-،-روحانیت کا آفتاب۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی-،-

prof.Abdullah
خو د پسندی ، انا ، غرور کے خو ل میں جکڑے مو جودہ دور کے نام نہاد پڑھے لکھے مشینی انسان کے سامنے جب اولیا ء کرام کی کرامات کا ذکر ہو تا ہے تو تصوف کو افیون سمجھنے والے جھو ٹے دانشور سرے سے انکار کر دیتے ہیں ، ایسے ظاہری عقل مندوں کی خدمت میں عرض ہے کہ روحا نیت اورتصوف اپنی ذات کی تکمیل اورکا نٹ چھانٹ کا عمل ہے حق تعالیٰ جب کسی انسان پر کر م خا ص کرتا ہے اُسے اپنا عشق عطا کر تا ہے تو وہ عشق اورجنون کا راستہ اختیار کر تا ہے پھر ایسا انسان معرفت الٰہی کے لیے کثافت سے لطا فت میں ڈھلتا ہے کثافت سے لطا فت کے اِس عمل میں ایسا مسا فر کڑے مجا ہدوں عبا دات مرا قبے ریا ضت کی پل صراط سے گزر کر جب لطافت میں ڈھل جا تا ہے اپنی ذات کی خا میاں دھو ڈالتا ہے تو اُس پر نو رِ حق کی برسات ہو تی ہے اِس نو ر کی بدو لت اُس پر کا ئنات کے راز عیاں ہو نا شروع ہوتے ہیں اُس کی ذات سے مشاہدات اور کرا مات سر زد ہو تی ہیں تو سطحی علم کے ما لک ایسے انسان پر اعتراض کر تے ہیں جبکہ سچ تو یہ ہے کہ خالق کا ئنات اپنے ایسے پسندیدہ بندوں سے اہل دنیا کو متعارف کرا تا ہے ایسے بندوں کو مر جع خلا ئق بنا تا ہے ایسا ہی ایک واقعہ دہلی میں سلطا ن الشمس الدین التمش کے دربار میں پیش آیا جب ایک خو بصورت نو جوان عورت نے بادشاہ کے دربار میںآکر انصاف ما نگا کہ اے با دشاہ سلا مت مجھ پر رحم فرما یا جا ئے عورت نے گو د میں چھو ٹا بچہ اُٹھا رکھا تھا عورت چیخ چیخ کر فر یا دکر رہی تھی کہ میرے بچے کو انصاف دیا جا ئے میرے بچے کا باپ زندہ ہے لیکن میں نے پھر بھی بیوگی کی چادر پہنی ہو ئی ہے اور میرا بچہ با پ کے ہو تے ہوئے یتیم ہے عورت کی درد ناک حالت دیکھ کر با دشاہ کی پر جلال آواز گو نجی تمہیں انصاف دیا جا ئے گاتم بتا ؤ اِس بچے کا باپ کو ن ہے جس نے اِسے اپنا بچہ ماننے سے انکار کیا ہے عورت کی لر زتی آواز بلند ہو ئی جہاں پنا ہ بچے کا باپ بہت با اثر اور طا قتور ہے آپ اُس کا نام سننا گوارا نہیں کر یں گے مجھے جان بخشی کا یقین دلا یا جائے تو میں نا م بتا ؤں گی پھر سلطان الشمس نے عورت اور بچے کو پنا ہ دے دی تو عورت لرزتی ہو ئی آواز میں بو لی اِس بچے کا با پ قطب الدین بختیار کا کی ہے دربا رپر سنا ٹے کی چادر تن گئی دربا ریوں اور با دشاہ کی سانسیں رک گئیں کسی کو بھی اپنے کانوں میں گو نجنے والی آواز پر یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ با دشاہ کے مرشد تھے خوا جہ خوا جگان شاہِ اجمیر خوا جہ معین الدین چشتی کے مرید خا ص اور بابا فرید گنج شکر کے بھی مر شد اعلیٰ تھے دہلی کے لاکھوں متلاشیان حق کے راہبر راہنما تھے ۔ عورت کی فریاد پر با دشاہ کو زندگی کا مشکل ترین کام کرنا پڑا اپنے مر شد خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کو اپنی صفائی کے لیے دربار سلطانی میں بلانا پڑا ۔ اہل دربار خلیفہ اکبر سلطان الہند کے روحانی مقام کے مینار کو لر زتے دیکھ رہے تھے خلیفہ اکبر دربار میں آئے عورت کو دیکھ کر کہا میں نے اِس عورت کو زندگی میں پہلی با ر دیکھا ہے میں اِسے بلکل بھی نہیں جا نتا عورت مسلسل خدا کی قسمیں کھا کر دہائی دے رہی تھی کہ یہی میرے بچے کے باپ ہیں با دشاہ نے عورت کو سمجھا یا کہ الزام کی صورت میں سخت سزا بھی دی جا سکتی ہے لیکن وہ عورت اپنی با ت پر قائم تھی ۔ پھر عدالت بر خواست کر دی گئی سلسلہ چشتیہ کے چراغ پر داغ لگا نے کی کو شش کی جا رہی تھی قطب الدین ؒ دن رات کانٹو ں پر تڑپنے لگے تو رات کو مرشد کریم شاہ اجمیر خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ خوا ب میںآکر فرماتے ہیں کہ با دشاہ سے کہو میرے آنے کا انتظار کر و میرے آنے تک مقدمے کی کار روائی کو ملتوی کر دیا جا ئے خلیفہ اکبر کے مریدین انگا روں پر جھلسنے لگے کیونکہ با دشاہ بھی خو اجہ قطب الدینؒ سے بہت عشق کر تا ہے اِس لیے خو د کو روک نہ پا یا اِس لیے اِس نے اُس عورت کو کئی با ر تنہائی میں بلا کر سمجھا نے کی کو شش کہ کہ تم خوا جہ قطب الدینؒ کے روحانی مقام و مرتبے سے آشنا نہیں ہو وہ بہت بڑے بزرگ اور خدا کے بندے ہیں تم اُن پر الزام نہ لگا ؤ لیکن عورت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھی کہ قطب الدین بختیار کا کی ؒ ہی میرے غیر شرعی شو ہر اور بچے کے با پ ہیں اہل دہلی اور با دشاہ عورت کے اِس الزام کی وجہ سے شدید اضطراب میں مبتلا تھے کیو نکہ اُن کا روحانی پیشوا تہمت کے طو فان میں گھرا تھا لا ڈلہ مرید اپنے مر شد کریم خوا جہ خوا جگان عطا ئے رسول نائب رسول کے انتظار میں تھا اب شہر میں دبی دبی سر گو شیاں شروع ہو گئیں کہ خوا جہ قطب الدین پر الزام ثابت ہو چکا ہے با دشاہ سلا مت جانبداری کا مظا ہرہ کر رہے تھے آخر ایک دن التمش اپنے مر شد خوا جہ قطب کے دربار میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا مرشد کریم میں عرق ندامت میں غر ق ہوں کہ میرے دورِ حکو مت میں آپ پر اتنا بڑا الزام لگا یا گیا لیکن میں بے بس ہو ں کہ انصاف کا ترازو میرے ہا تھ میں ہے خوا جہ قطب ؒ بو لے میں دوبارہ عدالت میں پیش ہو نے کو تیا ر ہوں لیکن پیر و مرشد کا یہ حکم ہے کہ اُن کے آنے تک مقدمے کی کار روائی رو ک دی جا ئے اور پھر با دشاہ ادب و احترام سے واپس چلا گیا روحانیت کے منکرین حا سدین فتنہ پروازوں نے سر گوشیوں میں پھر سے بادشاہ پر تنقید شروع کر دی تو با دشاہ کا صبر کا پیما نہ چھلک پڑا دربارسجا یا اور پر جلال آواز میں کہا میں با خبر ہوں ان لوگوں سے جو مرشد کریم خوا جہ قطب الدین ؒ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں میں اِس انتظار میں تھا کہ حا سدین اپنی نا پاک حرکتوں سے باز آجائیں کیونکہ سارا دہلی مرشد کریم کے مقام اور اندازِ مسیحائی سے خو ب واقف ہے جس مردِ درویش کی جنبش چشم سے ہزاروں لا علا ج مر یضوں نے شفا پائی ‘روحانیت کے جس آفتاب سے ہزاروں زنگ آلودہ دلوں نے با طن کا نور پا یا آج یہ اُسی مسیحا کے خلا ف سازشیں اور با تیں کر رہے ہیں اگر میں انصاف پسند نہ ہو تا تو یہ مقدمہ سامنے ہی نہ لاتا لو گ میر ی نرم دلی کا فائدہ نہ اٹھا ئیں فتنہ فساد پھیلانے سے گریز کر یں اور خوا جہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے آنے کا انتظار کر یں قطب الدین اور اہل نظر روزانہ اُس راستے پر آکر نظریں لگا لیتے جس راستے سے اُس عظیم مردِ حق نے آنا تھا جس کے وجود نے تا ریخ کے چہرے کو ضیا بخشی جو روزِ قیامت تک کے لیے حقیقی سلطان الہند ٹہرا آخر کار وہ سعید گھڑی آگئی جب چھیا نوے سال کے بڑھا پے میں شاہ اجمیر دہلی تشریف لے آئے قطب الدین اور سارا شہر مر دِ پاکباز کے استقبال کے لیے نکل آیا شاہِ اجمیر اپنے لاڈلے مرید کے کردار پر لگا داغ دھونے آئے تھے با دشاہ خو د ننگے پا ؤں حا ضر ہوا اور رو رو کر معافی مانگی کہ اُس کے دور حکو مت میں خوا جہ قطب ؒ پر یہ الزام لگا شہنشاہِ اجمیر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے سارا شہر اُمڈ آیا تھا لوگوں کے جو ش و خروش کو دیکھ کر شاہ اجمیر کھڑے ہو ئے آپ ؒ کی با رعب آواز سکو ت کو تو ڑنے لگی درو دیوار آپ ؒ کی پر جلال آواز سے گو نجنے لگے میں خو ش ہو ں کہ مشکل کے اِس وقت میںآپ ؒ نے میرے قطب کا ساتھ دیا کیو نکہ قطب مُجھ سے ہے اللہ کے نیک بندوں پر ایسی بے شمار نازک گھڑیاں آتی ہیں لیکن صبر کے ساتھ صراط مستقیم پر قائم رہنا ہی اللہ کے بندوں کا وطیرہ رہا ہے یہ الزام قطب پر نہیں ہے یہ الزام تراشیاں میری ذات پر لگی ہیں ہم اُس نبی کریم ﷺ کے غلام ہیں جو دشمنوں کو بھی دعا دیا کر تے تھے میرا قطب بے گنا ہ ہے خدا ئے بزرگ و برتر ہی عزت و بے عزتی کا مالک ہے وہ دلوں کے حال خو ب جا نتا ہے قطب الدین ؒ کی بے گنا ہی حق تعالیٰ خو د ہی دکھا ئیں گے کیونکہ جو لو گ اللہ سے حقیقی عشق کر تے ہیں حق تعالی انہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھو ڑتے قطب الدین ؒ روحانیت کے وہ آفتاب ہیں جس کی روشنی پر کبھی بھی داغ نہیں لگ سکتا ۔