-.-،.پریس کانفرنس تحریک لبیک یارسول اللہ مؤرخہ 31جنوری 2018 ء                                                 -.-،
لاہور: تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین نے وطن عزیز میں دہشت گردی اور خود کش حملوں کو ہمیشہ حرام قرار دیا ہے اور اس موضوع پر متعدد فتوے جاری کئے ہیں۔ اور ہمیشہ واضح کیا ہے کہ اسلام میں جہاد کا اختیار ریاست کو حاصل ہے، کسی فرد یا گروہ کو جہادی لشکر بنانے کی قطعا اجازت نہیں۔ جہاد کے نام پر دہشت گردی در حقیقت فساد فی الارض ہے اور ریاست پر لازم ہے کہ ایسے فسادیوں کی بیخ کنی کرکے ریاست میں امن وامان قائم کرے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک لبیک یارسول اللہ کے مرکزی امیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی اور بانی وسرپرست اعلیٰ پیر محمد افضل قادری نے علماء ومشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیر اعجاز اشرفی، علامہ غلام عباس فیضی، علامہ عاشق نقشبندی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ پہلے انتخابی اصلاحات کے نام پر ختم نبوت قوانین میں ترامیم کی گئیں اور اب نئے بیانیہ کے عنوان سے علمائے حق پر پابندیاں لگانے کی پلاننگ کی گئی ہے تا کہ وہ منکرین ختم نبوت، منکرین ناموس رسالت، منکرین حدیث اور دین کیخلاف فتنوں کی روک تھام نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں 18 سو سرکاری علماء کو جمع کر کے ’’پیغام پاکستان‘‘ کے عنوان سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اور تجویز پیش کی گئی ہے کہ کسی کے بارے میں فیصلہ (فتویٰ) دینا کہ اس نے کفر کا رتکاب کیا ہے یا کلمہ کفر کہا ہے اس کا اختیار علماء دین اور مفتیان کرام کی بجائے حکومت اور کورٹ کے پاس ہونا چاہئے۔ نیز اس اعلامیہ میں علمائے حق کی آواز دبانے کیلئے مساجد میں ’’سرکاری خطبات جمعہ‘‘ کے اشارے دیئے گئے ہیں اور کئی ایک غیر مناسب نکات موجود ہیں۔ جبکہ تحریک لبیک یارسول اللہ سمجھتی ہے کہ پیغام پاکستان کے نام سے جاری کئے گئے اعلامیہ کی بعض شقیں درست نہیں، جنہیں نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی بھی اسلام مخالف قانون سازی کی گئی تو اسکی مزاحمت کی جائیگی۔ علامہ خادم حسین رضوی اور پیر محمد افضل قادری نے مزید کہا کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا علمائے حق کا شرعی منصب ہے۔ جبکہ قرآن مجید سورہ بقرہ آیت نمبر 159میں حق چھپانے والوں پر لعنت بھیجی گئی ہے اور حدیث پاک میں علم کو چھپانے والے علماء کو دوزخ کی آگ کی لگام ڈالنے کی وعید بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح صحابہ کبار، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین وسلف صالحین نے ہمیشہ فتنوں اور باطل نظریات کا رد بلیغ کیا ہے اور کفر کاارتکاب کرنے والوں کوہمیشہ کافر قرار دیا ہے۔ لہذا تحریک لبیک یارسول اللہ علمائے حق اور محافظین اسلام سے ملتمس ہے کہ وہ تحفظ دین کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ اور وفاقی وصوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ’’دھرنا ختم نبوت فیض آباد‘‘ کے معاہدہ پرعمل درآمدکرے، راجہ ظفر الحق رپورٹ بلا تاخیر شائع کرے، شہدائے ختم نبوت کے ذمہ داران کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے اور پنجاب میں چاروں اطراف لاؤڈ سپیکر پر اذان کی پابندی ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک لبیک یارسول اللہ 5فروری کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منائیگی اور شہر شہر جلسے جلوس اور ریلیاں ہونگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیشہ پرامن جدوجہد اور صبر وتحمل کا سبق دیا ہے، جرم جہاں بھی ہو جو بھی کرے جرم ہے اسکی مذمت کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، دین کی سربلندی کیلئے آخری دم تک کوشاں رہیں گے۔ افواہ ساز فیکٹریاں تحریک لبیک یارسول اللہ کو مشن سے نہیں ہٹا سکتیں۔