دستک

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی

atta_ur_rehman_ashraf
قیادت کا فقدان

جب سے عدالت عظمہ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے وہ ہر ایک سے یہ پوچھتے ہیں کہ۔مجھے کیوں نکالا۔ اُس کا جواب حضرت علی علیہ السلام کے اس خطبے میں موجود ہے۔ مسلمانوں کی پیشوائی کیلئے اُنہوں ارشاد فرمایاکہ یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حاکم ہو جسکے ہر وقت دانت مسلمانوں کے مال پر ہی جمے رہیں۔نہ جاہل ہوکہ وہ اُنہیں اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہ کردے۔نہ ظالم ہو کہ اپنے ظلم سے خلق خدا کو پریشان کر دے۔نہ ہی مال و دولت میں نا انصافی کرنے والا ہو کہ کچھ لوگوں کو دے اور کچھ کو محروم کر دے اور نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا ہوکہ حقداروں کے حقوق ضائع کردے اورنہ سنت رسولﷺ کو معطل کرنے والا ہو کہ وہ امت رسولﷺ کو تباہ و برباد کردے۔اگر ان ارشادات کی روشنی میں دیکھا جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم اُمہ میں بھی ایسی قیادت کا فقدان رہا ہے جو اپنی اہلیت اور صلاحیت سے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر سکے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل اور دائمی ہے جب اُسے کسی قوم یاملک کاامتحان مقصود ہوتا ہے تو وہ اُن پرنااہل اور ظالم حکمران مسلط کر دیتا ہے جواپنی حماقتوں اورکردارسے اسطرح کی منصوبہ بندی اور فیصلے کرتے ہیں جو ملک و قوم کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں ہم قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں۔کشور خداداد پاکستان۔بنانے میں تو کامیاب ہو گئے مگر نا اہل قیادت کی وجہ سے اُسے سنبھالنے میں ناکام رہے اور جلد ہی ہمیں اپنے ایک بازو سے محروم ہونا پڑا اسے بد قسمتی سمجھیںیااسے نا اہلی تصورکیا جائے کہ مسلم اُمہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعدکسی ایک کی قیادت تسلیم کر کے ایک پلیٹ فارم پر متحد نہ ہو سکی بلکہ اغیار کی بچھائی ہوئی سازشوں میں شامل ہو کر۔ارض مقدس۔حجاز۔کو بھی ٹکروں میں تقسیم کرنے کے گناہ میں بھی شریک ہو گئے ۔میں بڑے دکھ سے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا کہ مسلم اُمہ کے حکمران امریکہ اور مغربی سامراج کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں اور وہ اُنہیں موم کی گڑیا کی طرح جیسے اور جہاں چاہتے ہیں موڑ کر اپنے مفادات حاصل کر لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب ستر کڑور مسلمان آباد ہیں اوراس کے علاوہ دنیا کی پچیس فیصد دولت کے مالک و مختار مسلمان حکمران ہیں مگر اس کے باوجود ہم اسقدر کمزور،بے بس،مجبور اور مظلوم ہیں کہ ہمیں ہر معاملے میں اغیار سے عدل و انصاف کی بھیک مانگنا پڑتی ہے یعنی ہم اپنے ہی جوتے اپنے ہی سروں پرکھا کراپنے غیرملکی آقاٗوں کی خوشنودی اور اُنکے دلوں کی تسکیں کا باعث بنتے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ الیکشن جیتنے کے بعد صدر ٹرنپ کا سب سے پہلا غیر ملکی دورہ ۔سعودی عرب کا تھا جہاں ۳۴ ممالک کے سربراہان مملکت کو امریکن صدر کی قدم بوسی کیلئے اکٹھا کیا گیا تھا تاکہ اُنہیں اپنے ہی برادر ملک ایران کے خلاف اتحاد کا یقین دلا کر امریکی سامراج کی اشیرباد لی جائے۔ ہمارے یہ نام نہاد حکمران ناگ دیوتا امریکہ اور مغربی طاغوت کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں جبکہ وہی طاقتیں آستین کا سانپ بن کر ہمیں زہر کے ٹیکے لگا لگا کراور مسلم اُمہ میں عرب و عجم، مسلکی اور لسانی اختلافات کو ہوا دیکر نفرت کے بیج بورہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے ان اختلافات میں ہی اُلجھے رہیں اور کسی اہل قیادت کے سامنے آنے کے تمام راستے بند کر دئیے جائییں اور وہ اپنے مفادات کے حصول میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کریں۔ کہا وت ہے کہ ایک دن ایک چوہا اُچھل کود کرتا ہوا شراب کے ڈرم میں جا گراجب اُسے باہر نکالا گیا تو اب اُسکی دنیا نشے کے خمار سے تبدیل ہو چکی تھی اُسے اب بڑی سے بڑی شے بھی چیونٹی نظر آتی تھی۔ وہ نشے کے خمار میں نتائج سے بیخبر ہر کسی سے اکڑ کر بات کرتااور ہر کسی کو دھمکیاں دیتااور للکاڑتا تھا۔امریکہ کے نئے صدر۔ رونلڈ ٹرنپ۔کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ حالات نے اُسے تازہ تازہ۔امریکہ۔جیسی سپر طاقت۔کا صدر بنادیاہے جس کا تصور شایداُس نے خواب میں بھی نہ کیا ہوگا۔کہتے ہیں کہ نشہ شراب کا ہو یا اقتدا ر کااپنا رنگ ضرور دیکھاتا ہے امریکن صدرپر بھی اقتدار کا نشہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی چڑھ گیاہے اور وہ نشے کی ترنگ میں دوست و دشمن کی تمیز بھی بھول گیا ہے اوروہ ہر کسی کو چیونٹی ہی سمجھ رہے ہیں مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کے بعض و اوقات ایک چھوٹی سی چیونٹی ہی ہاتھی کی موت کا باعث بن جاتی ہے کسی ملک یا قوم کی ترقی کا انحصار دانش مند ،اہل اور با صلا حیت قیادت کے بروقت اور موقع کی نزاکت کیمطابق فیصلوں اور منصوبہ بندی پر منحصر ہوتے ہیں امریکی صدرٹرنپ جس طرح ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر پاکستان، ایران اورکبھی شمالی کوریا کو دھمکیاں دیکر اقوام عالم کو مغلوب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اس کے علاوہ صدر رونلڈ ٹرنپ نے جسطرح بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کی حماقت کا اعلان کیا ہے نہ صرف انہوں نے فلسطینیوں کو دھوکہ دیا ہے بلکہ ایک ارب ستر کڑور مسلمانوں کے ایمان پر بھی حملہ کیا ہے بلکہ اُنکی غیرت کو للکارا ہے اب جس بھی مسلمان میں ایمان کی تھوڑی سی بھی رمک باقی ہے وہ کبھی بھی امریکہ کو اپنا قابل اعتماد دوست تسلیم نہیں کرئے گا۔ہماری دعا ہے کہ خدا ہمیں ایسی قیادت عطا فرمائے جو حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق سنت رسولﷺ پر عمل کرتے ہوئے حقدار کو حق دلا سکے اور ٹرنپ جیسے جنونیوں کو منہ توڑ جواب دے سکے آمین ثم آمین

Back to Conversion Tool