۔،۔ معصوم کلی ۔ زینب کے قتل پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوششیں۔،۔

شان پاکستان جرمنی، سوشلستان والوں کی سوجھ بوجھ جواب دے چکی ہے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں ،عمران خان کی تیسری شادی پر توجہ دیں یا قصور میں ہونے والے ہولناک واقعہ کی مذمت کریں، سوشلستان ویں غم و غصے اور قہر و غضب کا یہ عالم ہے کہ لاکھوں ٹویٹس اب تک مذمت اور پھانسی کا مطالبہ کر چکے ہیں دوسری طرف پریس کلب اسلام آباد اور کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے میں چند درجن سے زیادہ افراد اتنی ہی موم بتیوں کے ساتھ بمشکل اکٹھے ہوئے ، یہاں تک کہ ایک انسانی حقوق کے کارکن نے زینب کے حوالہ سے بات کرنے سے بھی انکار کر دیا بوجہ کوئٹہ کے ہلاک شدگان کے بارے میں بات نہیں کی جا رہی، قصور میں ننھی کلی کے بیہیمانہ قتل کے بعد ملک کے سیاسی رہنماوُں کا رُخ قصور میں بچی کے گھر کی طرف مڑ گیا ، یعنی اب سیاست کا دارو مدار صرف اور صرف زینب کے گرد گھوم رہا ہے ، عوامی نیشل پارٹی کے رہنماء افرا سیاب خٹک نے لکھا ہے کہ *زینب اور دیگر بے گناہوں* کے  انصاف کے مطالبہ پر سب متفق ہیں لیکن دھرنا بازوں سے ہوشیار رہیں جو اس معصوم ننھی کلی کے خون کو تخت لاہور حاصل کرنے کی لڑائی میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ایسا کرنا معصوم زینب کو دوسری بار قتل کرنے کے مترادف ہو گا۔ سرفراز احمد رانا نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان لوگوں کو * رانگ نمبر*قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ ان تمام رانگ نمبروں سے ہوشیار رہیں کہ جو خود غرضی سے معصوم زینب کے خون ناحق پر اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے سیاست کھیل رہے ہیں۔ صحافی اور اینکر طلعت حسین نے لکھا ہے مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ ایک ریپ اور قتل ہونے والی بچی کی تصاویر اور نام ذاتی ۔پی۔آر۔ کے ایک لامتناہی سلسلہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ،قصور کے ریپ اور قتل کے بیہیمانہ واقعہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جانا اتنا ہی ظالمانہ ہے، آپ دماغی طور پر بہت ہی غیر متوازن ہوں گے لگر ایسا کریں۔ عمار مسعود نے ایسے موقع پرست افراد کو *گدھ*سے تشبیع دی ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ المیہ یہ ہے کہ ننھی زینب کے المناک اور درد ناک واقعہ پر مردار کھانے والے سب سیاسی گدھ آسمانوں سے اتر آئے ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہنگامے کروا کر اس معصوم ننھی کلی کا مردہ بدن اپنی ناپاک اور خون آلود چونچوں سے نوچ رہے ہیں۔ طلعت حسین نے یہ بھی لکھا ہے کہ پشاور کے اغوا اور ریپ پر تعزیت کرنے کوئی نہیں گیا،نوشہرہ کے متاثرین سے آنکھیں چرائی جا رہی ہیں، ڈیرہ اسمائیل نہیں گئے جہاں بچی کو ننگا کر کے بازار میں گھمایا گیا۔محمد اکبر باجوہ لکھتے ہیں کہ زینب کے والد نے *جے۔آئی۔ٹی*کے سربراہ کے نام کو مسترد کر دیا جو ان کے مطابق احمدی ہے مگر اس بات کا تفتیش سے کیا تعلق ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ*انصاف نہیں چاہتے بلکہ عوامی تحریک کے اعلی رکن ہونے کی حیثیت سے سیاست کرنا چاہتے ہیں*

q