے کی تعمیر کا اعلان کر دیا،اکتوبر2011میں بڑی حد تک اس منصوبے کا کام کر لیا گیا اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بتایا تھا کہ ڈیزائن کی تبدیلی اور کام میں تاخیر کی وجہ سے اب منصوبے کی لاگت 167ملین سے بڑھ کر 935ملین ڈالر جبکہ2011 کے آخر تک یہ لاگت 2.89ارب ڈالر تک پہنچ گئی،یہ منصوبہ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(WAPDA)کے تحت مکمل کیا جا رہا تھا اس نے ملک بھر کے صارفین پر نیلم جہلم کے نام سے سرچارج لگا دیاجو آج تک وصول کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ بانڈز جاری کر کے واپڈا مشرق وسطیٰ اور چینی بینکوں سے قرضہ لینے میں کامیاب ہوکر ٹنل بورنگ مشینیں خریدی گئیں جو فروری2013میں آپریشنل ہوگئیں،کئی سال قبل شروع کیا گیا یہ منصوبہ اگست2013میں66فیصد مکمل ہو چکا تھاجبکہ ٹنل پر تیزی سے کام جاری تھا کہ اس دوران اکنامک افئیرز ڈویژن نے مزید فنڈز جاری نہ کئے اور کام ایک بار پھر رک گیا،2014میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اس نیلم جہلم منصوبے کا دورہ کیا اور کہا کہ اس منصوبے کو 2015کے وسط تک مکمل کر لیا جائے گا24دسمبر2014چینی ماہرین سمیت چار افراد کی کام کے دوران ہلاکت کے باعث کچھ دیر کام رک گیا تاہم نومبر2016تک فنڈز کی کمی اور موسمی تغیرات کے باوجود اس کا85.5فیصد کام مکمل کر لیا گیا اوراکتوبر2017میں جرنیٹرز ،ٹربائنز،پاور ،پاور ہاؤس کی مکمل تنصیب کے علاوہ ڈیم میں پانی کی بھرائی کا کام شروع کر کے اسے ٹیسٹ کیا جانے لگا،اس عظیم منصوبے کی تعمیر کے دوران 2007میں انڈیا نے دریائے نیلم پر ہی کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر دیا اس منصوبے سے پانی کی روانی بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ انڈیا نے دریا کا10فیصد حصہ تبدیل کرتے ہوئے دریا کا33 فیصد پانی روک لیا تھا،بہاؤ کم ہونے کے اثرات نیلم جہلم پر پہنچے توپاکستان2010نے بھارتی ڈیم گنگا کشن کے خلاف عالمی عدالت میں دستک دی کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جون2011میں عدالتی وفد نے دونوں ممالک کے منصوبوں کا دورہ کیا ،اگست2011 میں عدالت نے انڈیا سے جب مزید دستاویزات مانگیں تو انڈیا نے کشن گنگا ڈیم کی اونچائی 322فٹ سے 121فٹ تک کم کرنے کا عندیہ دے دیا اگلے ماہ عدالت نے انڈیا کو کشن گنگا پر کام بند کرنے کا کہا مگر اس نے روایتی ہٹ دھرمی کے تحت اپنا کام جاری رکھا پاکستان میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے بھارت ہر طرح کی جارحیت کے ساتھ ساتھ آبی جارحیت بھی شروع کئے ہوئے ہے انڈیا ہمارے تین مغربی دریاؤں پر تقریباً67ہائیڈرو پاور پراجیکٹس مکمل کرچکا ہے،ہر سال ہمارا30لاکھ کیوسک پانی سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے اڑھائی لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ ویران اور بنجر ہو چکا یا پڑا ہے ،اب پاکستانی عوام کی امیدیں بر آئی اور اسے 5.5بلین ڈالر کی لاگت سے مکمل کر لیا گیا ہے، سابق صدر ایوب خان جن کے دور میں نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ (NJHP) سے کچھ آگے دریائے جہلم پر منگلا ڈیم،دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم ،وارسک ڈیم کے علاوہ متعدد بیراج اور نہریں بنوائیں مگر بعد میں یہ کام ٹھپ کر دیا گیا اور دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے منصوبے بڑے دم خم سے لگائے جہاں ایک طرف بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا وہیں گردشی قرضوں کی بدولت لوڈ شیڈنگ کے عذاب نے بھی اس قوم کو جکڑ لیاآئی پی پیز کے 15بلین ڈالر کا سالانہ بل ادا کرتے ہیں اور کئی ارب ڈالر درآمدی تیل کا بوجھ اٹھاتے ہیں ،ہر طرف اندھیرے چھا گئے بے روز گاری کا طوفان کھڑا ہو گیا،نیلم جہلم کا ایک منصوبہ مکمل ہوا ہے جس کے ثمرات سے پوری قوم مستفید ہو گی اگر ہم کالا باغ ڈیم کو بھی سیسات کی بھینٹ نہ چڑھاتے تو آج پاکستان میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی اندھیرے چھٹ جاتے،قرض اتر جاتے نئے نہ لینے پڑتے ،دنیا بھر کے ماہرین اسے پاکستان کی خوشحالی کی کنجی قرار دے چکے ہیں مگر یہ سیاست بہت عجب ،غضب اور بے رحم ہے کالا باغ ڈیم جس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انڈیا اور دیگر ملک دشمن عناصر بھی ہے اور انڈیا اس کے لئے اربوں روپے جھونک چکا ہے تا کہ یہ ڈیم کسی صورت نہ بنے ،اسے تو متنازعہ بنا دیا گیا جبکہ بھاشا ڈیم پر تو کسی تو اعتراض نہیں اس کے لئے فنڈز کہاں ہیں ؟ اس کی تکمیل کی نوید عوام کب سنے گی؟ بہرحال گذشتہ 50سال میں مکمل ہونے والے اپنی نوعیت کا واحد منصوبے نیلم جہلم ڈیم کا بن جانا پوری قوم کے لئے بہت اچھا شگون ہے صرف اس ایک ڈیم کے بننے سے پاکستان کو سالانہ کتنا فائدہ ہوتا ہے یہ خود ماہرین کے علاوہ اب حکومتی عہدیدار بتا دیں گے۔