-،-چیف جسٹس بلدیہ ٹاؤن پر بھی نظر کرم کردیں ‘ این جی پی ایف-،-
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) صحت و تعلیم کی سہولیات میں اضافے کیلئے چیف جسٹس کے اقدامات کو قابل تحسین اور محکمہ صحت کے سینئر افسران کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں13جنوری کو طلبی کو اصلاحی اقدام قرار دیتے ہوئے نیکسٹ جنریشن پروٹیکشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین عمران چنگیزی‘ ماہرین قانون الطاف میمن ایڈوکیٹ ‘ صدیق بلوچ ایڈوکیٹ ‘ یاسین خان مہران والا ایڈوکیٹ ‘ فرزند جونا گڑھ اقبال چاند ‘ دی آل میمن جنرل جماعت کے بانی صدیق عثمان سایانی ‘ سایانی ویلفیئر کے چیئرمین یونس سایانی ‘ سماجی رہنما فاطمہ میمن اور ڈسٹرکٹ ویسٹ کی معروف سیاسی ‘ سماجی وعوامی شخصیات نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ صحت کے حوالے سے اصلاحی پروگرام میں بلدیہ ٹاؤن کو خصوصی ترجیح دی جائے کیونکہ کراچی کے سترہ ٹاؤنزمیں یہ واحد ٹاؤن ہے جہاں صحت کی سہولیات سے سے موجود ہی نہیں ہیں گویہاں اسپتالوں کیلئے کئی بلڈنگز تعمیر کی گئی ہیں مگر آج تک نہ تو ان بلڈنگوں میں مشینری و عملہ آیا اور نہ ہی ان اسپتالوں کا افتتاح ہوا جس کی وجہ سے یہ بلڈنگیں بوسیدگی کا شکار ہورہی ہیں اور بلدیہ ٹاؤن کے مکین ہمہ اقسام حادثات ‘ بیماری‘ زچگی یا دیگر کسی بھی ایمر جنسی کی صورت علاج و معالجہ کیلئے میلوں کا سفر طے کرکے سول ‘ عباسی ‘ جناح یا دیگر کسی اور اسپتال جانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول کی بات ہے ۔ اس موقع پر الطاف میمن ایڈوکیٹ نے چیف جسٹس کی خدمات و حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ بلدیہ ٹاؤن میں سرکاری اسپتالوں کی عدم موجودگی کے حوالے سے بھی سوموٹو نوٹس لیں اور سندھ و کراچی حکومت کیساتھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ویسٹ سے بھی جواب طلبی کرتے ہوئے بلدیہ ٹاؤن میں قائم غیر فعال اسپتالوں کو فعال کرائیں !