۔،۔ 5فروری یوم یکجہتی کشمیر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں منایا جاتا ہے-نذر حسین۔،۔
nh
نذر حسین جرمنی فرینکفرٹ۔ یوم یکجہتی کشمیر ہر سال 5فروری کے دن پاکستان میں حکومتی سطح پر منایا جاتا ہے، مظلوم کشمیریوں سے اپنی ہمدردی کے اظہار کے لئے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ریلیوں، سیمیناروں اور دیگر تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے انہی تقاریب میں اس بات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور پاکستانیوں کی کشمیر سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی، پاکستانی عوام کشمیریوں کی ہر سطح پر اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی، آج کے دن اقوام عالم کو اس بات کی بھی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ آج کے اس جدید دور میں ،ترقی یافتہ دور میں بھی ایک ایسی قوم ہے جس پر ترقی کے سارے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، وہ اپنی مرضی سے سانس تک نہیں لے سکتے جیسا کہ 14سو سال پہلے غلامی کا دور تھا، کشمیر میں ہر 25افرادپر ایک بھارتی فوجی (درندہ) تعینات ہے ، کشمیری قوم اقنی مرضی سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے، وہ اپنی مرضی سے کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے، جنوری 1989سے آج تک تقریباََ 121000دکانوں کو مسمار کر کے کشمیریوں کا معاشی قتل کیا گیا، اتنے ہی گھروں کو مسمار کر کے خاکستر کر دیا گیاکشمیریوں کو بے گھر کر دیا گیا انسانیت کا قتل، 100000کشمیریوں کو صرف اس لئے شہید کر دیا گیا کہ انہوں نے آزادی مانگی آزادی کا نعرہ لگایا، آزادی مانگنے پر30000سہاگنوں کا سہاگ اجاڑ دیا گیا، ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیری بچے کسمپرسی اور یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے،نہ جانے کتنی ہزاروں عورتیں قابض بھارتی فوجی درندوں کی ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں ، ان تمام مظالم کے پیچھے ہندووں کا صرف ایک ہی مقصد ہے کشمیری عوام کو ان کے آزادی کے مطاملبہ سے دستبردار کروانا ہے ، دنیا کی نام نہاد بھارتی جمہوریت کے دعوے ، بھارت کے ظلم و ستم پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں،ایمنسٹی انٹرنیٹنل Amnesty Internationalکی رپورٹ میں بھارت کے جمہوری ملک ہونے کے دعوے کو بری طرح بے نقاب کیا جا چکا ہے، بھارت سے ظلم و ستم بند کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کا بار بار مطالبہ کیا جا چکا ہے، کشمیر میں ہزاروں گمنام اجتماعی قبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے European Parliamentٌ Union از خود نوٹس بھی لے چکی ہے ، بھارت کو اس سنگین انسانی سانحہ کا دمہ دار ٹھہرایا گیا اور بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دے۔ انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت اپنی ازلی ہٹ دھرمی پر قائم ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کو امریکا،یورپ اور اسرائیل کی ہمدردیاں حاصل ہیں جس کی وجہ سے انڈیا ایک تاریخی غلطی پر اٹکا ہوا ہے،انڈیا کو جلد سے جلد فیصلہ کرنا ہو گا پوری دنیا جاگ اُٹھی ہے پاکستانی اور کشمیری یک جان ہو کر پوری دنیا میں منظم طریقہ سے کشمیر فری Kashmir Free کی ریلیاں نکال رہے ہیں سیمینار ہو رہے ہیں ایسے ہی سکھ عوام بھی جاگ اُٹھی ہے وہ بھی خالستان فریKhalistan Freeکی آواز بلند کر رہے ہیں ، آزادی کا بیج بویا جا چکا ہے آزادی کی ننھی سے کونپل کو شبنم نے دھلا دیا ہے، نسیم سحر کی ٹھنڈی ہواوں نے جھولا جھلا کر قد آور درخت بنا دیا ہے ، اب یہ کلی نہیں تن آور درخت بن چکاہے اب اس کو خاکستر نہیں کیا جا سکتا ، وہ لمحہ دور نہیں جب 20کروڑ پاکستانی بھارتی کنٹرول لائن کو دیوار برلن کی طرح گرا کر کشمیریوں کو آزادی دلوائیں گے۔یاد رہے بھارت بھول رہا ہے کہ اس نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370کے تحت مقبوضہ کشمیر کو خود مختاری اور سپیشل حقوق دے کر ثابت کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے !مقبوضہ جموں و کشمیر واحد ایک ایسی ریاست ہے جو بھارتی آئین کی بجائے اپنا االگ آئین اور الگ پرچم رکھتی ہے، یاد رہے اگر مقبوضہ کشمیر بھرت کا اٹوٹ انگ ہے تو بھارتی ریاستوں سے الگ جھنڈا اور سپیشل اسٹیٹس کیوں ہے۔مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔