دستک

atta_ur_rehman_ashraf

اے آر اشرف بیورو چیف جرمنی
۔اُمید کی ایک کرن۔
old is gold یہ ضرب المثل اگرچہ بہت وزنی اور مشہور ہے مگر اب شاید ہمارے ملک میں۔ا ولڈ از گولڈ۔کی اصطلاح ضیعف اورناکارہ ہو چکی ہے ۔ اب وطن عزیز میں نوجوان قیادت کا شاید انقلاب بھی آنے والا ہے ،نوجوانوں میں اسوقت مستقبل کے وزیراعظم کے منصب کا خواب دیکھنے والوں کی صف میں مخترمہ مریم نواز۔جناب بلاول بھٹو زرداری،جناب حمزہ شہباز، اور۔اولڈاز گولڈ۔مگر نوجوانوں کی ترجمانی کے دعو یدارجناب عمران خان کے نام شامل ہیں جبکہ۔اولڈ از گولڈ۔کی ترجمانی کیلئے تیس سالہ اقتدار کا تجربہ رکھنے والے خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تو پہلے ہی وزیراعظم کے منصب کیلئے اپنی نئی شیروانی سلوا نے کا آرڈر دے رکھا ہے ۔مگر بحث طلب بات یہ ہے کہ کیا مخترمہ مریم نواز،جناب حمزہ شہباز اور ان کے بزرگوار مقدمات کے جنجال سے نجات پاسکیں گے ؟تب ہی توجوانوں کی قیادت کیلئے مخترمہ مریم نواز یا حمزہ شہبازاور۔ اولڈ از گولڈ۔کی نمائندگی کاحق خادم اعلیٰ ادا کرپائیں گے ۔اب رہ گئے تحریک انصاف کے چیرمین جناب عمران خان نیازی۔جو ون ان ٹو۔یعنی۔اولڈ از گولڈ۔اور نوجوانوں دونوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں مگر پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں ایسے میں اُنکا اس دوڑ میں شامل ہونا مشکوک نظر آتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین جناب بلاول بھٹو زرداری ہی نوجوانوں کی قیادت کے سچے دعویدار اور اُمید کی کرن ثابت ہو سکتے ہیں ویسے بھی بقول شاعر ۔۔ میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو۔۔۔گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں۔۔۔ہمارے بزرگ دوست سید عباس اطہر مرحوم اکثر یہ جملہ کہا کرتے تھے کے۔شاعر بھی ایک طرح سے پیغمبرانہ سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔متذکرہ شعر بھی ملک کے حالات کے تناظرمیں ہی کہا گیا ہے۔ مرحوم شورش کاشمیری نے غالباََ اپنے وطن کے ابن الوقت حکمرانوں اور ایسے سیاست دانوں کے کردار ،وطن عزیز میں پکنے والی سیاسی کھچڑی اور اقتدار کے حصول کیلئے اخلاق سے گری حرکات کو دیکھ کر ہی بھانپ لیا تھا کہ ہمارے کچھ نام نہادر اہنما ۔اپنے ۔ گھرہی کے چراغ سے اپنے گھر کوآگ لگانے پر تُلے بیٹھے ہیں۔مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ۔افواج پاکستان۔اور قوم کا بچہ بچہ وطن عزیز کی ہر طرح سے حفاظت کیلئے پوری طرح تیار ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔لیکن یہ بھی حققت ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ کا ہر فرد اپنی ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے کسی کو ریاست ،عوام اوراُسکے اداروں کی مضبوطی کی بالکل فکر نہیں ہر سیاسی جماعت اور اُسکی قیادت کی منزل صرف اورصرف اقتدار پر قبضہ جمانا اور اپنے مخالفین کو رسوا کر کے انتقام لینے تک محدود ہے اوراسکے حصول کیلئے وہ ملک و قوم کو تاریکی کی دلدل میں جھوکنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔جب سے عدالت عُظمہ نے میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے وہ شہر شہر گلی گلی عوام سے یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ۔۔مجھے کیوں نکالا۔۔بھلا مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ بچاری عوام اس سوال کا کیا جواب دے جو حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے خود کُشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ تیس سال سے اقتدار پر قابض رہنے کے بعد بھی اگر عوام کی بوسیدگی اورآہ و پکار اُنہیں سُنائی نہیں دیتی تو پھر ۔۔خدا کی لاٹھی تو بے آواز ہوتی ہے۔۔اور اُسکے عدل و انصاف کا انداز بھی اپنا اور اٹل ہوتا ہے۔جب وہ اختساب کرتا ہے تو پھر ۔۔۔محمود و آیاز۔۔کوایک ہی صف میں کھڑا کرکے عدل کرتا ہے۔دوسری جانب نوجوان قیادت کے دعویدار جناب عمران خان اُسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیج رہے ہیں جسکا وہ خود بھی حصہ ہیں اور مسلسل اُسی ادا رے سے تنخواہ بھی وصول کررہے ہیں ۔کیا جناب عمران خان یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اسمبلیوں میں منتحب ہو کرآنے والے سب اراکین آئین کی آرٹیکل ۶۲ اور۶۳ کی شرط پر پورے اُترتے ہیں؟جب سا را معاشرہ ہی ایسی سرطان کی مرض میں مبتلا ہو اورچیک اور بیلنس کا نظام ہی فرسودہ ہوتو منتحب ہو کر اسمبلیوں میں آنے والے پھر فرشتے تو نہیں آئیں گے جب اُنہوں نے پہلی بار مینار پاکستان لاہور میں ایک جم غفیر سے خطاب کیا تھا تو عوام اُنکو شہید بھٹو کی طرح اپنا مسیحا تصور کرنے لگی تھی مگر آفسوس کہ وہ عوامی اُمیدوں کا تدارک کرنے میں ناکام رہے۔پاکستان کی تاریخ کا اگر غیر جانبدارنہ جائزہ لیا جائے تو یہ حققت ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں ہمیں ایک ایسی قیادت میسر آئی تھی جو دنیا کی شاطرانہ سازشوں کو سمجھ کران کومنہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے تھے مگر آفسوس کے ایک آمر نے امریکہ اور دوسری سامراجی قوتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بنکر اور اپنے عیبوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اُنہیں تختہ دار پر لٹکا دیا اور اپنے آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر کلاشنکوف اور دہشت گردی جیسے ختم نہ ہونے والے کلچر کو متعارف کرا کر خود تو عبرتناک حادثے کا شکار ہو کر راہی اجل ہو گئے مگر پاکستان اور پاکستانی قوم کو ایک ایسی عذاب کی آگ میں جھونک گئے۔اب بھٹو شہیدکانواسہ شہید جمہوریت مخترمہ بے نظیر کا لخت جگر ہی اُمید کی کرن ہیں جو اپنی ماں، نانا اور دکھی عوام کے خوابوں کی تکمیل میں مُثبت کردار ادا کر سکتے ہیں

Back to Conversion Tool