۔،۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ء اللہ زہری کااستعفٰی اورکوئٹہ میں خون کی ہولی ۔ ( پہلو ۔ صابر مغل )۔،۔
sab

صابر مغل
منگل کو زیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی اپنااستعفیٰ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کو پیش کر دیا کچھ دیر بعد ہی وزیر اعلیٰ کی نشست خالی ہونے کانوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا تو ساتھ ہی بلوچستان کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ،بعد میں بلوچستان اسمبلی کے 20منٹ کے مختصر اجلاس کے بعد اجلاس غیر میعنہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا،سپیکر نے قائدایوا ن نہ ہونے کی سمری محکمہ قانون کے ذریعے گورنر کو بھجوا دی ہے جو کسی وقت بھی نئے انتخاب کے لئے اسمبلی اجلاس بلا سکتے ہیں گورنر آئین کے آرٹیکل 133کے تحت ثنا ء اللہ زہری کو بھی نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں،نواب ثنا ء اللہ زہری نے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ آئین کے آرٹیکل (8) 130کے تحت دیا ہے کیونکہ بلوچستان میں گذشتہ دو ہفتوں سے سیاسی حالات انتہائی کشیدہ تھے یاد رہے کہ اس سیاسی بحران کے آغازمیں یکے بعد دیگرے کابینہ کے چھ ارکان نے استعفیٰ دے دیا تھا ،ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے وزیر اعلیٰ کی مدد اور اسے اس بحران سے نکالنے کے لئے بلوچستان پہنچے تو کئی مسلم لیگی اراکین نے ان سے ملاقات تک نہ کی جس پر انہوں نے محمود اچکزئی اور گورنر سے مشاورت کے بعد وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا تاہم نواب ثناء اللہ زہری نے شاہد خاقان کا یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا جس پرمیاں نواز شریف نے انہیں استعفیٰ دینے کی ہدایت کی ،تحریک عدم اعتماد کے متحرکین مولانا عبدالواسع ،اختر مینگل،عبدالقدوس بزنجو،میرجان محمد بلیدی ،سرفراز احمد بگٹی،صالح محمد بھوتان ،عبدالرحمان کھیتران ،زمرک خان اچکزئی اور میر خالد لانگو نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جمہوری عمل ہے جس سے جمہوریت کو مزید استحکام ملے گا،بلوچستان کے اگلے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لئے مسلم لیگ (ن) کے میر جان محمد جمالی نے کہا اب ہم اس کا انتخاب کریں گے مشاور جاری ہے جو اگلے48گھنٹے میں مکمل کر لی جائے گی انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی سربراہ نواز شریف سے اس معاملے میں متفق نہیں تھے اب وزیر اعلیٰ کا انتخاب لاہور کی بجائے کوئٹہ سے کیا جائے گا،نئے وزیر اعلیٰ کے صالح بھوتان ،سرفراز بگٹی ،نواب جنگیز مری کے نام سامنے آئے ہیں صالح بھوتان کو اس سلسلہ میں مضبوط امیدوار تصور کیا جار ہا تھا مگر جب نیشل پارٹی کے صدر سینیٹر میر حاصل بزنجو نے سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی حمایت کا اعلان کیا تو حالات میں نئی تبدیلی آگئی ہے،بلوچستان اسمبلی کی کل65 نشستوں میں سے11نشستیں نیشنل پارٹی کی ہیں جبکہ مسلم لیگ(ن) کی21 ،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی 14،جمیعت علمائے اسلام (ف)کی 8،مسلم لیگ (ق)کی پانچ،بلوچستان نیشنل پارٹی کی دو ،وحدت المسلمین ،بی این بی عوامی اور آزاد رکن ایک ایک ہیں ،میاں نواز شریف کے دیرینہ ساتھی مولانا فضل الرحمان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے رہنماء مولانا عبدالواسع نے کہا تھا ہم وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو بھرپور انداز میں کامیاب بنائیں گے یہ تحریک مسلم لیگ (ق) کے رکن اور سابق ڈپٹی سپیکر عبدالقدوس بزنجو نے جمع کرائی جس پر تحریک کے 14ارکان کے دستخط تھے جن میں میر خالد لانگو ،میر کریم شیروانی ،طار ق مگسی ،امان اللہ نوکزئی ،زمرک اچکزئی وغیرہ شامل تھے،نواب ثناء اللہ زہری بلوچستان کے 15ویں منتخب وزیر اعلی ٰ تھے اب 16ویں وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا ،نواب ثناء اللہ پر کرپشن اور چند ممبران کو نوازنے جیسے الزامات بھی ہیں چند روز قبل صوبائی سیکرٹری کی گرفتاری عمل میں آئی جو ان کے انتہائی قریب تھا جس پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں ،بلوچستان میں اس سیاسی بحران اور تبدیلی کے بعدکوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے ایک بار پھر کوئٹہ کو لہولہان کر دیا یہ دھماکہ اسمبلی کی عمارت سے محض تین سو میٹر پرپیش آیا ،اسمبلی کے مختصر اجلاس کے اختتام پر خود کش بمبار نے ایف سی کی گاڑی کو نشانہ بنا ڈالا،وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے اسمبلی اجلاس کے لئے سیکیورٹی کے لئے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے ،وزیر اعلیٰ کے استعفیٰ کے باوجود اسمبلی اجلاس ضروری تھا جو چند منٹ بعد ہی اختتام پذیر ہو گیا ،کچھ ایم پی ایز نکل چکے تھے کئی نکل رہے تھے اور کچھ ابھی اسمبلی کی عمارت کے اندر ہی تھے سیکیورٹی کی وجہ سے صبع سے ہی زرغون اور دیگر روڈ عام شہریوں اور ٹریفک کے لئے مکمل بند رہے جیسے ہی وی آئی وی موومنٹ کا آغاز ہوا تب ریڈ زون میں ٹریفک کو کھول دیا گیا،اسی دوران بلوچستان فرنٹئیر کا ٹرک اسمبلی کی عمارت سے محض چند میٹر ہی دوری پر جب جی پی او چوک پہنچا تو اسے ایک خود کش بمبار نے نشانہ بنا ڈالا،خود کش بمبار کے موٹر سائیکل ٹکرانے اور پیدل آنے پر متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں ، دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور دور تک سنائی دی گئی اسمبلی عمارت سمیت گردو نو اح کی عمارات لرز اٹھیں،کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے کے باعث احاطہ اسمبلی میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ،آئی جی بلوچستان معظم جاہ جائے دھماکہ پر پہنچ گئے ان کے مطابق دہشت گردی کی اس بھیانک واردات میں4 پولیس اہلکاروں احسان اللہ ،زین العابدین ،خیر الدین،منیر احمد اور شہری اور ایک نامعلوم شخص شہید جبکہ پولیس اہلکاروں علی دولت،امیر بخش،غلام محمد،محمد رفیق،نور محمد،خادم حسین ،اسداللہ ،محب علی،گل محمد،واحد بخش،جمیل اور شہری شیر محمد،محمد رفیق،ظہیر خان ،محمد شاہ،نصراللہ ،شمس الدین ،امان اللہ سمیت 26افراد شدید زخمی ہیں جن میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے معظم جاہ نے کہا ہم نے دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کو ناکام بنایا ہمارے حوصلے اور عزم بلند ہے اس واقعہ میں ملوث دہشت گرد بھی افغانستان سے آیا ،لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال پہنچایا گیا اس دوران سیکیورٹی خدشات کے تحت کسی بھی عام شخص کو ہسپتال میں داخل نہیں ہونے دیا گیا ،ڈپٹی کمشنر فرخ رفیق نے کہا کہ حملہ آور نے پولیس ٹرک کو ہی نشانہ بنایا،اس حملے میں قریب سے گذرنے والی مسافر بس بھی شدید متاثر ہوئی ،ڈی جی بم ڈسپوزل سکواڈ اسلم ترین کے مطابق یہ خود کش دھماکہ تھا جس میں بلوچستان کانسٹیبلری کی نفری کو ٹارگٹ کیا گیا،دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق خود کش حملہ آور کی عمر 15سے20سال کے درمیان تھی اور اس دھماکے میں تقریباً8سے10کلوگرام بارود استعمال کیا گیا،حملہ آور کی باقیات اور دیگر شواہد کو اکٹھاکر کے تجزیہ کیا جا رہا ہے پولیس کے مطابق حملہ آور اسمبلی کی عمارت کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا مگر سیکیورٹی کی وجہ سے وہ ایسا تو نہ کر سکا البتہ پولیس ٹرک اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گیا،اس دھماکے سے چند گھنٹے قبل وزیر اعلیٰ نے گورنر کو استعفیٰ دے دیا تھا،ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق خود کش حملے کی ذمہ داری پاکستان تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے،رواں سال میں کوئٹہ سمیت بلوچستان میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکہ تھا چند روز قبل بلیلی کے علاقے میں بم دھماکے میں سات سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے،یکم جنوری کو افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں دو سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد شدید زخمی ہوئے تھے تاہم یہ تیسرا دھماکہ کئی قیمتی جانیں لے گیا، گذشتہ سال کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں فرقہ ورایت اور مذہبی تشدد کے واقعات میں 242افراد اپنی جان سے گئے ان شہداء میں زیادہ تر کا تعلق لیویز فورس ،پولیس،فرنٹئیر کورپس سے تھا جن میں کئی شہری بھی شامل تھے،ایف سی پر ہونیوالے14حملوں میں45اہلکار شہید ہوئے ،پولیس پر ہونے والے17حملوں میں سنیئرافسران سمیت 51پولیس اہلکار شہید ہوئے جن میں ڈی آئی جی حامد شکیل ،ڈی پی او ساجد خان مہمند،ایس پی محمد الیاس ،مبارک شاہ اور عبدالسلام شامل تھے،مذہب کی بنیاد پر 6حملوں میں11شہید جبکہ10افرادزخمی ہوئے البتہ2015کے مقابلے میں گذشتہ سال دہشت گردی میں واضح33فیصد کمی ہوئی،افغانستان میں امریکی ناکامی کے منفی اثرات ایک بار پاکستان کے لئے شدید ترین خطرہ بن سکتے ہیں،اسی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لئے امریکہ نے پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈال دیا ہے جس کی بنیادی وجہ مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی بتائی گئی ہے ،امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس فہرست میں برما،چین،اریٹیریا،ایران،شمالی کوریا،سوڈان ،سعودی عرب،تاجکستان،ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں جن میں بھی مذہبی آزادی پر بہت قدغن لگائی لگائی جاتی ہے،امریکہ نے گذشتہ دنوں پاکستان کے خلاف شدیدہرزہ سرائی کی ،دھمکیاں دے رہا اور اب امدادی عسکری رقم بھی بند کر دی ہے یہ امریکی رویہ کسی بہت بڑی سازش کی کڑی لگ رہی ہے،چند روز قبل پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس کی ایک رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کا اثر پاکستان میں بڑھتا جا رہا ہے ،گذشتہ سال دہشت گردی کی چھ بڑی کاروائیاں ہوئیں جن میں153افراد شہید ہوئے ان کی ذمہ داری داعش نے ہی قبول کی تھی ،اس وقت بلوچستان میں داعش،کالعدم تحریک طالبان،تنظیم الاحرار،بلوچستان لبریشن آرمی اور لبریشن فرنٹ غیر ملکی ایجنسیوں کے ہمراہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں ،ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کرتے ہوئے مزید ٹھوس اقدامات کئے جائیں،دہشت گردی کی اس گھناؤنی واردات سے ہٹ کربلوچستان حکومت کا یوں جانا ماہرین کے نزدیک مسلم لیگ (ن) کے خلاف شروعات ہیں لگتا ہے اب پنجاب کی باری ہے،